ڈھانچہ انسانی

ڈھانچہ انسانی

انسانی ڈھانچہ، تصویر آگے سے۔

انسانی ڈھانچہ تصویر پیچھے سے۔

‘‘‘انسانی ڈھانچہ‘‘‘ انسانی جسم اندرونی طور پر مربوط طریقے سے ہڈیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ ہڈیوں کے اس مربوط جوڑ کو ڈھانچہ کہتے ہیں۔ ڈھانچے کی امداد سے جسم انسانی کے دوسرے حصے یعنی گوشت و دیگر اعضاء اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہتے ہیں اور مطلوبہ افعال سر انجام دیتے ہیں۔

کھوپڑی، سر اور چہرہ

کھوپڑی اور سر

جسم میں سب سے اوپر سر یا کھوپڑی ہوتی ہے۔کھوپڑی کی ہڈیوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک وہ جسے کاسئہ سر یا پیالہ کہتے ہیں۔ ان میں دماغ ہوتا ہے۔ اور دوسری چہرے کی ہڈیاں ہیں۔ کھوپڑی کے بالائی حصہ میں دماغ کھوپڑی کے حصے کاسئہ سر میں دھرا ہوتا ہے جہاں یہ ہڈیوں کے جال میں پوری طرح محفوظ رہتا ہے۔ کاسئہ سر آٹھ غیر متحرک ہڈیوں سے بنا ہوتا ہے جو کہ دماغ کی حفاظت میں نہایت مدد دیتے ہیں۔===چہرہ=== کھوپڑی کا زیریں حصہ جو چہرہ ہے چودہ ہڈیوں سے بنا ہوتا ہے۔ ان میں سے نیچے والے جبڑے کے علاوہ باقی سب غیر متحرک ہیں۔ کاسئہ سر اور چہرے کی ہڈیوں کے مقام اشتراک پر آنکھوں اور ناک کے سوراخ واقع ہیں۔ تالو منہ کے سوراخ کی چھت بناتا ہوا اسے ناک کے سوراخ سے جدا کرتا ہے۔

دھڑ

دھڑ کی شکل کچھ اس طرح ہے کہ اس کی پچھلی جانب ریڑھ کی ہڈی، ارد گرد پسلیاں اور سامنے کی جانب سینے کی ہڈی اور نیچے ریڑھ کی ہڈی کے آخر پر پیٹرو کی ہڈی ہوتی ہے۔ دھڑ کے اندر ہڈیوں کے درمیان خالی جگی کو پردہ شکم دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اوپر کی جانب سینے میں خالی جگہ دل اور پھیپھڑوں نے گھیر رکھی ہے جبکہ نچلی جانب معدہ، جگر، لبلبہ، گردے چھوٹی اور بڑی آنتیں اور اعضائے تناسل واقع ہوتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی

انسانی پشت پر واقع آپس میں جڑی 33 ہڈیوں کا سلسلہ۔ یہ ہڈیاں جڑی ہونے کے باوجود لچک رکھتی ہیں۔ انہیں مہرے کہتے ہیں۔ ان کے بیچوں بیچ ایک سوراخ ہے جس میں حرام مغز(spinal cord) کی رسی سی واقع ہے۔ ان مہروں کے مندرجہ ذیل گروہ ہیں۔

1۔ گردن کے سات مہروں میں سے پہلے کا جوڑ کھوپڑی کے پیندے کے ساتھ ہے جوسر کو جنبش دینے میں مدد دیتا ہے۔ اور دوسرا سر کو دائیں بائیں حرکت میں مدد دیتا ہے۔

2۔ 12 مہروں کے ساتھ پسلیوں کے جوڑ ہیں۔

3۔ کمر میں پانچ مہرے آتے ہیں۔

4۔ کمر کے نیچے دو بے نام ہڈیوں کے درمیان 5 مہرے جو بالغوں میں مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی کے سب سے نیچے کی مثلث کی ہڈی میں آپس میں ملے ہوئے چار مہرے۔

ان مہروں کے پہلے تین طبقات میں مہروں کے درمیان نرم ہڈیاں ہوتی ہیں۔ جو اچانک جھٹکے سے بچائو کرتی ہیں۔

سینے کی ہڈی(سٹرنم) اور پسلیاں

سینے کے درمیان کی چپٹی اور پتلی ہڈی جو 6 انچ لمبی ہے سینے کی ہڈی یا سٹرنم کہلاتی ہے۔ اس ہڈی کے سامنے کی جانب اوپر کی طرف ہنسلی کی دو ہڈیاں جڑی بوئی ہوتی ہیں۔ اور نیچے کی جانب پسلیوں کے سات جوڑے اوپر تلے واقع ہوتے ہیں۔ ان سات جوڑوں کو حقیقی پسلیاں کہتے ہیں۔ اور ان سے نیچے والے پانچ جوڑوں کو نقلی پسلیاں کہا جاتا ہے۔ ان پانچ میں سے تین اوپر والے جوڑوں کے ساتھ کرکری ہڈی کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ سب سے نچلی پسلیوں کے دو جوڑے سامنے کی جانب آپس میں ملے نہیں ہوتے۔ پسلیاں سینے کو ارد گرد سے لپٹنے ہوئے ہیں۔ اس طرح دل، پھیپھڑے، جگر اور معدہ وغیرہ قدرتی طور پر محفوظ رہتے ہیں۔

ہنسلی کی ہڈیاں

گردن کے سامنے کی جانب سینہ کی ہڈی کے ساتھ اور جڑی ہوئی دونوں جانب واقع کم موٹی ہڈیاں جو شانے(shoulder bones) کی ہڈیوں کے ساتھ جا ملتی ہیں۔

شانہ کی ہڈیاں

یہ ہڈیاں سینے کے دونوں اطراف اوپر اور باہر کی جانب واقع ہوتی ہیں۔ اور ہنسلی کی ہڈیوں اور بازو کی ہڈیوں کے ساتھ ان کے جوڑ ہوتے ہیں۔

بازو کی ہڈیاں

کندھے کی ہڈیوں سے لیکر کہنیوں تک جانے والی ہڈیاں

کہنی سے کلائی تک کی ہڈیاں

بازو کی اس حصہ میں دو ہڈیاں ایک دوسرے سے الگ نیچے کی جانب جاتی ہیں۔ ایک انگوٹھے کی جانب یعنی باہر کی جانب چلی جاتی ہے۔ اسے ریڈفیس کہا جاتا ہے۔ اور ایک چھنگلیا کی جانب چلی جاتی ہے اسے النا کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہڈیاں کلائی کے مقام پر ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں۔

ہاتھ

1۔ کلائی کی ہڈیاں 8 ہوتی ہیں جو 4،4 کی دو قطاروں کی صورت میں منظم ہیں

2۔ ہتھیلی میں 5 ہڈیاں ہوتی ہیں جو انگلیوں کے ساتھ جوڑوں کے ذریعے ملی ہوتی ہیں اور انگلیوں کو سہارا دیتی ہیں۔

3۔ انگلیوں میں سے ہر انگلی میں تین ہڈیاں اور انگوٹھے میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں اسطرح کل ملا کر 14 ہڈیاں ہوتی ہیں۔

پیٹرو کا حلقہ

چلمچی کی شکل کی ہڈی جو ریڑھ کی ہڈی کے نیچے کی جانب جڑی ہوئی ہے ، اسے پیٹرو کا حلقہ کہا جاتا ہے۔ یہ چار ہڈیوں سے بنتی ہے یعنی دو کولہے کی ہڈیاں اطراف اور سامنے کی جانب اور کوککس اور سیکرم] ہڈیاں پیچھے کی جانب۔ پیٹرو کا حلقہ پیٹ اور اس کے مشتملات کا سہارا ہے اور کولہے کے جوڑوں کے لیے جگہ مہیا کرتا ہے۔ کولہے کہ چوٹ بہت خطر ناک ہوتی ہے۔

کولہے کی ہڈیاں

کولہے کی ہڈیاں کسی ہڈی سے مشابہت نہیں رکھتیں اور بے قاعدہ انداز سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کا نام بھی کوئی نہیں ہوتا۔

ران کی ہڈیاں

یہ کولہے کے جوڑ سے نیچے گھٹنے کے جوڑ تک دونوں جانب واقع ہوتی ہیں۔ یہ گول مضبوط اور سامنے کی جانب خم کھائے ہوئے ہوتی ہیں اور گھٹنے کی چپنی کے ساتھ جوڑ کے ذریعے ملا ہوتا ہے۔

گھٹنے کی چپنی

یہ ایک چپٹی یا مثلث (TRIANGLE) نما ہڈی ہوتی ہے جس کا پیندا سامنے کی جانب گھٹنے کے جوڑ کے سامنے اور کھال کے کچھ نیچے واقع ہوتا ہے۔

ٹانگ کی ہڈیاں

کہنی سے کلائی تک جیسے ہر بازو میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں اسی طرح گھٹنے سے ٹخنے تک ہر ٹانگ میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ یعنی شن ہڈی (طبیا) اور بروش ہڈی ([[فیبولا])۔ شن ہڈی گھٹنے سے ٹخنے تک سامنے کی جان ہوتی ہے اور اسکا جوڑ گھٹنے میں نہیں ہوتا لیکن اسکا نیچے والا سرا ٹخنے کے جوڑ کے باہر والا حصہ بناتا ہے۔

پائوں

ٹارسس

پائوں کا سات بے قاعدہ ہڈیوں کا بنا ہوا حصہ جو پائوں کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایڑی کی ہڈی سب سے بڑی ہوتی ہے۔ اور اس کی سب سے اوپر والی ہڈی ٹخنے کے جوڑ کا نیچے والا حصہ بنتا ہے۔

] میٹا ٹارسس

ٹارسس کے سامنے کی جانب پانچ لمبی ہڈیاں جو پاوں کو انگلیوں کو سہارا دیتی ہیں۔

پاوں کی انگلیوں کی ہڈیاں

پاوں کے انگوٹھے میں دو ہڈیاں باقی تمام انگلیوں میں تین تین ہڈیاں ہوتی ہیں۔ یعنی اس طرح کل ملا کر ہڈیاں چودہ ہیں۔

جوڑ اور ہڈیوں کو جوڑنے والے ریشے

جوڑ وہ جگہیں ہیں جہاں دو ہڈیاں آپس میں مل جاتی ہیں۔ وہ ہڈیاں جو حفاظتی نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے کاسئہ سر، ان کے جوڑ میں لچک نہیں ہوتی۔ جن جوڑوں میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے ان کے ارد گرد ہڈیوں کو جوڑنے والے ریشے یعنی لگامنٹس(ligaments) لپٹے ہوتے ہیں۔ اور جڑی ہوئی ہڈیوں کے سروں پر کرکری ہڈیاں ہوتی ہیں۔ ان کرکری ہڈیوں کے ارد گرد ایک سفید جھلی(white membrane) ہوتی ہے جس میں سے انڈے کی سفیدی کی طرح کی رطوبت خارج ہوتی ہے اور یہ رطوبت ہڈیوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتی ہے اور حرکت دینے میں تیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب جوڑوں کے ارد گرد کے ریشے کسی وجہی سے پھیل جائیں یا ٹوٹ جائیں تو وہ ہڈی کو اس کی اصلی جگہ پر نہیں رکھ سکتے اور اسے موچ یا ہڈی کا نکل جانا یا اتر جانا کہتے ہیں۔

جوڑوں کی اقسام

گول اور خانہ نما جوڑ

گول اور خانہ نما جوڑ ایسے جوڑ ہوتے ہیں جس میں ہڈی کا گول سر پیالہ نما سوراخ میں نصب ہوتا ہے جیسے کہ کندھے اور کولہے کے جوڑ۔ حرکت کی زیادتی کی وجہ سے اکثر یہ ہڈیاں نکل جاتی ہیں

قبضہ نما جوڑ

قبضہ نما جوڑ ایسے جوڑ کو کہتے ہیں جن میں ہڈیوں کی سطح خم کھا کر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملی ہوتی ہے کہ صرف سیدھا کھڑا ہوا جاسکے یا کسی ایک جانب جھکا جاسکے۔ کہنیاں ، گھٹنا اور ٹخنے اس کی مثال ہیں۔
بشکریہ وکیپیڈیا

صرفصلاحیت
زمرے کے بغیر
Comments (0)
Add Comment