<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>UrduSky,SEO,Urdu NEWS,Best Poetry,SEO Training Urdu,News,اردوشاعری،ناول،ادب،اخبار،نیوز,Beauty Tips,Urdu Kahani,News Urdu,Language,Top 40,Shayari,Urdu phrases,tom and jerry,Urdu cartoon, اردو زبان, اردو ترجمہ،اردو لغت،کہانی،اردوسکائی,Pakistan News,Horoscope,Quran,Books, Jokes, Newspapers,Downloads,Hades, Islamic Names,Astrology,Digest,Ghazals,Cooking Recipes,Sahih Bukhari,Websites,Urdu translation, Stars,Fonts,Naat,Urdu Magazine,Health tips, Sports,Palmistry,InPage,Tafseer,Stories,kahaniyan, Poems,seo training urdu,Articles... Lots of Urdu-Stuff. &#187; پراسرارعلوم | mystery</title>
	<atom:link href="http://www.urdusky.com/category/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdusky.com</link>
	<description>World&#039;s Leading &#38; largest Urdu Portal اردو اخبار،نیوز،میگزین,Urdu News,Urdu Poetry شاعری,SEO in Urdu,kahani کہانی,Novels,Dictionary,SEO Training in Urdu etc.</description>
	<lastBuildDate>Fri, 18 May 2012 13:25:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.2</generator>
		<item>
		<title>مراقبہ اور لذت آشنائی</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 19 Apr 2012 18:03:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کے عملی طریقے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=625</guid>
		<description><![CDATA[مراقبہ اور لذت آشنائی عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھاہ گہرائیوں میں جا... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/' addthis:title='مراقبہ اور لذت آشنائی '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align:center;color:blue;direction:rtl;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:30px;"> مراقبہ اور لذت آشنائی</span></span></strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkgreen;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے<br />
مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے</strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkgreen;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (51:21)<br />
اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ (51:21)<br />
As also in your own selves: Will ye not then see?‎ (51:21)<br />
</strong></p>
<div id="attachment_251" class="wp-caption alignleft" style="width: 123px"><strong><strong><strong><strong><img class="size-full wp-image-251" title="Muhammad Altaf Gohar" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/10/muhammad-altaf-gohar1.gif" alt="Muhammad Altaf Gohar" width="113" height="126" /></strong></strong></strong></strong><p class="wp-caption-text">محمدالطاف گوہر</p></div>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;color:darkred;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"><strong><strong>آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس کے دور میں تجربات سے یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ انسانی توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔</strong></strong></span></span></p>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong><strong><strong><strong>تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر</strong></strong></strong></strong></span></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;">مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے ، مراقبہ  اپنے ذہن کی نفی کا نام ہے کہ<br />
جب انسان اپنے ذہن اور علم کی نفی کرتا ہے، لا-کہتا ہے  تو اسکی توجہ اپنی میں ,خودی  سے ہمکنار ہوتی ہے؛  جبکہ میں اور شعوریت کے احساس کی نفی پر اسکی توجہ اپنے معبود کیطرف جاتی ہے اسطرح اپنی ذات سے آگاہی اور رب کی پہچان کیطرف گامزن ہوتی ہے۔آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس  کے دور میں تجربات سے  یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی  توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ  انسانی  توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔<br />
مراقبہ  ، جس کی انگریزی عام طور پر meditation کی جاتی ہے اور اگر اسی متبادل کو ہم پلہ برائے لفظِ مروجہ عربی ، فارسی اور اردو تسلیم کر لیا جائے تو پھر مراقبہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ؛ مراقبہ ایک ایسی عقلی تادیب (discipline) کا نام ہے کہ جس میں کوئی شخصیت ماحول کے روابطِ حیات سے ماوراء ہو کر افکارِ عمیق کی حالت میں چلی جائے اور اندیشہ ہائے دوئی سے الگ ہوکر سکون و فہم (awareness) کی جستجو کرے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکرِ آلودہ سے دور ہوکر فکرِ خالص کا حصول مراقبہ کہلاتا ہے۔<br />
اصطلاح میں مراقبہ، عربی لفظ رقب کی اصل الکلمہ سے مشتق لفظ ہے جس کے معنی بنیادی طور پر دیکھنے، توجہ دینے وغیرہ کے آتے ہیں اور اسی سے اردو میں راقب اور رقیب کے الفاظ بھی ماخوذ کیۓ جاتے ہیں۔ مراقبہ کا لفظ اس اصل الکلمہ کے اعتبار سے اپنے ذہن کی گہرائیوں میں دیکھنے یا اپنی عقل کو دیکھنے کے قابل بنانے کے تصور میں لیا جاسکتا ہے۔<br />
<strong>وضاحت</strong><br />
مراقبہ انسان کا اپنی حقیقی خودی ( Self-[میں]-ذات) کی طرف ایک گہرا سفر ہے جس میں ایک انسان اپنے اندر (باطن) میں اپنا اصلی گھر تلاش کر لیتا ہے آپ چاہے کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ ۔ کسی بھی مذہب اور روحانی سلسلہ سے منسلک ہوں مراقبہ سب کے لئے ایک جیسا عمل ہے مراقبہ آپکی توجہ ،آپکے باطن کی طرف لے جانے کا موجب بنتا ہے آپ کا ذہن اس طرح سے سکون پہ مقیم ہو جاتا ہے اس طرح آپکی توجہ بھٹکے ہو ئے شعور کی حدود سے نکل کر حقیقی مرکز سے مربوط ہو جاتی ہے ۔مراقبہ ذہن کی وہ طاقت ہے جو اسکو نورانی پہلو کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ باندھ دیتی ہے اس پہلو سے ذہن زندگی کا اعلی مقصد آشکار ہوتا ہے مراقبہ کو آپ &#8221; نورانی علم &#8221; سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ یہ نور کے چشمہ سے کام کرتا ہے ۔حقیقی مراقبہ کا راز صرف ذہنی تصور کے ساتھ منسلک ہے جو اسکی ابتدائی اور انتہائی سطحوں پر کام کر تا ہے ۔ مراقبہ علم کی وہ قسم ہے جو آپکی شخصیت ،روح اور ذات کو آپس میں یکجا کر دے اور سب کو ایک نقطہ سے مربوط کر کے کثرت و دوئی سے آزادی کا احساس پیدا کر دے ۔ مراقبہ ایک علمی تجربہ ہے جو ذہنی کشمکش سے خالی پن اور ظاہر ی زندگی کے مستقل نہ ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔مراقبہ ایک عملی نمونہ ہے زندگی کو قریب سے دیکھنے پر اسکے ظاہری نا پائداری کے احساس کا۔ مراقبہ کو آپ ایک ذہنی ورزش کا نام دے سکتے ہیں ۔جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں ۔جتنا زیادہ اس عمل کو کیا جائے اتنی زیادہ اس میں مہارت حاصل ہو گی ۔یہ اس طرح کا عمل ہے جیسے ایک باڈی بلڈر یا پہلوان جسمانی ورزش کے باعث مضبوط و خوبصورت بناتا ہے۔ مراقبہ کرنے کی عادت سے باطنی اعضاء کی ورزش ہوتی ہے اور وہ قابل استعمال ہو جاتے ہیں۔<br />
<strong>مراقبہ کا عمل اور تاریخ انسانی</strong><br />
اس زمین پر ظہور انسانی سے ہر دور کے لوگوں کا چند ایک سوالات سے واسطہ پڑتا رہا ہے جیسا کہ اس کائنات کا بنانے والا کون ہے ۔؟زمین پر زندگی کا آغاز کسیے ہوا ۔؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔؟ہم کیوں پیدا ہوئے اور کیوں مر جاتے ہیں۔؟آیا ان سب معا ملات کے پس پردہ کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے یا پھر سارا عمل خود بخود ہو رہا ہے ۔ہر دور کے لوگوں میں کائنات کے خالق کو جاننے کا جوش خروش پایا جاتا ہے (یہاں ایک اصول واضح کرتا چلو کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے جانچے ۔ یعنی تمام امکانات کا جائزہ لے) ا کثر اوقات دیانتداری سے مسئلہ کو حل کرنے کی کاوش خودبخود ہی مسئلہ کو آسان بنا دیتی ہے ۔لہذا انہی خطوط پر چلتے ہوئے لوگوں میں معاملات زندگی کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے ۔یہ جاننے کیلئے کہ اس کائنات کا خالق کو ن ہے ۔لوگوں نے اس کائنات (آفاق)کی تخلق سے متعلق تخلیق کرنا شروع کر دی۔ کائنات کے راز کو جاننے کیلئے مختلف روش اختیار کی گیں.<br />
لوگوں کے ایک گروہ نے بجائے اس کے کہ زندگی کی حقانیت کو آفاق میں تلاش کیا جائے خود انہوں نے ایک دوسری روش اختیار کی۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ ا گراس ظاہری کائنات کا کوئی خا لق ہے تو انکے وجود (جسم )کا بھی کوئی خالق ہو گا ؟ لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے ۔ اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د ( نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی۔ اس طرح انہوں نے آفاق سے ہٹ کہ مطالعہ نفس میں دلچسپی لی اور اپنی ذات پہ تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تا کہ اپنے اندر کے رازِ حقیقت کو سمجھا جائے اس طرح سے علم نورانی مذاہب کے سلسلے نے وجود پکڑا یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ تمام تجربات انسان کے اپنے (Software ) یعنی ذہن (MIND (پہ کئے گئے نہ کہ جسم پہ)۔<br />
لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہیں ، انہوں نے اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د (نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی اب ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے نفس کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا اور اپنے جسم و ذات پر یہ تحقیق شروع کر دی اور انہوں نے اپنی توجہ اپنے ا ند ر مرکوز کر دی جسکے نتیجہ میں نفوذ کرنے کے بہت سے طریقہ کار دریافت کیے تا کہ ا پنے اندر کا سفر کرکے اس اکائی (جز)کو تلاش کیا جا سکے جو کے انکو اس کائناتی حقیقت سے مربوط کرتا ہے ۔اس کوشش نے علم نورانی (علم مراقبہ) کے عمل کو تقویت دی ۔تمام طریقہ کار جو کہ مختلف طرح سے مراقبہ کے عمل میں نظر آتے ہیں وجود پائے۔ جس کا عمل دخل کم و بیش ہر مذہب کی اساس معلوم ہوتا ہے۔ آ ج مراقبہ کے عمل میں جو جدت اور انواع و اقسام کے طریقہ کار نظر آتے ہیں انہی لوگوں کے مرہون منت ہے جنہوں نے اپنے نفس کو تحقیق کیلئے چنا۔ ان تحقیقات اور مراقبہ کی مختلف حالتوں میں لوگوں نے محسوس کیا کہ اس سارے نظام عالم وجود میں شعوری توانائی کا نفوذ اور منسلکہ رشتہ ہے ۔مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود یعنی خودی ( میں،SELF)سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی (Supreme Consciousness) ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے۔ (یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ اس درجہ کے احساس خود شناسی پہ وحدت الوجود کا مغالطہ نہ ہو، اگلی کسی تحریر میں اس فلسفہ بھی بیان کردوں گا ) ۔ مراقبہ ایک عمل ہے جو اپنی گہری حالتوں میں کسی بھی شخص کیلئے وجود حقیقی سے روابط کا ذریعہ بنتا ہے.<br />
<strong>علم نورانی (مراقبہ)</strong><br />
مدتوں سے لوگ مراقبہ کو ایک انتہائی پرا سرار اور مشکل موضوع سمجھتے رہے ہیں ہمیشہ بڑے بوڑھے اور فار غ لوگوں کو اس کا حقدار سمجھا جاتا رہا ہے۔مراقبہ پر پوری دنیا میں سائنسی طریقہ کار کے تحت تجربات کر کے اخذ کر لیا ہے کہ اس عمل سے انسانی ذہن اور جسم پر انتہائی اعلی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں جس میں تعلیم و عمر کی کوئی قید نہیں اب کوئی بوڑھا ہو یا جوان سب ہی مراقبہ کی کرنے مے دلچسپی رکھتے ہیں مزید برآں اب تو سکول و کالج میں مراقبہ کی تعلیم کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے کم و بیش پوری دنیا میں مراقبہ کی تربیتی کلاسز کا اجراء ہو چکا ہے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور صحتی ادارے اپنے مریضوں کو روزانہ مراقبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مراقبہ جو کہ پہلے وقتوں میں صرف مذہب کا حصہ سمجھا جاتا تھا اب دنیاوی پیش قدمی کے علاوہ روز مرہ مسائل کے حل کے لئے بھی مرکزی حےثےت اختیار کر گیا ہے آج پوری دنیا میں ذہنی دباﺅ کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو آج کے وقت میں انتہائی میسر آلہ قرار دے دیا گیا ہے جوں جوں معاشرہ میں اسکی آگاہی بڑھتی جا رہی ہے نتیجہ میں انسانی بھائی چارہ اور عالمی اتحاد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب زیادہ لوگ مراقبہ کی بدولت ذاتی شناسائی حاصل کرتے جائیں گے انکو کائنات کی سچائی اور اصلیت کا قرب حاصل ہو گا اور نتیجہ عالمی بھائی چارہ وجود میں آئے گا۔<br />
<strong>عبادت اور مراقبہ میں فرق</strong><br />
عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی ا تھا ہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے اور کائنات کی حقیقت سے نا صرف سنا شا ہوا جاتا ہے بلکہ مشاہدہ ء قدرت بھی کیا جاتا ہے۔ مراقبہ کا نصب العین (مقصد)صرف اور صرف آپ کے جسم، جذبات ،اور ذہن کو یکجا کرنا ہے اور اس اعلی درجے کی یکسوئی کا مقصد صرف اپنے باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہے یہیں سے کشف و وجدان کے دھارے پھوٹتے ہیں ۔ اسطرح ایک انسان کا رابطہ کائنات کی اصل سے جڑ جاتا ہے اور علم و عر فان کے چشمے پھو ٹ پڑ تے ہیں ۔ کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اور انسان پستی کے گرداب سے نکل کر ہستی کے نئے میدان میں آ جاتا ہے جہاں ہر طرف بہار ہی بہار ہے ۔بہار بھی ایسی کہ خزاں نہیں ہوتی اور سوچ انسانی آسمان کی بلندی کو چھوتی ہے اور لذت بھی ایسی<br />
ع کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے<br />
یہی زندگی کا موسم بہار ہے جسکے آ جانے کے بعد ہر طرف کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور انسانی سوچ کا سفر ایک نئی سمت گامزن ہو جاتا ہے۔ جسکے سامنے ایک وسیع و اریض میدان عمل ہے اور یہاں کی سلطنت میں صرف آج کی حکمرانی جبکہ گذشتہ کل کی کسی تلخی کا دکھ نہیں اور آنے والے کل کی خوشیوں کا دور دورہ ہے۔یہاں لذت و سرور کا وہ سماں ہے جو کہ دنیا کے کسی نشے میں نہیں ۔ اور خواب حقیقت کے روپ میں بدل جاتے ہیں جبکہ زندگی سوچوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں دھکے کھانے کے بجائے روشن اور وسیع میدانوں میں سفر کرتی ہے۔اب اسکا سفر کوئی سڑاند والا جوہڑ نہیں کہ جس میں وہ غوطے کھائے بلکہ ایک بحربیکراں جسکے سفینے صرف کامیابی ،خشحالی اور سکون کی منزل تک لے جاتے ہیں۔<br />
<strong>نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) اور مراقبہ</strong><br />
درحقیقت آپ صرف ایک احساس خودی (Self) ہیں۔ اور یہ حس آگاہی ہے نہ کے آپکا ذہن، جسم یا پھر خیالات بلکہ اس مکمل شعوریت (خودآگاہی) ہیں جوکہ محسوس کرتی ہے۔ اور شاہد بنی ہوئی ہیں کہ آپ زندگی میں کیا رول ادا کر رہے ہیں۔ یہ احساس خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والا ،از سرنو زندگی بخشنے والا ہے۔ مراقبہ ایک خودی (Self )کو اپنے اندر جاننے کا عمل ہے۔ اس موقع پہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد یہ کس طرح جان سکتا ہے کہ اس کے اندر خودی (Self ) موجود ہے جوان تمام واقعات و حالات کا مشاہدہ کر رہی ہے جو ہمارا ذہن یا جسم اس زندگی میں کر رہا ہے۔ یہ بات یہاں تک واضح ہوگئی کہ مراقبہ ایک ایسا عمل ہے۔ جو ہمیں اپنے اندر موجود خودی (Self) سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والی اور از سرنو زندگی بخشنے والی ہے۔ لہٰذا ہم چاہیں گئے کہ مراقبہ کو سمجھنے کیلئے ہم سب سے پہلے اپنے اندر موجود خودی (Self) کو جانیں۔آپ اس خودی کو اور بھی نام دے سکتے ہیں۔ مثلاً، نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) وغیرہ آئیے اب ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں جو انتہائی دلچسپی کا حامل ہے اور آپ کے لئے اس (میں ) سے شناسا ئی کا ذریعہ بنے گا۔<br />
<strong>میں(Self) کا انسانی وجود سے تعلق</strong><br />
”آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کوئی ایک لفظ، کسی کا نام یا اللہ کا نام 25 مرتبہ اپنے ذہن میں دہرائیں مگر گنتی دل ہی دل میں ہونی چاہیے مگر گنتی کرتے ہوئے ذہن میں کوئی اور خیال نہیں آنا چائیے اور اگر گنتی میں کوئی غلطی ہو تو دوبارہ سے گنتی شروع کردیئے۔ مگر گنتی ذہن میں ہی رہے ناکہ ہاتھوں یا انگلیوں پہ“ اس تجربہ کے کرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ25 مرتبہ ایک لفظ اپنے ذہن میں گنتے رہے ہونگے اور خیال بھی ذہن میں آتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہے کہ چند خیالات ذہن سے گزرے ہوں۔ یا پھر پہلی کوشش ناکام ہو گئی ہو اور کئی مرتبہ اس تجربہ کو کرنا پڑا ہو تو پھر جا کر 25 مرتبہ کی گنتی پوری ہوئی ہو یا پھر خیالات بھی آ رہے ہوں اور گنتی بھی جاری رہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ نہ کر پائے ہوں کہ آپ 25 مرتبہ کوئی ایک لفظ دہرائیں اور کوئی خیال بھی ذہن میں نہ آئے ۔<br />
<strong>مراقبہ اور ذات (Self ) سے شناسائی</strong><br />
معاملہ کچھ بھی، تجربہ کچھ بھی ہو، بات حقیقت ہے کہ آپ اپنے اندرونی خودی (Self ) کے وجود کا انکار نہ کرپانیں گے۔ کیونکہ جب آپکا ذہن گنتی میں مصروف تھا تو وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن سے خیالات گزر رہے ہیں؟وہ کون تھا جو ایک ہی وقت میں مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن میں خیالات بھی آ رہے ہیں اور گنتی بھی ہورہی ہے؟ کیونکہ آپ کا ذہن کو یقیناً گنتی میں مصروف تھا۔یقیناً آپ کہیں گے کہ وہ میں تھا جو دیکھ رہا تھا کہ کوئی خیال ذہن میں آ رہا ہے اور گنتی بھی صحیح ہو رہی ہے۔ وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا؟ آپ کا جسم یا پھر آپ کا ذہن؟ یا پھر آپ خود؟ اگر آپ یہ سارا عمل دیکھ رہے تھے تو آپ کو اپنے ذہن اور جسم سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ جی ہاں! دراصل یہ حس آگاہی ہی تو خودی (Self-I) ہے جو آ پکو اپنے خیالات تصورات سے آگاہ کرتی اور صرف اور صرف خودی (Self-me) ہی ہے جو آ پکو بتلاتی ہے کہ ا پکے اندر اور باہر کیا ہو رہا ہے؟ کہاں ہو رہا ہے ؟ و دیگر سے آگاہی کا سبب بنتی ۔ اس جاننے والے کو جاننے کا عمل ہی مراقبہ ہے۔ مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے .<br />
خیر اندیش<br />
محمد الطاف گوہر-لاہور<br />
(یہ تحریر روزنامہ نوائے وقت میں 10اکتوبر2008 اشاعت خاص؛ چند اقساط میں شائع ہوئی۔ اسکے بعد وکیپیڈیا کی زینت بنی جبکہ وکیپیڈیا کی ایڈمن کے اپنے خیالات بھی اس میں بشمول ہیں جن سے میرا اختلاف وضاحت سے شامل ہے ؛ حقیقت سو پردوں میں بھی حقیقت ہی رہتی ہے البتہ اس کے بیان کرنے والے اپنے اپنے درجے پر علم کے مطابق وضاحت کرنے میں اختلاف رکھتے ہیں جبکہ میری تحاریر زیادہ تر عملی اور متحرک زندگی کیطرف نشاندہی ہے ناکہ فقط علمی بحث اور فلسفہ جو کہ کسی بھی نتیجہ پر لیجانے کی بجائے الجھنیں پیدا کرے ؛ یہ تحریر اب آپکی خدمت میں پیش کی گئی ہے ؛ تحقیق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس پر بحث عام نہ ہو، میرا بلاگ لکھنے کا مقصد اپنے خیالات آپ تک پہنچانا ہے اور اپنی اصلاح ہے  ؛ آپکی آرا کا انتظار رہے گا ۔۔۔ یہ مضمون میری زیر طبع کتاب &#8221; لذتِ آشنائی&#8221; کا ایک باب ہے)</span></span></p>
<p><strong> </strong><br />
<!-- AddThis Button BEGIN --></p>
<div style="text-align:center;"><a title="Bookmark and Share" href="http://www.addthis.com/bookmark.php?v=250&amp;pub=xa-4ae5780b49afec7b" target="_blank"><img src="http://s7.addthis.com/static/btn/v2/lg-share-en.gif" alt="Bookmark and Share" width="125" height="16" /></a></div>
<p><!-- AddThis Button END --></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قوتِ خیال</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 13 Jan 2012 05:01:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان | Youth]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[حسن]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[عقل]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[مراقبہ]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[ممکن]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[پاک]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=398</guid>
		<description><![CDATA[قوتِ خیال ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/' addthis:title='قوتِ خیال '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue; direction: rtl;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> قوتِ خیال<br />
</span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq; text-decoration: blink;"><strong>ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں </strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkred;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟ </span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے &#8220;الہ دین کے جن&#8221; کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے </span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong><strong><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></strong></strong></strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;"> قدرت ہمیں معاملاتِ زندگی میں سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے گرچہ ہم جتنا مرضی جمود میں رہنے کی کوشش کریں۔ ہر مثبت اور صحیح سوچ رکھنے والا شخص نہ صرف معاملاتِ زندگی میں پرجوش اور متحرک (Dynamic)ہے بلکہ اپنی ترقی، کامرانی اور ذہنی پیش رفت کو بھی قدرتی انداز میں رکھنا پسند کرتا ہے جبکہ پیش رفت صرف اور صرف تصورات، خیالات، عوامل اور حالاتِ زندگی کی بہتری کے مرہون منت ہے جو کہ نتیجتاً ظاہر ہوتے ہیں۔ لہٰذا تخیل (خیالThought) کے تخلیقی مراحل کا مطالعہ اور ان کا زندگی کے اعلیٰ مقاصد کا استعمال ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خیالات (دقیق تا ارفع Alpha and the Omega) کا ابجد (Alphabet)بنانے کے لیے الہامی اور فلسفیانہ ذرائع ہمارے لیے عظیم سچائی (حقیقت) تک رسائی کا موجب بنتے ہیں جبکہ انسانیت اِس اکیسویں صدی میں بڑے زور و شور سے ”حقیقت کی تلاش“ میں ہر وہ راستہ افشاں کرنے پر تُلی ہوئی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے اس تک پہنچنے کا موجب بنے۔ خیال کے بارے میں علم وہ طریقہ کار واضح کرتا ہے جس کے باعث انسانی زندگی کے ارتقائی اور تسلسل کے عمل میں بلندی اور تیزی آتی ہے۔<br />
ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں<br />
جب انسانی سوچ کسی بند گلی میں جا کررک جاتی ہے اور کوئی راستہ نہےں ملتا تو انجام خاتمہ! علم ہی انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے یہ انسانی شرف ومعراج صرف علم کی وجہ سے ہے۔ علم کی روشنی جہاں آجائے وہاں تاریکی ختم ہو جاتی ہے ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟ علم کی بہت سی شاخیں ہیں جو انسان کی زندگی میں عروج و ترقی کا باعث بنتی ہیں،اگر اچھا کاروبار کرنا ایک فن ہے تو اچھا لکھنا اور اچھا بولنا بھی ایک فن ہے اسی طرح اگر تعلیم و تر بیت میں شاندار کامیابی بھی ایک فن ہے تو اچھا کھیلنا بھی ایک فن ہے ۔اب اگر ہم زندگی کے سارے علم و فنون کو حاصل کر لیں جو کامیابی و کامرانی کی طرف لے جاتے ہیں مگر زندہ رہنے کا فن نہ سیکھیں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟<br />
تخیل ہمارے لیے بہتے پانی کی مانند ہے اگر حدوں میں رہے تو لازوال طاقت ہے اور اگر حدوں کو توڑ دے تو طوفان جبکہ یہ طوفان ناقابل تسخیر معلوم ہوتا ہے لیکن اگر آپ اس کا راستہ تبدیل کرنے کا طریقہ جانتے ہیں تو آپ اس کا رُخ موڑ سکتے ہیں اور اس کو کارخانوں میں لے جا کر وہاں اس کی قوت کو حرکت، حرارت اور بجلی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ آپ تخیل (خیال) کو گھر بیٹھا دیوانہ بھی کہہ سکتے ہیں یا پھر بے سدھ گھوڑے سے بھی وابستہ کر سکتے ہیں جس کی نہ لگام اور ہی باگیں، ایسی صورت میں سوار اس کے رحم و کرم پہ ہے کہ جہاں وہ چاہے اس کو کسی کھائی میں گِرا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے لیکن اگر سوار گھوڑے کو لگام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اب یہ گھوڑا (تخیل) اپنی مرضی سے کہیں نہیں جاتا بلکہ سوار جہاں چاہے گھوڑے کو وہاں لے جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔<br />
مائنڈ سائنس (Mind Science)اکیسویں صدی کی اختراع ہے جبکہ تخیل (Thought)کو اب ایک بالیدہ شعور سے پالا پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہر خیال آپ سے پوچھ کے آپ کے پردہ اسکرین پر ظاہر ہو گا اور یہی انسانی ذہن کا کمال ہے کہ وہ اپنے تخیل پے حکمرانی کرے ۔ حقیقت شناس زاویہ (Face to Face) ہمیں میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے اِس زاویہ کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تمام دوسرے غلط زاویوں کی نفی کرنا ہو گی۔ اپنے اندر کے کھیت میں ہل چلانا ہو گا اور اپنے ذہن کی زمین (Hard Disk)کو تیارکرنا ہو گا کیونکہ جب بھی کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے تو پہلے اِسکی بنیادیں کھودی جاتیں ہیں اور ہر نئی فصل اُگانے کیلئے ہل چلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھیں تو حقیقت کے چشمے سے سیراب ہونے کیلئے ”لا“ (No) یعنی نفی اور ہر شے سے انکار (Reset) کرنا تو ازل سے سلامتی کے مذاہب کی اساس رہی ہے کیونکہ تمام خود رو جنگلات چاہے کتنے ہی بھلے معلوم کیوں نہ ہوں مگر اصل حسن تو اِن باغات میں ہے جو اِنسان نے زمین پہ محنت کر کے اُگائے ہیں جیسے پانی اپنی حدوں سے باہر نکل جائے تو سیلاب بن جاتا ہے اِسی طرح ہمارے اندر کی لامحدود طاقت اِنسان کو درندہ بھی بنا سکتی ہے اور یہ معصوم صورت درندہ زندگیوں کیلئے فنا بن جاتا ہے۔ اِنسان کے اندر (ذہن) کی طاقت صرف اور صرف ”خیال“ (Thought)میں پنہاں ہے اور یہ اِس پانی کی طرح ہے جو لطیف (ہلکا) ہو جائے تو عرش (آسمانوں) کا رُخ کرتا ہے اور اگر بے قابو ہو جائے تو تباہی و بربادی (خون خرابہ) کا باعث بنتا ہے اور اگر کسی جگہ رُک جائے تو بے چینی (Tension) اور ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key) بھی اِسی خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔ درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے جن کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے جبکہ انسانی ذہن کے پردہ سکرین پہ جو اداکار اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ صرف ہمارے خیالات (تخیل) ہیں اور انکو اپنی مرضی کے مطابق کردار ادا کرنے کا پابند کرنے میں ہی آپ کی لازوال طاقت پنہاں ہے مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ آپ اپنے بارے میں مکمل معلومات نہ رکھتے ہوں۔<br />
اگر ایک طرف مراقبہ کے عمل سے تخیل منظم (Organized)شفاف (Refined) ہوتا ہے اور تقویت (Amplify)پکڑتا ہے تو دوسری طرف (اس عمل سے پیشتر )ذہن کو اس تمام آلودگی اور بے سرو سامانی کے ماحول سے پاک کرنا بھی ضروری ہے تا کہ زمینِ ذہن پہ اُگی ہوئی تمام جڑی بوٹیاں (بے لگام خیالات) سورج کی روشنی میں خود بخود فنا ہو جائیں۔ جیسے آپ نیا کمپیوٹر تیار کر رہے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک ہارڈ ڈسک (Hard Disk) کو تیار (Format)کرتے ہیں تا کہ وہ کسی بھی نئے پروگرام کو ذخیرہ (Save) کرنے کے قابل ہو جائے اور پھر سب سے پہلے Operating System )قاعدہ و قانون)کا پروگرام انسٹال کرتے ہیں تا کہ اِس میں Application پروگراموں کو چلانے کی قابلیت ہو جائے۔ تحلیل نفسی (Psychotherapy)بھی اِسی عمل کا تسلسل ہے یا پھر محاسبہ ذات بھی یہی طریقہ کار وضع کرتا ہے جبکہ توبہ (Repent) بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جو نہ صرف گناہوں کی دھلائی کا کام کرتا ہے بلکہ انسانی ذہن کی غلاظتوں کا بھی قلع قمع کرتا ہے اور کبھی کبھی Confession (اقرار گناہ)اور آزاد گوئی (Free Speaking)کے ثمرات بھی کسی طرح بھی اِس معاملہ میں پیچھے نہیں۔<br />
جاری۔۔۔ </span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پراسرار بندے اور لذت آشنائی</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 12 Jan 2012 17:01:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[عبادات | Worship]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[books on sufism]]></category>
		<category><![CDATA[define sufism]]></category>
		<category><![CDATA[definition of sufism]]></category>
		<category><![CDATA[history of sufism]]></category>
		<category><![CDATA[islam and sufism]]></category>
		<category><![CDATA[islam sufism]]></category>
		<category><![CDATA[islamic sufi]]></category>
		<category><![CDATA[islamic sufism]]></category>
		<category><![CDATA[meditation in sufism]]></category>
		<category><![CDATA[muslim]]></category>
		<category><![CDATA[muslim prayer]]></category>
		<category><![CDATA[muslim religion]]></category>
		<category><![CDATA[muslims]]></category>
		<category><![CDATA[mystical islam]]></category>
		<category><![CDATA[mysticism]]></category>
		<category><![CDATA[quran]]></category>
		<category><![CDATA[ramadan]]></category>
		<category><![CDATA[religions muslim]]></category>
		<category><![CDATA[rumi]]></category>
		<category><![CDATA[rumi and sufism]]></category>
		<category><![CDATA[salafism]]></category>
		<category><![CDATA[su fi]]></category>
		<category><![CDATA[sufi]]></category>
		<category><![CDATA[sufi islam]]></category>
		<category><![CDATA[sufi music]]></category>
		<category><![CDATA[sufi muslim]]></category>
		<category><![CDATA[sufi muslims]]></category>
		<category><![CDATA[sufi orders]]></category>
		<category><![CDATA[sufi poetry]]></category>
		<category><![CDATA[sufi wiki]]></category>
		<category><![CDATA[sufi women]]></category>
		<category><![CDATA[sufis]]></category>
		<category><![CDATA[sufism and islam]]></category>
		<category><![CDATA[sufism book]]></category>
		<category><![CDATA[sufism books]]></category>
		<category><![CDATA[sufism definition]]></category>
		<category><![CDATA[sufism history]]></category>
		<category><![CDATA[sufism in islam]]></category>
		<category><![CDATA[sufism islam]]></category>
		<category><![CDATA[sufism meditation]]></category>
		<category><![CDATA[sufism music]]></category>
		<category><![CDATA[sufism mysticism]]></category>
		<category><![CDATA[sufism pdf]]></category>
		<category><![CDATA[sufism poetry]]></category>
		<category><![CDATA[sufism quotes]]></category>
		<category><![CDATA[sufism rumi]]></category>
		<category><![CDATA[sufism wikipedia]]></category>
		<category><![CDATA[the sufi]]></category>
		<category><![CDATA[the sufis]]></category>
		<category><![CDATA[whirling dervishes]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=381</guid>
		<description><![CDATA[پراسرار بندے اور لذت آشنائی یہ نظر جس طرف اُٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والاہر پل اپنے اوپر ناز کرتا... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/' addthis:title='پراسرار بندے اور لذت آشنائی '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue; direction: rtl;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;">پراسرار بندے اور لذت آشنائی</span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: darkgreen; text-decoration: blink;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"><strong>یہ نظر جس طرف اُٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والاہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے اور ہر فنا اپنی بقاءدیکھتی ہے</strong></span></span></p>
<div id="attachment_251" class="wp-caption alignleft" style="width: 123px"><strong><strong><img class="size-full wp-image-251" title="Muhammad Altaf Gohar" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/10/muhammad-altaf-gohar1.gif" alt="محمدالطاف گوہر" width="113" height="126" /></strong></strong><p class="wp-caption-text">محمدالطاف گوہر</p></div>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkred;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;">اگر دُنیا کو ایک معصوم چڑیا کی نظر سے دیکھا جائے جس کے گھونسلے میں پڑے ہوئے بچے ایک سانپ کھا رہا ہے تو دُنیا ہمیں کتنی ظالم دکھائی دے گی مگر اسی لمحے اِس بھوکے سانپ کی نظر سے دُنیا کو دیکھا جائے تو دُنیا کتنی مہربان نظر آئے گی کہ بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا ملا ہے مگر ہمیں اِن نقطہ نظر سے کیا لینا دینا؟</span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong>تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر</strong></strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;"> اس خطہ ء زمین پہ ہم روزانہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوے صبح کو آتے ہیں ، دن گزارتے ہیں اور رات کو واپس چلے جاتے ہیں، کبھی معلوم کرنے کی زحمت ہے کہ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں؟ بعض اوقات اپنی تمام تر توانائیاں خواہ مخواہ کی مشقت اٹھانے میں لگا دیتے ہیں، ایک مختصر سے لمحے کو رہنے کی زندگی کیلئے شاندار محلات تعمیر کرتے ہیں اور اس کی حفاظت اور ملکیت کو قائم رکھنے میں ہی زندگی تمام ہو جاتی ہے اور جاتے ہوئے خالی ہاتھ، اور کبھی آ پنی آن بان قائم رکھنے کو مقصد حیات بنا لیتے ہیں اور خوامخوہ کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ شانِ طولانی دیکھئے کہ انا (خود پسندی) کی ملمع کاری بھی سمندر میں اُٹھتی ہوئی لہر کی طرح ہے جو اپنے ہی شور میں یہ بھول گئی ہے کہ آخر اِسے پھر واپس اِسی سمندر میں مل جانا ہے تو پھر اتنا تلاطم کیسا؟ اور اتنا بپھرنا بھی کیا؟آخر سر اٹھاتی ہوئی موجیں (لہریں) ہی کناروں سے اپنا سر پھوڑتی ہیں وگرنہ گہرے سمندر تو ازلوں سے خاموش اور ساکن رہے ہیں۔ ہمارے رشتے اور ناطے آپس میں کچھ اس طرح سے ہیں کہ جیسے ریل کے ایک ڈبے میں چند لوگ بیٹھے سفر کر رہے ہوں اور ان کو اپنی نامعلوم منزل پر پہنچنا ہے اور جیسے ہی کسی کی منزل آ گئی وہ اُتر گیا اور پھر یہ رخت سفر جاری رہا اور آخر ایک وقت آتا ہے کہ تمام کے تمام لوگ عدم سدھار جاتے ہیں تو پھر آپس میں نفرتیں، عداوتیں اور محبتیں کیسی؟<br />
میں (Self) جو کہ اِس کائنات سے ہمارا رابطہ (Channel) بنتی ہے اس تک رسائی کیلئے پہلے ہمیں اپنے قلوب کے زنگ کو اُتارنا ہو گا جبکہ یہ زنگ وہ بدعملیاں اور منفی جذبے و رویے ہیں جو ہمارے من (قلب) پہ زنگ کی ملمع کاری کی طرح تہہ در تہہ چڑھتے رہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ باہر کی روشنی اندر دکھائی نہیں دیتی اکثر اوقات خوش بختی، سکون اور راحت باہر سے دستک دیتے ہیں اور اندر آنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں مگر اندر کے یہ دُشمن اِنہیں گھسنے نہیں دیتے۔ ہمارے تمام یہ منفی رویے جذبے (حسد، لالچ، مکر، فریب، دھوکہ دہی، نفرت وغیرہ) اور خوامخواہ کے خوف جو ہم نے اپنے اندر بیج (تخم، Seed) کی طرح بو دئیے ہیں آخر کچھ تو پھل دیں گے؟<br />
قدرت کے بچھائے ہوئے سبز مخملی قالین (گھاس) پہ چلتے ہوئے ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ رنگ برنگے پھل و پھول اور پودے اور تنا آور درخت سب کے سب ایک ہی زمین سے نکلے ہیں مگر ہر ایک کا ثمر (پھل)<img class="alignleft size-medium wp-image-15787" title="lazatay-ashahnai" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/01/lazatay-ashahnai-198x300.jpg" alt="" width="198" height="300" /> اور خاصیت دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ گلاب کے پودے پر گلاب کا پھول مگر نرگس کے پودے پر نرگس کا پھول اور دونوں کی رنگت اور خوشبو جداگانہ حالانکہ ایک ہی زمین سے نکلی ہوئی یہ نباتات جو کہ جبلت کی باندھی ہوئی ہے (یعنی نشوونما تو ہے مگر نقل مکانی نہیں اور نہ ہی سمجھ بوجھ) اس کو بھی معلوم ہے کہ گلاب کے پودے کے ساتھ گلاب کا پھول لگے گا نہ کہ چنبیلی یا نرگس کا۔ اب اگر ہم آم کا بیج بو کر سیب کے پھل کی دُعا مانگیں تو کیا خیال ہے کہ دُعا قبول ہو گی یا کو نسا پھل ملے گا؟ قدرت تو قدرت ہے ہر چیز کی طاقت رکھتی ہے اور اُس کیلئے سب کچھ ممکن ہے مگر ہمیں سنت خدا وندی بھی تو معلوم ہونی چاہیے کہ جس کا قدرت بھی خیال رکھتی ہے یہاں قدرت کے شاہکاروں میں سے ایک شاہکار قانون ہمیں پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ جیسا بو ء گئے ویسا کاٹو گے (یعنی جیسا تخم ہو گا ویسا ہی پھل ہو گا) یہاں بیج (Seed) وہ رابطہ (Channel)ہے جو زمین کے ساتھ ایک پود ہ اور درخت رکھتا ہے اور اس کی خاصیت کی وجہ سے مخصوص پھل اور پھول حاصل کرتا ہے۔<br />
اگر دُنیا کو ایک معصوم چڑیا کی نظر سے دیکھا جائے جس کے گھونسلے میں پڑے ہوئے بچے ایک سانپ کھا رہا ہے تو دُنیا ہمیں کتنی ظالم دکھائی دے گی مگر اسی لمحے اِس بھوکے سانپ کی نظر سے دُنیا کو دیکھا جائے تو دُنیا کتنی مہربان نظر آئے گی کہ بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا ملا ہے مگر ہمیں اِن نقطہ نظر سے کیا لینا دینا؟ ہمیں تو صرف اِتنا سمجھنا ہے کہ وہ زاویے (Angle)، واسطے (Channel)، نظریے(Concept) اور بیج (Seed) کونسے ہیں جو کہ ہماری زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں ہمارے سامنے تو زندگی (دُنیا) فطرت کے شاہکاروں سے بھری پڑی ہے مگر ہماری نظر میں وہ زاویہ کہاں ہے، وہ رابطہ کہاں جو اِن شاہکاروں کو ملاحظہ فرمائے؟ اپنی نظر میں اتنی بصارت کہاں۔ ہمارے قلوب کے زنگ وہ پردے ہیں جو ہمیں سکون، راحت اور خو ش بختی اور صحت کے تحفے حاصل کرنے سے دور رکھتے ہیں۔ ہمیں تو وہی کچھ دکھائی دیتا ہے کہ جسکی چھاپ ہمارے قلوب میں پڑ چکی ہے یعنی جیسا بیج ویسا ہی پھل۔<br />
اب اگر آپ نے اُردو زبان لکھنی پڑھنی سیکھی ہے تو آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ورنہ آپ کے سامنے یہ آڑھی ترچھی لکیروں کے سوا کچھ نہیں اور اگر یہ تحریر کسی ایسی زبان میں لکھی ہوتی جسکو کہ آپ جانتے نہیں تو کس طرح سے ممکن تھا کہ آپ اِس کو پڑھ سکتے اور پھر اِسکو سمجھ سکتے؟ یعنی ہماری باہر والی دُنیا پر ہماری اندر والی دُنیا کی چھاپ ہوتی ہے اور ہمیں وہی کچھ دکھائی دیتا ہے کہ جس کا عکس ہمارے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے ورنہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ایک دریا میں ایک مچھلی نے دوسری مچھلی سے پوچھا کہ کبھی پانی دیکھا ہے تو وہ بولی میں نے تو اپنی زندگی میں پانی نہیں دیکھا تو دونوں مِل کر ایک بوڑھی مچھلی کے پاس گئے اور پوچھا کہ اماں کبھی پانی دیکھا ہے تو وہ بولی بچو میں نے بھی اپنی زندگی میں پانی نہیں دیکھا۔ آپ اندازہ کریں کہ اِنہوں نے اگر کبھی خشکی دیکھی ہوتی تو اِن کو پانی کا اندازہ ہوتا اور جس نے ساری زندگی پانی میں گزاری ہو اِسے (ضد دیکھنے کا موقع نہ مِلا ہو) تو اِسے کیسے اندازہ ہو سکتا ہے پانی کیا ہو تا ہے ا؟<br />
جمادات (Minerals, Stoneبے حرکت کوئی نشونما نہیں، کوئی نقل مکانی نہیں اور نہ ہی کوئی سمجھ بوجھ) ، نباتات ( Plant نشونما تو ہے مگر کوئی نقل مکانی نہیں اور نہ ہی کوئی سمجھ بوجھ ) اور حیوانات (Animal سب کچھ ہے مگر محدود سمجھ بوجھ اور جبلت کے باندھے ہوئے) اور ایک ہم اللہ تعالیٰ کی شاندار مخلوق جسے اِرادہ (Freedom of Choice) اور خود مختاری دی گئی ہے اور ہم جبلت کے بھی غلام نہیں جبکہ ہمیں عقل جیسے اِنعام سے نوازا گیا ہے کہ جو علم کی روشنی میں دیکھتی ہے اور علم وہ نور ہے جو ہمارا رابطہ ہماری خودی (میں، Self) سے کروا دیتا ہے حالانکہ ہمارے منفی جذبے، رویے اور غلط نقطہ نظر وہ گرداب ہیں جن میں پھنس کر اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ بہت خوب گزر ہو رہی ہے ،جبکہ ہم ایک دائرے میں سفر کر رہے ہوتے ہیں جہاں منزل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں اور بعض اوقات ہمارے چور دروازے پستی کی طرف کھلے ہوتے ہیں او رہم سمجھتے ہیں کہ ہم دوڑ رہے ہیں مگر جتنا تیز دوڑتے ہیں اتنا ہی پستی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ بلندی اور ندرت اور کھلے آسمانوں کا سفر تو قدرت کے حسین و جمیل تحفوں میں سے ایک تحفہ ہے وہ اِنہیں کو ملتا ہے جو اپنا قلب اِن تمام ملاوٹوں (منفی جذبے، رویے ،اناءکی ملمہ کاری اور خواہ مخواہ کے خوف) سے پاک رکھتے ہیں یہ آئینہ جلا کا کام دیتا ہے اور ہمیں اپنی خود ی(میں Self) کے تمام زاویے اور ثمرات ملتے ہیں جس کے ہم حقدار ہیں۔ اِسی خود ی(Self)کا سفر بھی کیسا کہ نڈر اور بے پرواہ کوئی خوف نہیں نہ کوئی ملمع کاری خوشی کے وقت ہنسنا اور حقیقی خوشی ، تکلیف کے وقت رونا کوئی دکھلاوا نہیں اور کوئی غرض نہیں اور نہ ہی کسی کیلئے دھوکہ دہی کہ یہ ہمارا وہ بچپن ہے کہ جہاں خود ی(Self)اپنی موج میں رواں دواں ہے۔ اب زندگی کے رنگ بدلتے ہیں اور نفرتوں، خواہشوں کے گرداب میں پھنس کر اور کبھی خود پسندی کے فریب میں ہم اپنی خود ی(Self)سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہمارے درمیان یہ پردوں کی طرح حائل ہوتے جاتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہمارا رشتہ ہمارے ازل سے کٹ جاتا ہے۔<br />
جس طرح ہمارا رابطہ اپنے ازل(اصل) اور کائنات سے اپنے اندر سے خود ی(Self)کے ذریعے ہوتا ہے اِسی طرح ہمارا بیرونی دُنیا سے رابطہ ہمارے ذہن (Mind) کے مرہون منت ہے اور انسان کے سوچنے کی صلاحیت اس کو کائنات پر دراندازی (مداخلت) کا موقع فراہم کرتی ہے۔اب جس طرف بھی نظر دوڑائیں گے آپ کو ایک طرف قدرت کے شاہکار نظر آئیں گے اور دوسری طرف لوگوں کے جمے ہوئے خیالات بھی نظر آئیں گے یعنی یہ ہماری تعمیر کردہ دُنیا (اشیا)، تعمیرات اور ایجادات۔ اب اگر ایک لکڑی کی میز کو دیکھا جائے جس کا خاکہ پہلے کسی اِنسان کے ذہن میں تیار ہوا پھر اِن خیالات نے حقیقت کا رُوپ دھارا اور وہ ہمیں لکڑی کے میز کی شکل میں منجمد نظر آئے اِسی طرح آپ تعمیرات کو دیکھیں اور ایجادات کو دیکھیں تو یہ سب کے سب لوگوں کے خیالات کا انجماد ہی تو ہے کہ پہلے یہ خیال ذہن میں نقشہ کی طرح بنا اور پھر ٹھوس (منجمد) شکل اختیار کر گیا جسے ہم اِنسانی سوچ کا شاہکار بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جبکہ یہ شعور ی (آگاہ اور آشنا) لمحوں کا انجماد ہے جو انسانی ذہن نے Save کئے اور کمال کی بات یہ ہے کہ اس کا ئنات میں اپنے وجود کی شہادت بھی دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ خود ی(Self) اِنسان کے اندر سے رابطے کیلئے کسی واسطے کی محتاج نہیں جبکہ ذہن حواسِ خمسہ کا محتاج ہے یعنی ہمارے اندر معلومات ذخیرہ کرنے کیلئے پانچ حواس ہوتے ہیں جن کے باعث یہ معلومات ذہن اپنے پاس ذخیرہ کرتا ہے (چکھنا، چھونا، سونگنا، دیکھنا اور سُننا)یہ وہ صلاحیتیں ہیں کہ جن کے بل بوتے پر ایک انسان اپنا ذہن Mind بناتا اور اپنی اندر کی دُنیا تعمیر کرتا ہے۔<br />
خود ی(Self)کا کائنات سے رابطہ اور تعلق اِن سب واسطوں سے بے نیاز ہے (ادراک ماورائے حواس ESP – Extra Sensory Perception )۔ اِس من کی دُنیا میں اگر چشمہ خودی پھوٹ پڑے تو زندگی تپتے صحراﺅں سے نکل کر سکون کی گھنی چھاﺅںمیں آ جاتی ہے اور اندر کا عکس بدل جاتا ہے اور باہر بھی شاہکارِ قدرت کا نظارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونے سے کشف وجدان کے دھارے اور علم و عرفان کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور زندگی خزاں سے موسمِ بہار میں آ جاتی ہے۔ اِس آگہی کی لذت ایک شخص تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بیرونی دُنیا پہ بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے کہ آسمانوں سے مینہ برستا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور قدرت کی طرف سے شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اِس کائنات کا ذرہ ذرہ اِس لذت سے معمور ہوتا ہے کہ جن کا الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے اِسی کے دم سے پھلوںمیں رس بھرا جاتا ہے اور پھولوں میں خوشبو۔ بیماروں کو شفا ملتی ہے اور یہ نظر جس طرف اُٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والا ہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے اور ہر فنا اپنی بقاءدیکھتی ہے۔ اِس زمین میں زرخیزی آتی ہے باالفاظِ دیگر اِس خود ی(Self)کا کیا کہنا کہ جو لذت آشنائی سے لبریز ہے اور ہم اِس کا تذکرہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں۔ سورة الکہف (آیت 60 تا 86) کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا تذکرہ کیا ہے جسے اللہ نے اپنا فضل اور علم بخشا ہے۔ (آیت 79 تا 86) دیکھیں کس طرح سے (بندے کی) میں سے ہم اور ہم سے اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا گیا ہے (میں نے چاہا، ہم نے چاہا اور تیرے اللہ نے چاہا) حالانکہ اِس واقعہ میں جو بیان کیا گیا ہے سارے کے سارے واقعات ایک بندہ کے ہاتھ سے سرزد ہو رہے ہیں مگر اِن کی توجیہہ میں ”میں“ سے اللہ تک کی رسائی کا پتہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا۔ اِس واقعہ میں شریعت اور طریقت کا شاندار امتزاج بیان کیا گیا ہے اور ایک بندے کی ”میں“ کا اللہ سے تعلق بیان کیا گیا ہے۔ آشنائی کی لذت سے مامور دیے (چراغ) تو ابد تک کیلئے روشنی بن جاتے ہیں اور یہ روشنی دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے اور ہماری زندگیوں میں روشنی اِنہی چراغوں کے دم سے ہے ورنہ کائنات کا ردِعمل ہر ظلم و زیادتی اور آہ پہ آندھی، طوفان اور زلزلوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ کائنات ہر کرب کا اور مظلوم کی آہ کا جواب ضرور دیتی ہے ۔<br />
خودی (Self) کی لذت کا آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا مگر اِن ثمرات میں مراقبہ کو جو اہمیت حاصل ہے وہ شاید کسی اور چیز کو نہیں اس عمل کو کرنا دراصل آپ کو آپکی شعوریت کے قریب لاتا ہے اور یہ ایسا ہی عمل ہے جیسا ایک بنجر زمین پر ہل چلانا اور پھر اِس کو دھوپ میں چھوڑ دینا تا کہ اِس کے اندر کی جڑی بوٹیاں خود بخود فنا ہو جائیں اور زمین بیج بونے کے قابل ہو جائے اور اب اِس میں بیچ لگا کر اِس کو پانی دیا جائے اور پھر اِسکے پودے کی نشوونما کی جائے اور پھر کہیں جا کر پھل نصیب ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے اِتنی ثابت قدمی ممکن ہے؟ کیونکہ الفاظ کے موتیوں کو تحریر کی لڑیوں میں پیرونا تو آسان ہے مگر مقامات آگہی میں غوطہ زن ہونا بڑے جگرے کی بات ہے البتہ گہرے سمندر میں غوطہ زنی نہ سہی مگر کنارے کنارے رہ کر کچھ تو سیکھا (حاصل کیا) جا سکتا ہے۔</span></span></p>
<p>&nbsp;</p>
<div style="text-align: center;"><a title="Bookmark and Share" href="http://www.addthis.com/bookmark.php?v=250&amp;pub=xa-4ae5780b49afec7b" target="_blank"><img src="http://s7.addthis.com/static/btn/v2/lg-share-en.gif" alt="Bookmark and Share" width="125" height="16" /></a></div>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%8c-%d8%aa%d9%88%d8%ac%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%db%8c%d8%b6%d9%90-%d9%86%d8%b8%d8%b1.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%8c-%d8%aa%d9%88%d8%ac%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%db%8c%d8%b6%d9%90-%d9%86%d8%b8%d8%b1.html/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 23 Jan 2010 13:47:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Culture]]></category>
		<category><![CDATA[Mind Sciences in Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[People]]></category>
		<category><![CDATA[urdusky]]></category>
		<category><![CDATA[www.urdusky.com]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور دور جدید]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرار علوم]]></category>
		<category><![CDATA[کالم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=1259</guid>
		<description><![CDATA[مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تزکیہ خود کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں کسی “صاحب ِ نظر ” کی چوکھٹ... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%8c-%d8%aa%d9%88%d8%ac%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%db%8c%d8%b6%d9%90-%d9%86%d8%b8%d8%b1.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%8c-%d8%aa%d9%88%d8%ac%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%db%8c%d8%b6%d9%90-%d9%86%d8%b8%d8%b1.html/' addthis:title='مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: darkblue; direction: rtl; line-height: 1.5;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"><a href="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2010/01/sciencebrain.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-3528" title="sciencebrain" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2010/01/sciencebrain-300x271.jpg" alt="" width="300" height="271" /></a>مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر</span></span></strong></p>
<p style="text-align: center; color: darkblue; direction: rtl; line-height: 1.5;">اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تزکیہ خود کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں<br />
کسی “صاحب ِ نظر ” کی چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق</p>
<p style="text-align: justify; font-size: 20px; line-height: 1.5; direction: rtl;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر و تحقیق:محمدالطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="text-align: justify; font-size: 20px; line-height: 1.5; direction: rtl;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;">کوانٹم فزکس اور ذہنی قوت کے مربوط روابط انکے آپس میں لازم و ملزوم ہونے کے راز کو آشکار کر رہے ہیں، جسکے مطابق تمام مادی اشیا کے اجزائے ترکیبی بنیادی طور پر وہ ذرات ہیں جو انہیں ٹھوس شکل اختیار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کوانٹم فزکس اس اصول پر بنیاد کرتی ہے کہ مادہ کا کمترین ذرہ ، الیکٹران دوہری خاصیت کا حامل ہے یعنی کبھی ذرات کی شکل اور کبھی لہر کی شکل میں اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے ، جبکہ سائنسی تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ مادہ کے کمترین ذرات کبھی ذرے کی شکل میں اور کبھی لہر کے طور پر اپنا اظہار کرتے ہیں مگر ایک ہی وقت میں دونوں خصوصیات کا اظہار اکٹھا نہیں کرتے جبکہ انکے اس رویے کا انحصار مشاہدہ کرنے والے پر ہوتا ہے۔<br />
بلاشبہ مادی اشیا ایک انتہائی کمترین ذرہ ، الیکڑان سے مرکب ہیں لہذا اس دنیا کی اساس یہی ذرات اس سارے جہاں میں بکھرے ہوئے ہر طرف موجود ہیں اور یہی اشیا کو مادی شکل دینے کیلئے بنیادی ٹکڑوں کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہی انسانی جسمانی ساخت کی بنیاد ہیں اور یہی ذمہ دار ہیں ان گھروں کے جن میں ہم رہتے ہیں اور انہی کی بدولت ہمیں وہ گاڑیاں میسر ہیں کہ جن میں ہم گھومتے پھرتے ہیں اور اس دولت کے بھی جو بینکوں میں جمع ہے، حتیٰ کہ ہماری تمام حقیقتیں ان کمترین ذرات سے اٹی پڑی ہیں جبکہ یہ ذرات اپنا ردعمل اسی طرح سے کرتے ہیں جیسا ہم انکے بارے میں مشاہدہ، دھیان رکھتے ہیں۔<br />
ہم اس مادہ کی ان عالمگیر لہروں سے اسی طرح لفظ بالفاظ متاثر ہوتے ہیں ، جیسا ہم اسکے بارے میں مشاہدہ کرتے ہیں، با الفاظ دیگر کسی بھی شے کی اصلیت و حقیقت کا مشاہدہ دراصل ہمارے لیے حقیقت بنتا ہے۔ یہ ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی جنگل میں کوئی درخت گرتا ہے اور اگر اسکے پاس اگر کوئی سننے والا کوئی نہ ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسکے گرنے کی آواز پیدا ہوئی تھی؟یہاں سائنسی تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یقیناً آواز پیدا نہیں ہوئی ، کیونکہ درخت صرف اسی صورت میں آواز پیدا کر سکتا کہ اگر اسکا مشاہدہ ، دھیان کیا جائے ورنہ اگر اسکی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ کسطرح سے ممکن ہے کہ وہ آواز پیدا کرتا ؟ لہذا مشاہدہ ، دھیان، خبرداری ، بیداری یعنی توجہ دینے کا عمل مشاہدہ کہلاتا ہے بالفاظ دیگر سے آپ بیدار رہنے کا عمل بھی کہ سکتے ہیں۔<br />
ہمارا دھیا ن اور بیداری اسی طرف ممکن ہے جس طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں اور سائنسی تجربات ، ڈبل سلٹ ایکسپیریمنٹ،سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری توجہ مادہ کے کمترین ذرہ کے رویہ کو متاثر کرتی ہے لہذا یہ بات واضع طور پر سامنے آتی ہے کہ تمام مادی اشیا کا چال چلن ہماری توجہ،دھیان،سے متاثر ہوتا ہے جبکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ہماری توجہ کا ہی کمال ہے جو کچھ ہم اس دنیا میں اپنی ملکیت میں رکھے ہوئے ہیں اور ہماری توجہ ہی ہمارے لیے ہماری مادی دنیا کا وجود تشکیل دیتی ہے ،ہر شے جو ہمارے دھیان اور توجہ میں ہے ہمارے خیالات ،تخیل کے باعث وجود پاتی ہے ، جانتے بوجتے ہوئے یا انجانے میں، شناسائی میں یا پھر نا آشنائی کے عالم میں ، لہذا یہ بہت اہم ہے کہ ہم اسی طرف متوجہ ہو جائیں جسکے بارے میں ہم خیال کر رہے ہیں اور وہی کچھ سوچیں کہ جیسا ہم سوچنا چاہتے ہیں ، ہمارے خیالات ہماری موجودہ حالت اور اصلیت کے ماخذ ہیں اور اگر ہم اپنی موجودہ زندگی اور حالت سے مطمئن نہیں تو آج سے ہی نئے طریقے سے سوچنا شروع کر دیں ، نئی ذہنی تصاویر بنائیں ، نئے تصورات کو جنم دیں کہ یہ طریقہ ہمیں ہستی کے نئے وجود میں لا کھڑا کرے اور اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تذکیہ کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں کسی “صاحب ِ نظر ” کے چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق ہیں اور یہ ” فیضِ نظر” کا کمال ہے کہ انسانی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے ، از لوں سے سسکتی ہوئی زندگی کو سکون سے آشنا کرنے والی نظر اگر اپنی موج میں شکستہ حال اور خزاں برد پر پڑتی ہے تو اسے بہار سے ہمکنار کرتی ہے اور اگر جلال میں ہریالی پر پڑتی ہے تو اسے خس و خاشاک کر دیتی ہے ، اور جو منظورِ نظر ہو جائے اسکو مسرتِ لازوال سے ہمکنار کرتی ہے۔<br />
جس طرف نظر دوڑائیں “توجہ” کی جلوہ آرائی اپنے حسن و جمال کا شاندار نظارہ پیش کر رہی ہے ، سمندروں پر پڑتی ہے تو انکا سینہ چیر کر راہیں دریافت کرتی ہے ، اگر دریاوں پر پڑتی ہے تو پل باندھ دیتی ہے ، پہاڑوں پر پڑتی ہے تو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے ، میدانوں پر پڑتی ہے تو انہیں محلات میں تبدیل کر دیتی ہے ، آسمانوں پر پڑتی ہے تو فاصلے سمیٹتی ہے اور اگر انسانوں پر پڑ جائے تو زندگیاں بدل دیتی ہے۔<br />
چاند کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو سمندر چاندنی کی تاب نہ لا سکے اور اپنے اندر سے بیش و قیمت موتی و گوہر کناروں کی نظر کر گئے ، سورج کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو زندگی نے انگڑائی لی جبکہ زمیں نے سونا اگلا اور زندگی نے سفر کرنا شروع کیا مگر رات کا فیضِ نظر ہوا تو زندگی نے استراحت فرمائی اور دن کے فیض ِ نظر نے لمحوں کو وقت سے آشکار کیا اور بادلوں کا فیضِ نظر ہے کہ ہریالی نے زمین کو مخملی قالین بنا دیا۔<br />
آج جب تو نے مجھے پوچھا کہ “فیض” کیا ہے اور ” نظر، توجہ” کیا ہے تو ، اے سالک ِ راہ حق ، یہ مجھ پر آشکار ہوا کہ معاملات زندگی پر تو “فیضِ نظر” کی عنایات ہیں ورنہ یہ سلسلہ زندگی کبھی کسی گرداب کی نظر ہوتا اور کبھی گہری کھائی کی۔جب کوئی انسان اپنے آپ سے آگاہی حاصل کرتا ہے تو اسے ” لذتِ آشانی” کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ اور جس کے من کی دنیا میں اگر چشمہ خودی پھوٹ پڑے تو زندگی تپتے صحراوں سے نکل کر سکون کی گھنی چھاوں میں آ جاتی ہے اور اندر کا عکس بدل جاتا ہے اور باہر بھی شاہکارِ قدرت کا نظارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونے سے کشف وجدان کے دھارے اور علم و عرفان کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور زندگی خزاں سے موسمِ بہار میں آ جاتی ہے۔ اِس آگہی کی لذت ایک شخص تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بیرونی دنیا پہ بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے کہ آسمانوں سے مینہ برستا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور قدرت کی طرف سے شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اِس کائنات کا ذرہ ذرہ اِس لذت سے معمور ہوتا ہے کہ جن کا الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے اِسی کے دم سے پھلوں میں رس بھرا جاتا ہے اور پھولوں میں خوشبو۔ بیماروں کو شفا ملتی ہے اور یہ نظر جس طرف اٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والا ہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے اور ہر فنا اپنی بقاءدیکھتی ہے۔<br />
اِس زمین میں زرخیزی آتی ہے با الفاظِ دیگر اِس خود ی(Self)کا کیا کہنا کہ جو لذت آشنائی سے لبریز ہے اور ہم اِس کا تذکرہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں۔ سورة الکہف (آیت 60 تا 86) جہاں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ میں ، کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا تذکرہ کیا ہے جسے اللہ نے اپنا فضل اور علم بخشا ہے۔ (آیت 79 تا 86) دیکھیں کس طرح سے (بندے کی) میں سے ہم اور ہم سے اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا گیا ہے (میں نے چاہا، ہم نے چاہا اور تیرے اللہ نے چاہا) حالانکہ اِس واقعہ میں جو بیان کیا گیا ہے سارے کے سارے واقعات ایک بندہ کے ہاتھ سے سرزد ہو رہے ہیں مگر اِن کی توجیہہ میں ”میں“ سے اللہ تک کی رسائی کا پتہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا۔ اِس واقعہ میں شریعت اور طریقت کا شاندار امتزاج بیان کیا گیا ہے اور ایک بندے کی ”میں“ کا اللہ سے تعلق بیان کیا گیا ہے اور آشنائی کی لذت سے مامور دیے تو ابد تک کیلئے روشنی بن جاتے ہیں اگر ایک طرف یہ روشنی دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے تو دوسری طرف انکے فیضِ نظر کے باعث زندگی کی راہیں روشن ہوتی ہیں، یہ فیضانِ نظر کا کمال ہے کہ زندگیاں سکون کی دولت سے مالا مال ہوتی ہیں،، جبکہ ہماری زندگیوں میں روشنی اِنہی چراغوں کے دم سے ہے ، ورنہ کائنات کا ردِعمل ہر ظلم و زیادتی اور آہ پہ آندھی، طوفان اور زلزلوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے، کیونکہ کائنات ہر کرب کا اور مظلوم کی آہ کا جواب ضرور دیتی ہے۔<br />
اے زندگی تو احسان مان ان افرادکا ، جنکے فیضِ نظر کے باعث تواذیتوں اور کرب سے نجات پاتی ہے اور اگر کوئی گمراہی کے گھپ اندھیرے میں بھٹک جاتا ہے تو یہ نظر یں اسکی راہیں روشن کرتے ہوئے آگاہی کا پیش خیمہ بنتی ہیں ، اگر آگاہی کے مراحل طے کرنا دشوار ہوتو اسکی منزل آسان کرتی ہیں اور اگر کوئی روشن چراغ بننا چاہے تو اسکی ٹمٹماتی لو کودرخشاں کرتیں ہیں ۔مگر حیرت ہے اس پہ جو چاند کی تڑپ رکھتی ہوئی سمندر کی لہروں سے ، سونا اگلتی زمین کا سورج سے ، شاندار نظارہ پیش کرتی قوس و قزح اور سرسبز ولہلاتے کھیتوں کا بارش سے جو ربط ہے ، اس سے تو واقف ہیں مگراک &#8221; صاحب ِ نظر&#8221; کے &#8220;حال&#8221; سے ناواقف ہے ۔<br />
(یہ مضمون میری زیر طبع کتاب &#8221; لذتِ آشنائی&#8221; جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اسکا ایک باب ہے ، آپکی آرا اور تبصرہ کا انتظار رہے گا)</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%8c-%d8%aa%d9%88%d8%ac%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%db%8c%d8%b6%d9%90-%d9%86%d8%b8%d8%b1.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جنات اور جادو</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%af%d9%88.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%af%d9%88.html/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Dec 2009 15:55:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[جن]]></category>
		<category><![CDATA[جنات]]></category>
		<category><![CDATA[جنات اور جادو]]></category>
		<category><![CDATA[راز]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[ممکن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=655</guid>
		<description><![CDATA[جنات اور جادو اکیسویں صدی میں جنات اور جادو کی کیا حقیقت ہے جنات اور جادو وہ سربستہ راز ہیں کہ انہیں ہر دور میں آشکار کرنے کی کو شش... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%af%d9%88.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%af%d9%88.html/' addthis:title='جنات اور جادو '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: darkblue; direction: rtl; line-height: 1.5;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> جنات اور جادو </span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; color: darkgreen; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq; text-align: right;"><strong><strong>اکیسویں صدی میں جنات اور جادو کی کیا حقیقت ہے</strong></strong><br />
<strong><strong> جنات اور جادو وہ سربستہ راز ہیں کہ انہیں ہر دور میں آشکار کرنے کی کو شش ہوتی رہی ہے مگر انکے بارے میں حتمی رائے کبھی بھی اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی۔ معاملہ انسانی تجربات کا ہو یا الہامی ذرائع کا یہ تو طے حقیقت ہے کہ دونوں کا وجود ہے اور انسانی زندگی کو متاثئر کرتا رہتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں کوئی ایسا تجربہ تو نہیں ہوا مگر دوسروں کے تجربات سے جو اخذ کیا ہے وہ یہی مسلمہ حقیقت ہے کہ انکے وجود سے کسی طور انکار ممکن نہیں ۔<br />
اس موضوع کو اس لیئے چنا اور شروع کیا ہے کہ ممکن ہے قارئین میں سے کسی کے تجربات ہوں تو وہ ہمارے ساتھ شیئر کرے اور انکے حقائق سے مذید پردے اٹھائے جائیں ۔ درج ذیل میں ایک مقالہ یاہو گروپ سے ملا تو پبلش کیا تاکہ اس موضوع کے زمن میں کچھ ابتدائی معلومات شامل ہو سکیں۔</strong></strong></p>
<p><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnat_1.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-656" title="jinnat_1" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnat_1.gif" alt="" width="500" height="1030" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_2.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-657" title="jinnatjadoo_2" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_2.gif" alt="" width="500" height="1061" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_3.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-658" title="jinnatjadoo_3" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_3.gif" alt="" width="500" height="1061" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_4.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-659" title="jinnatjadoo_4" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_4.gif" alt="" width="500" height="1061" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_6.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-662" title="jinnatjadoo_6" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_6.gif" alt="" width="500" height="1061" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_7.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-663" title="jinnatjadoo_7" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_7.gif" alt="" width="500" height="1061" /></a><a href="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_8.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-664" title="jinnatjadoo_8" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/12/jinnatjadoo_8.gif" alt="" width="500" height="523" /></a><strong><strong></strong></strong></p>
<p><!-- ProPlayer by Isa Goksu --><div name="mediaspace" id="mediaspace"><div class="pro-player-container" width="550px" height="420px"><div id="pro-player-655pp-single-4fb714c1ec111"></div></div></div><script type="text/javascript" charset="utf-8">var flashvars = {width: "550",height: "420",autostart: "false",repeat: "false",backcolor: "111111",frontcolor: "cccccc",lightcolor: "66cc00",stretching: "fill",enablejs: "true",mute: "false",skin: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/skins/default.swf",logo: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/watermark.png",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",plugins: "",javascriptid: "655pp-single-4fb714c1ec111",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",file: 'http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/playlist-controller.php?pp_playlist_id=655pp-single-4fb714c1ec111&sid=1337398466'};var params = {wmode: "transparent",allowfullscreen: "true",allowscriptaccess: "always",allownetworking: "all"};var attributes = {id: "obj-pro-player-655pp-single-4fb714c1ec111",name: "obj-pro-player-655pp-single-4fb714c1ec111"};swfobject.embedSWF("http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/player.swf", "pro-player-655pp-single-4fb714c1ec111", "550", "420", "9.0.0", false, flashvars, params, attributes);</script><strong><strong></strong></strong></p>
<p><!-- ProPlayer by Isa Goksu --><div name="mediaspace" id="mediaspace"><div class="pro-player-container" width="550px" height="420px"><div id="pro-player-655pp-single-4fb714c2568c2"></div></div></div><script type="text/javascript" charset="utf-8">var flashvars = {width: "550",height: "420",autostart: "false",repeat: "false",backcolor: "111111",frontcolor: "cccccc",lightcolor: "66cc00",stretching: "fill",enablejs: "true",mute: "false",skin: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/skins/default.swf",logo: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/watermark.png",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",plugins: "",javascriptid: "655pp-single-4fb714c2568c2",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",file: 'http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/playlist-controller.php?pp_playlist_id=655pp-single-4fb714c2568c2&sid=1337398466'};var params = {wmode: "transparent",allowfullscreen: "true",allowscriptaccess: "always",allownetworking: "all"};var attributes = {id: "obj-pro-player-655pp-single-4fb714c2568c2",name: "obj-pro-player-655pp-single-4fb714c2568c2"};swfobject.embedSWF("http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/player.swf", "pro-player-655pp-single-4fb714c2568c2", "550", "420", "9.0.0", false, flashvars, params, attributes);</script><strong><strong></strong></strong></p>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%af%d9%88.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>چندمنٹ میں ذہنی دباو؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اورجسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%da%86%d9%86%d8%af%d9%85%d9%86%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%9b-%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%86%d8%9b-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%9b-%d8%aa.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%da%86%d9%86%d8%af%d9%85%d9%86%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%9b-%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%86%d8%9b-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%9b-%d8%aa.html/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 Nov 2009 17:37:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[صحت و تندرستی | Health]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[جواب]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[حسن]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[صلاحیت]]></category>
		<category><![CDATA[عبادت]]></category>
		<category><![CDATA[عقل]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[ممکن]]></category>
		<category><![CDATA[موقع]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[نظر]]></category>
		<category><![CDATA[نفرت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹینشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک]]></category>
		<category><![CDATA[چور]]></category>
		<category><![CDATA[چینل]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[یو ٹیوب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=537</guid>
		<description><![CDATA[چند منٹ میں ذہنی دباؤ؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اور جسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ نہ دوا کھانے کی ضرورت نہ بد اثرات کا خطرہ بیماری کے دوران... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%da%86%d9%86%d8%af%d9%85%d9%86%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%9b-%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%86%d8%9b-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%9b-%d8%aa.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%da%86%d9%86%d8%af%d9%85%d9%86%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%9b-%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%86%d8%9b-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%9b-%d8%aa.html/' addthis:title='چندمنٹ میں ذہنی دباو؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اورجسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align:center;color:darkgreen;direction:rtl;line-height:1.5;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:30px;"> چند منٹ میں ذہنی دباؤ؛ ٹینشن؛ ڈپریشن؛ تناو اور جسمانی درد سے آزادی کا حیرت انگیز طریقہ</span></span><br />
</strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:red;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong><strong>نہ دوا کھانے کی ضرورت نہ بد اثرات کا خطرہ</strong></strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkred;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"><strong> بیماری کے دوران انسان کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور ایک ہی طریقہ علاج پہ تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جو بھی طریقہ احسن ہو اور نقصانات کا خطرہ کم ہو اسکو اختیار کرنا چاہیے جبکہ ہر عمل اپنے طریقہ کار پہ وضع ہے اور شفایابی کیطرف لیجاتا ہے ۔ ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے کہ شفا صرف اللہ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے ۔ جبکہ قرآن کریم میں واضع طور پر بیان کیا گیا ہے کہ<br />
” اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو اللہ ہی مجھے شفا دیتا ہے ” الشعرا ء ۸۰</strong></span></span></p>
<p>[Youtube=http://www.youtube.com/watch?v=-7IStcHC44Y]</p>
<p style="text-align:justify;font-size:20px;line-height:1.5;direction:rtl;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"> ایک نظریہ کے مطابق انسانی جسم میں باءیو انرجی؛ توانائی احاطہ کئی ہوئے ایک دائیمی بہاو میں ہے جبکہ اس توانائی کو زندگی کی طاقت کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔اس توانائی کا بہاو جن راہوں سے ہو تا ہے انکو نصف النہار meridians کہا جاتا ہے اور انکی تعداد 41 بتائی جاتی ہے ۔ اگرانسانی جسم میں اس توانائی کا بہاو ان نصف النہار وں کے ذریعے سے انسانی جسم کے اندر اور باہربرابر یعنی متوازن رہے تو انسان صحت مندی کی حالت میں رہتا ہے ؛ بصورت دیگر اگراس بہاو میں کسی وجہ سے رکاوٹ آجائے تو اس سے متعلق عضو کا عمل متاثر ہو تا ہے اور انسان بیماری کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ لہذا انسانی جسم میں توانائی کے بہاو میں توازن رکھنے اور اسکی راہ میں حائل رکاوٹ کو ختم کرنے کیلئے کچھ جگہیں مخصوص کی گئیں ہیں جو کہ تقریباً چار سو سے پانچ سو کے قریب ہیں جن کو کسی خاص عضو سے متعلق تصور کیا جاتا ہے۔ ان مقامات پر دو علیحدہ طریق سے اثر انداز ہو جاتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ کچھ سوئیاں ان مقامات پر انسانی جسم کی اوپر والی جلد میں داخل کر دی جاتی ہیں جو کہتوانائی کے بہاو کا تسلسل دوبارہ معتدل کر دیتی ہے اور اس طریقہ کار کو آکو پنکچر کہتے ہیں اور اگر ان مقامات پر ہاتھ کی مدد سے دباؤ ڈالا جائے اور وہی مقاصد حاصل کئے جائیں تو اسے آکو پریشر کہتے ہیں۔ آکو پریشر میں ہاتھوں کی انگلیوں سے مدد لی جاتی ہے جن سے جسم پر ان اہم مقامات کو دبایا جاتا ہے جو کسی بھی بیماری سے متعلق عضو سے وابستہ ہوں جبکہ اسکے باعث جسمانی پٹھوں میں تناو اور بھی ختم ہوتا ہے اور دوران خون میں بھی روانی بھی آ جاتی ہے توانائی کا بہاو بھی معتدل ہو جاتا ہے۔ آکو پریشر میں دونوں ہاتھوں اور پاوں کے پوائنٹس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔) مگر پھر بھی یادرکھیں اس آکو پریشر کے کسی عمل کو کسی بھی سٹنڈرڈ طریقہ علاج کا مکمل متبادل تصور نہ کر لیں اور اگر کوئی بھی تکلیف برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع ضرور کریں۔<br />
جدت کی دوڑ میں اگر قدیم طریقہ کار اپنی مثال آپ رکھتا ہو تو اسکی افادیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی انسانی جسم کی الیکٹرونکس کے کرشماتی طریقہءعلاج میں ایک ٹیکنیک  EFT- Emotional Freedom Technique<br />
کا استعمال آج کل تقریبا پوری دنیا میںانتہائی افادیت سے کیا جا رہا ہے اور اسکے کرشماتی فوائد کاادراک تو مجھے استعمال کرتے ہی معلوم ہو گیا تھا البتہ آپ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ طریقہ کار کیلئے کسی خاص تربیت یا مہارت کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ کا عمل کرنے سے آپ اسکے طریقہ کار کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔<br />
ؑEFTایک ایسا طریقہ کار ہے جسکے باعث کوئی بھی انسان اپنی دن بھر کی تکان، بے چینی کے حالت، کسی بھی ذہنی یا جسمانی تناوءسے چھٹکارہ کیلئے آکو پریشر کے اصول پر جسم کے چند مخصوص مقامات کو تھپتھپانے کا عمل ہے جسکے نتیجہ میں انسانی جسم میں بہتی کرنٹ یعنی توانائی اپنے اعتدال کے مقام پر آجاتی ہے اور فوری طور پر افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل میں انسانی جسم کے آٹھ مقامات کو دونوں ہاتھوں کی چار چار انگلیوں کی ٹو سے تھپتھپایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کی افادیت کے باعث لا تعداد لو گ اس عمل کو روز مرہ کا معمول بنا چکے ہیں۔<br />
اس قدیم چینی طریقہ کار میں جو مقامات اس عمل بتلائے گئے ہیں انکی ترتیب کچھ یوں ہے:<br />
دونوں آنکھوں کی بھنوںسے اوپر ، آنکھ کے اوپرمگر درمیان میں<br />
دونوں آنکھوںسے نیچے مگر درمیان میں<br />
دونوں آنکھوں کے باہر کیطرف کناروں پر<br />
ناک کے بالکل نیچے ، ناک اور ہونٹ کے درمیان<br />
ٹھوڑی کے اوپر، درمیان میں شکن والی جگہ پر<br />
سینے پر جہاں یو شکل کی ہڈی ہے ، دونوں اطراف درمیان میں اوردو انچ نیچے کیطرف<br />
دونوںبازوں کے نیچے ،بگل سے تین انچ نیچے<br />
سر کے بالکل درمیان اور چوٹی پر<br />
ان مقامات کو ترتیب سے دونوں اطراف اور ایک ہی وقت میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی ٹو سے پانچ سے سات بار تھپتھپایا جاتا ہے ۔ اس عمل کو ایک سے زائد بار بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ اس کے نتیجہ میں کسی بھی غیر ضروری تناو سے نجات مل جاتی ہے ، دوا بھی نہیں کھانی پڑی اور افاقہ بھی حاصل البتہ کسی سائڈ افیکٹ کا خطرہ بھی نہیں البتہ آزمائش شرط ہے۔<br />
آئیے اس طریقہ کار کا عملی مظاہرہ کا ویڈیو ملاحظہ فرمائی</span></span></p>
<p>[Youtube=http://www.youtube.com/watch?v=J9GbCoU8mVc]</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%da%86%d9%86%d8%af%d9%85%d9%86%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%9b-%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%86%d8%9b-%da%88%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%9b-%d8%aa.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

