’پٹیالہ ہاؤس‘:کرکٹ کے موضوع پر ایک اور بھارتی فلم

جہاں ایک طرف دنیا بھر کی کرکٹ ٹیمیں عالمی کپ کے حصول کی تیاریاں کر رہی ہیں، وہیں دنیائے کرکٹ کے چند نامور کھلاڑی ایک مختلف میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اور وہ ہے بالی وڈ کا فلمی میدان!

 

اب بھارتی فلموں کے شائقین بالی وڈ کی نئی ریلیز ہونے والی فلم ‘پٹیالہ ہاؤس‘ میں پاکستان کےسابق فاسٹ بالر وسیم اکرم، برطانوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں ناصر حسین اور گراہم گوچ، جنوبی افریقہ کے بلے باز ہرشل گبز اور آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز کو ایک ساتھ دیکھ سکیں گے۔

اس فلم کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، اکشے کمار اور اس بار وہ پردہء سمیں پر ہاتھوں میں بلاّ تھامے لندن میں رہائش پذیر ایک روایتی پنجابی گھر کے ایک ایسے بیٹے کے کردار میں نظر آئیں گے، جس کا اپنے والد کے ساتھ اختلاف ہے۔

اپنے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اکشے کمار نے بتایا کہ فلم میں ان کے کردار کا نام گٹّو ہے، جوکرکٹر بننا چاہتا ہے لیکن والد کی جانب سے اس خیال کی مخالفت کے باعث مشکل صورتحال میں گھِر جاتا ہے۔ گٹّو کے والد چاہتے ہیں کہ وہ ان کی دکان سنبھالے جبکہ اس کی خواہش ہے کہ وہ انگلینڈ کی جانب سے کرکٹ کھیلے۔

کچھ رپورٹوں کے مطابق اس فلم میں وسیم اکرم گّٹو کے بالنگ کوچ کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ اس فلم کے چند مناظر کی عکس بندی برطانیہ کے ٹیسٹ میدانوں کے علاوہ لندن کے معروف اوول اسٹیڈیم کے میدان میںبھیکی

گئی ہے

 

 

فلم کے ڈائریکٹر نکھل ایڈوانی کا کہنا ہے کہ چونکہ اس

 

فلم میں ایک کرکٹر کی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے، اس لیے فلم میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے کرکٹ کےکئی کھلاڑیوں کو اداکار کے طور پر لیا گیا ہے۔  فلم میں معروف ترین کھلاڑیوں کی شمولیت کے باوجود ایڈوانی نے اس بات پر اصرارکیا ہے کہ  فلم کی کہانی کا اصل موضوع کرکٹ نہیں بلکہ تارکین وطن کی زندگی کے علاوہ بزرگ اور نوجوان نسل کے درمیان حائل خلیج ہے۔ ان کے مطابق اس فلم میں تارکین وطن گھرانوں کے ایسے کئی نوجوانوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنے شوق اور کیریئر کو والدین کی خواہش پر قربان کر دیتے ہیں۔

یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت کی فلمی صنعت نے ملک کے سب سے مشہور کھیل کرکٹ پر فلم بنائی ہے۔ اس سے قبل 2001ء میں عامر خان کی فلم ’لگان‘ نے خاصی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ 2005ء میں ’اقبال‘ نام سے ایک فلم ریلیز کی گئی تھی، جو بھارت کے ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے، جو بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باوجود قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا چاہتا ہے

DWDبشکریہ

Comments (0)
Add Comment