لارڈز ٹیسٹ:انگلینڈ کا حیرت انگیز کَم بیک

انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دِن غیرمتوقع کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 346 رنز بنا لئے ہیں اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔ انگلینڈ کی اس کارکردگی کو ایک غیرمعمولی کَم بیک قرار دیا جا رہا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی اس شاندار کارکردگی کا سہرا جوناتھن ٹروٹ اور سٹوارٹ براڈ کے سر ہے، حالانکہ قبل ازیں ایک وقت ان کی ٹیم 47 رنز پر ہی پانچ وکٹیں کھو چکی تھی۔ تاہم اس وقت ٹروٹ 149 جبکہ براڈ 125 پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
ان دونوں کھلاڑیوں نے 244 رنز کی ناقابل شکست شراکت سے کھیل کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ اس وقت اکٹھے ہوئے تھے، جب ان کی ٹیم نے 102 رنز بنائے تھے اور ان کے سات کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ ٹروٹ اور براڈ کی آٹھویں وکٹ کے لئے یہ شراکت پاکستان کے خلاف کسی ٹیسٹ میں ایک ریکارڈ ہے۔
جمعرات کو بارش کے باعث کھیل تیرھویں اوور کے دوران ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ انگلینڈ نے جمعہ کو کھیل 39 رنز سے دوبارہ شروع کیا۔ اس وقت ٹروٹ آٹھ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔ تاہم وہ وکٹ کے دوسری جانب تھے، جب محمد عامر نے پانچ گیندوں کے دوران انگلینڈ کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس وقت انگلش ٹیم کا مجموعی سکور 39 تھا۔ اس کے بعد لنچ تک انگلش بیٹسمینز کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ اس وقت پانچ وکٹوں کے نقصان پر وہ 97 رنز بنا چکے تھے تاہم عامر نے جلد ہی ان کی مزید دو وکٹیں گرا دیں۔
محمد عامر کی شاندار بولنگ سے پاکستان کو ایک اچھا آغاز ملا۔ عامر نے اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر بیٹسمینز کو ڈھیر کیا۔ انہوں نے 23 اوورز میں 73 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔ اٹھارہ سالہ محمد عامر کے کیریئر کا یہ 14واں ٹیسٹ میچ ہے اور وہ 50 ٹیسٹ وکٹس لینے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ لیکن دِن کے اختتام پر کھیل کا رُخ کچھ ایسا بدلا کہ عامر کی اس کارکردگی کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب لارڈز کے میدان پر ٹروڈ کی یہ دوسری سنچری ہے جبکہ 13 میچز پر مشتمل ٹیسٹ کیریئر کے لئے ان کی یہ تیسری سنچری ہے، جسے ماڈل آف ایپلیکیشن قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پوزیشن کے ساتھ انگلینڈ اس سیریز کو تین ایک سے جیتنے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو

urdusky
Comments (0)
Add Comment