لاری اڈہ

تحریر: منظور قادر کالرو
کاتب تقدیر نے صبح ہی صبح لاری اڈہ کے پُر دُھول جلوے لکھ دئیے ہیں تو اس میں بھی شاید میری کوئی مخفی بھلائی مقصود ہو گی ہاں البتہ میری طبیعت اُس وقت قمریوں کے گیت، بلبلوں کے نغموں،محوِرقص ڈالیوں اور شبنم میں نہائے پھولوں کو دیکھنے کی متمنی ہوتی ہے۔خدا گواہ ہے میں روزانہ نہا کر اور کپڑے بدل کر گھر سے نکلتا ہوں لیکن آئے دن میرے بڑے افسران مجھ سے شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ کبھی نہا بھی لیا کرو اور کپڑے بھی بدل لیا کرو۔میرا جی چاہتا ہے کہ میں گلے میں گٹار ڈال کر فوراَ  گنگنانے لگوں تیرے اور میرے گھر کے بیچ میں ہے لاری اڈہ، لاری اڈہ، لاری اڈہ لیکن وہ میرے تیور دیکھ کر میرے اظہار سے پہلے ہی موضوع ِسخن بدل لیتے ہیں۔لاری اڈہ کی دُھول دھوتے دھوتے اگرچہ صبح بیسن بھر دےتا ہوں لےکن گرد کی اتنی مقدار بالوں مےں جمع ہو جاتی ہے کہ جب بھی جھک کر کسی کاغذ پر غورکرنے لگوں یا بے خیالی میں ذرا سی بالوں میں کھجلی ہوجائے یہ مٹی ٹپ ٹپ گرنا شروع کر دیتی ہے۔ساتھی شفقت سے کہتے ہیں ماشاءاللہ آ پ کا سر بہت زرخیز ہے۔خدا بھلا کرے ہماری قوم کا جہاں اشتہار دیکھتے ہیں کہ’ یہاں پیشاب کرنا منع ہے‘ فطرت تعاون ہی اُسی جگہ کرتی ہے اسی طرح جہاں پڑھ لیں کہ یہ ہسپتال ہے یہاں پریشر ہارن بجانا منع ہے وہاں اتنی زور زور سے پریشر ہارن بجاتے ہیں کہ خون کی لگی ہوئی بوتلیں ہاتھ میں تھامے مرےض کا جی چاہتا ہے گھروں کو بھاگ جائےں۔اللہ زندگی کرے بسوں مےں مٹھائےاں اورٹکیاں بیچنے والوں کا وہ جلد ہی مریضوں کی کمی کو پورا کر لیتے ہیں اور ہسپتالوں کا دامن تازہ دم مریضوں سے بھر دیتے ہیں۔لاری اڈہ کے کھابوں پر جراثیم لاچے باندھے اور جراثیمنیاں لہنگا کڑتی پہنے رقص کر رہی ہوتی ہیں۔مچھر گلے میں گٹار ڈالے پاپ میوزک بجا رہے ہوتے ہیں اور مکھیاں گدھے ڈال رہی ہوتی ہیں۔بھلے زمانے کے ہارن بھی بھلے مانس تھے۔ پہلی دفعہ دبانے سے بھاں دوسری دفعہ دبانے سے بھوں کی آواز نکلتی تھی۔اس بھاں بھوں سے کانوں کو کھجلانے کی نوبت نہ آتی۔ہارن کو بجانے کے لئے ربڑ کے غبارے کو دبانے کی اتنی مشقت کرنا پڑتی جتنی کہ دودھ دوہنے کے لئے تھنوں پر کرنا پڑتی ہے،یا تو ڈرائیور کے ہاتھ کے مسلز اتنے مضبوط ہو جاتے کہ وہ تیسری یا چوتھی بار بجالیتا، کمزور مسلز والا دوبارہی دبا کر رُک جاتا تھا۔پریشر ہارن بنانے والے کے لئے کسی بری نیت کا اظہار اس لئے عبث ہے کہ وہ کسی خدائی کٹہرے میں کھڑا کچھ دوسری لغزشوں پر کانپ رہا ہوگا۔ ہمارے مدِ نظر اب اس کو بجانے والے ہیں۔ شہادت کی انگلی کے پورے کا معمولی دباﺅ بٹن پر پڑا نہیں کہ یہ ایسا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔پیں پیں پاں،ٹی رڑی رڑی رڑی،ٹر ٹر راﺅ، ٹرٹر راﺅ۔رہی سہی کسر ان گاڑیوں میں چلنے والی جدید موسیقی پوری کر دیتی ہے۔ایک ایک گاڑی کے ساتھ سات سات ہاکر دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ان کے قد چھوٹے اور گلے بڑے ہوتے ہیں۔ہر راہ گیر اس مشتعل ہجوم کو دیکھ کر پہلے سے ہی لرزنے لگتا ہے لیکن کوئی راہ گیر تفتیش کے مراحل سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بعض اوقات تو خدا رسول کی قسمیں کھانے کے بعد گلو خلاصی ہوتی ہے۔اگر کوئی لاہور جانے والا بدنصیب خاندان ایسی ہی دو بسوں کے عملے کے درمیان پھنس جائے تو چند منٹوں میں اس کی ہر چیز کا بٹوارہ ہو جاتا ہے۔ ایک کے حصے میں بچہ آتا ہے تو دوسرے کے حصے میں گٹھڑی ۔ تیسرے کے حصے میں بیوی آتی ہے تو چوتھے کے حصے میں میاں۔جب اس چھینا چھپٹی کے بعد مطلع صاف ہوتا ہے تو چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔خاندان اکٹھا ہونا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی بس والا اپنے حصے کے بٹوارے سے ہاتھ کھینچنے پر تیار نہیں ہوتا۔ ان کی آہ وبکا اور دعاﺅں کے نتیجے میں شاید خدائی خفیہ مخلوق ہی انہیں یکجا کر جاتی ہے ورنہ یہ مخلوق انہیں کرایہ وصول کئے بغیر ہرگز یکجا نہ ہونے دے۔اللہ بھلا کرے ٹریفک پولیس والوں کااور انتظام کرے خفیہ خزانوں سے ان کے خاندان اور نکے افسروں کے خاندان کے وافر رزق کا۔ان کا سارا رعب و جلال اور اقتدار، ان کی آواز کی گھن گرج اور کرختگی، ان کی آنکھوں کی لالی اور مزاج کی برہمگی نہ جانے کہاں چلی جاتی ہے جب لاہور جانے والی بڑی بڑی گاڑیاں سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ٹریفک جام کر دیتی ہیں۔ ان کے ڈرائیور سگریٹ کے دھوئیں میں مست مست کی کیسٹ ڈالے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور ٹریفک والے بار بار ان کو اس انداز سے کہتے ہے کہ ذرا مہربانی فرمائیے کہ مبادا ان کی طبیعت پر کوئی گرانی نہ پڑے، اگر تو ان کا پیٹ بھر جائے تو ڈکار داغتے ہیں اور خراماں خراماں بقیہ ٹریفک کے لئے راستہ کھول دیتے ہیں ورنہ رکشاﺅں ،تانگوں،کاروں،سکوٹروں اور ویگنوں کے ڈرائیوروں کے منہ سے نکلنے والے شعلے ان کی طبیعت پر کچھ گرانی پیدا نہیں کرتے۔اگر کبھی ابرِ رحمت کو ترس آ جائے کہ اس سے زیادہ دہ کے مریضوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے ،اب اس فضا کو دُھو ڈالنا چاہیے تو گارے کی دلدل سے بچنے کے لئے لاریاں ویگنوں سڑک کے دورورا قطار اندر قطار کھڑی ہوجاتی ہیں ایسے میں اگر کسی کار یا سکوٹر والے کا گزر لاری اڈہ سے ہو اور وہ بحفاظت نکل کر گھر پہنچ جائے تو جاتے ہی گھر پہنچنے کی خوشی میں بچوں میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور رات گئے تک اپنی سلامتی اور بہادری کے قصے سناتے رہتے ہیں۔یوں تو مہنگائی کا اژدہا بازار جاتے ہی جیب کو ہڑپ کر لےتا ہے بفرضِ محال کسی مسافر کی جیب مےں چند نوٹ بچ ہی جائےں ےا اےک شہر سے دوسرے شہر کو جاتے ہوئے آپ نے اپنے زادِ راہ کے لئے چند نوٹ رکھے ہوئے ہوں تو یہاں پر آپ کی جیب پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک فوج ظفر موج کھڑی ہوگی۔ جیب کتروں سے بچیں گے تو ٹکیاں بیچنے والے کی زد میں ، اس سے بچیں گے تو پھکی بیچنے والوں کی زد میں ، اس سے دامن بچائیں گے تو سرمہ بیچنے والوں کی زد میں اور اگر بفرضِ محال اس سے بھی بچ گئے تو فقیروں کے نرغے سے بچ نکلنا محال اگر ان سب کے باوجود آپ کی جیب سلامت ہے تو آپ کا رزق حلال ہے اِسے مزید کسی کسوٹی سے گزارنے کہ ہرگز ضرورت نہیں۔

اللہبچوںچاہتحالزندگیماںنظر
Comments (0)
Add Comment