آئیبروفن اور رعشہ کی بیماری

 

درد دور کرنے والی مؤثر دوا آئیبروفن کے حوالے سے ایک تازہ ریسرچ شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق اس کے استعمال سے اعصابی بیماری پارکنسن سے امکانی طور پر بچا جا سکتا ہے۔ تازہ ریسرچ پر مزید تجربات جلد شروع کردیے جائیں گے۔

 

امریکہ کی ممتاز اور معروف ہارورڈ یونیورسٹی کے اسکول برائے پبلک ہیلتھ کے سینئر ریسرچر البرٹو ایسچیریو(Alberto Ascherio) کا کہنا ہے کہ سردست دنیا بھر میں اعصابی بیماری رعشہ کا کوئی شافی علاج موجود نہیں ہے۔ اس سے بچنے کا ایک چانس ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ عرصے کے لیے دور رکھا جائے اور رسک فیکٹر کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققق کے خیال میں انسانی جسم میں آئیبروفن کے استعمال کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کے بظاہر بہت ہی کم نقصانات ہیں اور یہ رعشہ کی بیماری کے رسک کو مؤخر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بیماری سے تقریباً ستائیس سے چالیس فیصد تک ایسے افراد بچ سکتے ہیں جو آئیبروفن کا ہفتہ میں دو سے تین بار تک استعمال کرتے ہیں۔

دماغی امراض کے کئی ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ آئیبروفن کے حوالے سے تازہ تحقیق کے تناظر میں رعشہ سے بچاؤ کے لیے اس کا استعمال فوری طور پر کرنا دانشمندی نہیں ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آئیبروفن کے زیادہ استعمال سے معدے میں زخم پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ان زخموں سے بعض اوقات خون بھی رسنے لگتا ہے جو شدید نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ آئیبروفن عام طور پر شدید درد کی صورت میں تجویز کی جاتی ہے۔امریکہ میں رعشہ کی بیماری کے ایک مریض کا اپریشن : فائل فوٹو

اس مناسبت سے ایک لاکھ پینتیس ہزار افراد پر ریسرچ کرنے کے بعد ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔ ان افراد میں خواتین اور حضرات دونوں شامل تھے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ رعشہ کسی دماغی خلیے کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور امکاناً آئیبروفن کا استعمال اس سوزش کے پیدا ہونے میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہو گا۔ طبی ماہرین پہلے سے یہ خیال رکھتے ہیں کہ درد رفع کرنے والی ادویات بعض امراض کے خلاف مدافعتی پہلو رکھتی ہیں لیکن ابھی تک ان بیماریوں کو تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایسی بیماریوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔

پارکنسن کا مرض یا رعشہ انسانی جسم میں کمزور اعصاب کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے قویٰ مضمحل ہونے کے ساتھ ان میں کپکپاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کے اندر کمزور اعصاب کی وجہ سے بدنی حرکات و سکنات بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔ زیادہ تر انسان اس مرض میں پچاس سال کی عمر کے بعد مبتلا ہوتے ہیں لیکن اب تازہ ریسرچ سے یہ معلوم کیا گیا ہے کہ اس مرض میں نوجوان بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ امریکی نژاد کینیڈین اداکار مائیکل فوکس کو رعشہ تیس سال کی عمر میں لاحق ہوگیا تھا۔

رعشہ سے متعلق آئیبروفن کے استعمال اور اس کی افادیت کے بارے میں یہ نئی معلومات امریکہ کے طبی سائنس کے تحقیقی جریدے نیورولوجی میں شائع کی گئی ہیں۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button