<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>UrduSky,SEO,Urdu NEWS,Best Poetry,SEO Training Urdu,News,اردوشاعری،ناول،ادب،اخبار،نیوز,Beauty Tips,Urdu Kahani,News Urdu,Language,Top 40,Shayari,Urdu phrases,tom and jerry,Urdu cartoon, اردو زبان, اردو ترجمہ،اردو لغت،کہانی،اردوسکائی,Pakistan News,Horoscope,Quran,Books, Jokes, Newspapers,Downloads,Hades, Islamic Names,Astrology,Digest,Ghazals,Cooking Recipes,Sahih Bukhari,Websites,Urdu translation, Stars,Fonts,Naat,Urdu Magazine,Health tips, Sports,Palmistry,InPage,Tafseer,Stories,kahaniyan, Poems,seo training urdu,Articles... Lots of Urdu-Stuff. &#187; مائنڈ سائنس | Mind Sciences</title>
	<atom:link href="http://www.urdusky.com/category/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdusky.com</link>
	<description>World&#039;s Leading &#38; largest Urdu Portal اردو اخبار،نیوز،میگزین,Urdu News,Urdu Poetry شاعری,SEO in Urdu,kahani کہانی,Novels,Dictionary,SEO Training in Urdu etc.</description>
	<lastBuildDate>Fri, 18 May 2012 13:25:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.2</generator>
		<item>
		<title>مراقبہ اور لذت آشنائی</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 19 Apr 2012 18:03:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کے عملی طریقے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=625</guid>
		<description><![CDATA[مراقبہ اور لذت آشنائی عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھاہ گہرائیوں میں جا... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/' addthis:title='مراقبہ اور لذت آشنائی '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align:center;color:blue;direction:rtl;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:30px;"> مراقبہ اور لذت آشنائی</span></span></strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkgreen;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے<br />
مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے</strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkgreen;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (51:21)<br />
اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ (51:21)<br />
As also in your own selves: Will ye not then see?‎ (51:21)<br />
</strong></p>
<div id="attachment_251" class="wp-caption alignleft" style="width: 123px"><strong><strong><strong><strong><img class="size-full wp-image-251" title="Muhammad Altaf Gohar" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/10/muhammad-altaf-gohar1.gif" alt="Muhammad Altaf Gohar" width="113" height="126" /></strong></strong></strong></strong><p class="wp-caption-text">محمدالطاف گوہر</p></div>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;color:darkred;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"><strong><strong>آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس کے دور میں تجربات سے یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ انسانی توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔</strong></strong></span></span></p>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong><strong><strong><strong>تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر</strong></strong></strong></strong></span></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;">مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے ، مراقبہ  اپنے ذہن کی نفی کا نام ہے کہ<br />
جب انسان اپنے ذہن اور علم کی نفی کرتا ہے، لا-کہتا ہے  تو اسکی توجہ اپنی میں ,خودی  سے ہمکنار ہوتی ہے؛  جبکہ میں اور شعوریت کے احساس کی نفی پر اسکی توجہ اپنے معبود کیطرف جاتی ہے اسطرح اپنی ذات سے آگاہی اور رب کی پہچان کیطرف گامزن ہوتی ہے۔آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس  کے دور میں تجربات سے  یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی  توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ  انسانی  توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔<br />
مراقبہ  ، جس کی انگریزی عام طور پر meditation کی جاتی ہے اور اگر اسی متبادل کو ہم پلہ برائے لفظِ مروجہ عربی ، فارسی اور اردو تسلیم کر لیا جائے تو پھر مراقبہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ؛ مراقبہ ایک ایسی عقلی تادیب (discipline) کا نام ہے کہ جس میں کوئی شخصیت ماحول کے روابطِ حیات سے ماوراء ہو کر افکارِ عمیق کی حالت میں چلی جائے اور اندیشہ ہائے دوئی سے الگ ہوکر سکون و فہم (awareness) کی جستجو کرے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکرِ آلودہ سے دور ہوکر فکرِ خالص کا حصول مراقبہ کہلاتا ہے۔<br />
اصطلاح میں مراقبہ، عربی لفظ رقب کی اصل الکلمہ سے مشتق لفظ ہے جس کے معنی بنیادی طور پر دیکھنے، توجہ دینے وغیرہ کے آتے ہیں اور اسی سے اردو میں راقب اور رقیب کے الفاظ بھی ماخوذ کیۓ جاتے ہیں۔ مراقبہ کا لفظ اس اصل الکلمہ کے اعتبار سے اپنے ذہن کی گہرائیوں میں دیکھنے یا اپنی عقل کو دیکھنے کے قابل بنانے کے تصور میں لیا جاسکتا ہے۔<br />
<strong>وضاحت</strong><br />
مراقبہ انسان کا اپنی حقیقی خودی ( Self-[میں]-ذات) کی طرف ایک گہرا سفر ہے جس میں ایک انسان اپنے اندر (باطن) میں اپنا اصلی گھر تلاش کر لیتا ہے آپ چاہے کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ ۔ کسی بھی مذہب اور روحانی سلسلہ سے منسلک ہوں مراقبہ سب کے لئے ایک جیسا عمل ہے مراقبہ آپکی توجہ ،آپکے باطن کی طرف لے جانے کا موجب بنتا ہے آپ کا ذہن اس طرح سے سکون پہ مقیم ہو جاتا ہے اس طرح آپکی توجہ بھٹکے ہو ئے شعور کی حدود سے نکل کر حقیقی مرکز سے مربوط ہو جاتی ہے ۔مراقبہ ذہن کی وہ طاقت ہے جو اسکو نورانی پہلو کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ باندھ دیتی ہے اس پہلو سے ذہن زندگی کا اعلی مقصد آشکار ہوتا ہے مراقبہ کو آپ &#8221; نورانی علم &#8221; سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ یہ نور کے چشمہ سے کام کرتا ہے ۔حقیقی مراقبہ کا راز صرف ذہنی تصور کے ساتھ منسلک ہے جو اسکی ابتدائی اور انتہائی سطحوں پر کام کر تا ہے ۔ مراقبہ علم کی وہ قسم ہے جو آپکی شخصیت ،روح اور ذات کو آپس میں یکجا کر دے اور سب کو ایک نقطہ سے مربوط کر کے کثرت و دوئی سے آزادی کا احساس پیدا کر دے ۔ مراقبہ ایک علمی تجربہ ہے جو ذہنی کشمکش سے خالی پن اور ظاہر ی زندگی کے مستقل نہ ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔مراقبہ ایک عملی نمونہ ہے زندگی کو قریب سے دیکھنے پر اسکے ظاہری نا پائداری کے احساس کا۔ مراقبہ کو آپ ایک ذہنی ورزش کا نام دے سکتے ہیں ۔جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں ۔جتنا زیادہ اس عمل کو کیا جائے اتنی زیادہ اس میں مہارت حاصل ہو گی ۔یہ اس طرح کا عمل ہے جیسے ایک باڈی بلڈر یا پہلوان جسمانی ورزش کے باعث مضبوط و خوبصورت بناتا ہے۔ مراقبہ کرنے کی عادت سے باطنی اعضاء کی ورزش ہوتی ہے اور وہ قابل استعمال ہو جاتے ہیں۔<br />
<strong>مراقبہ کا عمل اور تاریخ انسانی</strong><br />
اس زمین پر ظہور انسانی سے ہر دور کے لوگوں کا چند ایک سوالات سے واسطہ پڑتا رہا ہے جیسا کہ اس کائنات کا بنانے والا کون ہے ۔؟زمین پر زندگی کا آغاز کسیے ہوا ۔؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔؟ہم کیوں پیدا ہوئے اور کیوں مر جاتے ہیں۔؟آیا ان سب معا ملات کے پس پردہ کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے یا پھر سارا عمل خود بخود ہو رہا ہے ۔ہر دور کے لوگوں میں کائنات کے خالق کو جاننے کا جوش خروش پایا جاتا ہے (یہاں ایک اصول واضح کرتا چلو کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے جانچے ۔ یعنی تمام امکانات کا جائزہ لے) ا کثر اوقات دیانتداری سے مسئلہ کو حل کرنے کی کاوش خودبخود ہی مسئلہ کو آسان بنا دیتی ہے ۔لہذا انہی خطوط پر چلتے ہوئے لوگوں میں معاملات زندگی کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے ۔یہ جاننے کیلئے کہ اس کائنات کا خالق کو ن ہے ۔لوگوں نے اس کائنات (آفاق)کی تخلق سے متعلق تخلیق کرنا شروع کر دی۔ کائنات کے راز کو جاننے کیلئے مختلف روش اختیار کی گیں.<br />
لوگوں کے ایک گروہ نے بجائے اس کے کہ زندگی کی حقانیت کو آفاق میں تلاش کیا جائے خود انہوں نے ایک دوسری روش اختیار کی۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ ا گراس ظاہری کائنات کا کوئی خا لق ہے تو انکے وجود (جسم )کا بھی کوئی خالق ہو گا ؟ لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے ۔ اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د ( نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی۔ اس طرح انہوں نے آفاق سے ہٹ کہ مطالعہ نفس میں دلچسپی لی اور اپنی ذات پہ تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تا کہ اپنے اندر کے رازِ حقیقت کو سمجھا جائے اس طرح سے علم نورانی مذاہب کے سلسلے نے وجود پکڑا یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ تمام تجربات انسان کے اپنے (Software ) یعنی ذہن (MIND (پہ کئے گئے نہ کہ جسم پہ)۔<br />
لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہیں ، انہوں نے اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د (نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی اب ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے نفس کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا اور اپنے جسم و ذات پر یہ تحقیق شروع کر دی اور انہوں نے اپنی توجہ اپنے ا ند ر مرکوز کر دی جسکے نتیجہ میں نفوذ کرنے کے بہت سے طریقہ کار دریافت کیے تا کہ ا پنے اندر کا سفر کرکے اس اکائی (جز)کو تلاش کیا جا سکے جو کے انکو اس کائناتی حقیقت سے مربوط کرتا ہے ۔اس کوشش نے علم نورانی (علم مراقبہ) کے عمل کو تقویت دی ۔تمام طریقہ کار جو کہ مختلف طرح سے مراقبہ کے عمل میں نظر آتے ہیں وجود پائے۔ جس کا عمل دخل کم و بیش ہر مذہب کی اساس معلوم ہوتا ہے۔ آ ج مراقبہ کے عمل میں جو جدت اور انواع و اقسام کے طریقہ کار نظر آتے ہیں انہی لوگوں کے مرہون منت ہے جنہوں نے اپنے نفس کو تحقیق کیلئے چنا۔ ان تحقیقات اور مراقبہ کی مختلف حالتوں میں لوگوں نے محسوس کیا کہ اس سارے نظام عالم وجود میں شعوری توانائی کا نفوذ اور منسلکہ رشتہ ہے ۔مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود یعنی خودی ( میں،SELF)سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی (Supreme Consciousness) ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے۔ (یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ اس درجہ کے احساس خود شناسی پہ وحدت الوجود کا مغالطہ نہ ہو، اگلی کسی تحریر میں اس فلسفہ بھی بیان کردوں گا ) ۔ مراقبہ ایک عمل ہے جو اپنی گہری حالتوں میں کسی بھی شخص کیلئے وجود حقیقی سے روابط کا ذریعہ بنتا ہے.<br />
<strong>علم نورانی (مراقبہ)</strong><br />
مدتوں سے لوگ مراقبہ کو ایک انتہائی پرا سرار اور مشکل موضوع سمجھتے رہے ہیں ہمیشہ بڑے بوڑھے اور فار غ لوگوں کو اس کا حقدار سمجھا جاتا رہا ہے۔مراقبہ پر پوری دنیا میں سائنسی طریقہ کار کے تحت تجربات کر کے اخذ کر لیا ہے کہ اس عمل سے انسانی ذہن اور جسم پر انتہائی اعلی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں جس میں تعلیم و عمر کی کوئی قید نہیں اب کوئی بوڑھا ہو یا جوان سب ہی مراقبہ کی کرنے مے دلچسپی رکھتے ہیں مزید برآں اب تو سکول و کالج میں مراقبہ کی تعلیم کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے کم و بیش پوری دنیا میں مراقبہ کی تربیتی کلاسز کا اجراء ہو چکا ہے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور صحتی ادارے اپنے مریضوں کو روزانہ مراقبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مراقبہ جو کہ پہلے وقتوں میں صرف مذہب کا حصہ سمجھا جاتا تھا اب دنیاوی پیش قدمی کے علاوہ روز مرہ مسائل کے حل کے لئے بھی مرکزی حےثےت اختیار کر گیا ہے آج پوری دنیا میں ذہنی دباﺅ کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو آج کے وقت میں انتہائی میسر آلہ قرار دے دیا گیا ہے جوں جوں معاشرہ میں اسکی آگاہی بڑھتی جا رہی ہے نتیجہ میں انسانی بھائی چارہ اور عالمی اتحاد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب زیادہ لوگ مراقبہ کی بدولت ذاتی شناسائی حاصل کرتے جائیں گے انکو کائنات کی سچائی اور اصلیت کا قرب حاصل ہو گا اور نتیجہ عالمی بھائی چارہ وجود میں آئے گا۔<br />
<strong>عبادت اور مراقبہ میں فرق</strong><br />
عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی ا تھا ہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے اور کائنات کی حقیقت سے نا صرف سنا شا ہوا جاتا ہے بلکہ مشاہدہ ء قدرت بھی کیا جاتا ہے۔ مراقبہ کا نصب العین (مقصد)صرف اور صرف آپ کے جسم، جذبات ،اور ذہن کو یکجا کرنا ہے اور اس اعلی درجے کی یکسوئی کا مقصد صرف اپنے باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہے یہیں سے کشف و وجدان کے دھارے پھوٹتے ہیں ۔ اسطرح ایک انسان کا رابطہ کائنات کی اصل سے جڑ جاتا ہے اور علم و عر فان کے چشمے پھو ٹ پڑ تے ہیں ۔ کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اور انسان پستی کے گرداب سے نکل کر ہستی کے نئے میدان میں آ جاتا ہے جہاں ہر طرف بہار ہی بہار ہے ۔بہار بھی ایسی کہ خزاں نہیں ہوتی اور سوچ انسانی آسمان کی بلندی کو چھوتی ہے اور لذت بھی ایسی<br />
ع کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے<br />
یہی زندگی کا موسم بہار ہے جسکے آ جانے کے بعد ہر طرف کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور انسانی سوچ کا سفر ایک نئی سمت گامزن ہو جاتا ہے۔ جسکے سامنے ایک وسیع و اریض میدان عمل ہے اور یہاں کی سلطنت میں صرف آج کی حکمرانی جبکہ گذشتہ کل کی کسی تلخی کا دکھ نہیں اور آنے والے کل کی خوشیوں کا دور دورہ ہے۔یہاں لذت و سرور کا وہ سماں ہے جو کہ دنیا کے کسی نشے میں نہیں ۔ اور خواب حقیقت کے روپ میں بدل جاتے ہیں جبکہ زندگی سوچوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں دھکے کھانے کے بجائے روشن اور وسیع میدانوں میں سفر کرتی ہے۔اب اسکا سفر کوئی سڑاند والا جوہڑ نہیں کہ جس میں وہ غوطے کھائے بلکہ ایک بحربیکراں جسکے سفینے صرف کامیابی ،خشحالی اور سکون کی منزل تک لے جاتے ہیں۔<br />
<strong>نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) اور مراقبہ</strong><br />
درحقیقت آپ صرف ایک احساس خودی (Self) ہیں۔ اور یہ حس آگاہی ہے نہ کے آپکا ذہن، جسم یا پھر خیالات بلکہ اس مکمل شعوریت (خودآگاہی) ہیں جوکہ محسوس کرتی ہے۔ اور شاہد بنی ہوئی ہیں کہ آپ زندگی میں کیا رول ادا کر رہے ہیں۔ یہ احساس خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والا ،از سرنو زندگی بخشنے والا ہے۔ مراقبہ ایک خودی (Self )کو اپنے اندر جاننے کا عمل ہے۔ اس موقع پہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد یہ کس طرح جان سکتا ہے کہ اس کے اندر خودی (Self ) موجود ہے جوان تمام واقعات و حالات کا مشاہدہ کر رہی ہے جو ہمارا ذہن یا جسم اس زندگی میں کر رہا ہے۔ یہ بات یہاں تک واضح ہوگئی کہ مراقبہ ایک ایسا عمل ہے۔ جو ہمیں اپنے اندر موجود خودی (Self) سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والی اور از سرنو زندگی بخشنے والی ہے۔ لہٰذا ہم چاہیں گئے کہ مراقبہ کو سمجھنے کیلئے ہم سب سے پہلے اپنے اندر موجود خودی (Self) کو جانیں۔آپ اس خودی کو اور بھی نام دے سکتے ہیں۔ مثلاً، نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) وغیرہ آئیے اب ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں جو انتہائی دلچسپی کا حامل ہے اور آپ کے لئے اس (میں ) سے شناسا ئی کا ذریعہ بنے گا۔<br />
<strong>میں(Self) کا انسانی وجود سے تعلق</strong><br />
”آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کوئی ایک لفظ، کسی کا نام یا اللہ کا نام 25 مرتبہ اپنے ذہن میں دہرائیں مگر گنتی دل ہی دل میں ہونی چاہیے مگر گنتی کرتے ہوئے ذہن میں کوئی اور خیال نہیں آنا چائیے اور اگر گنتی میں کوئی غلطی ہو تو دوبارہ سے گنتی شروع کردیئے۔ مگر گنتی ذہن میں ہی رہے ناکہ ہاتھوں یا انگلیوں پہ“ اس تجربہ کے کرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ25 مرتبہ ایک لفظ اپنے ذہن میں گنتے رہے ہونگے اور خیال بھی ذہن میں آتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہے کہ چند خیالات ذہن سے گزرے ہوں۔ یا پھر پہلی کوشش ناکام ہو گئی ہو اور کئی مرتبہ اس تجربہ کو کرنا پڑا ہو تو پھر جا کر 25 مرتبہ کی گنتی پوری ہوئی ہو یا پھر خیالات بھی آ رہے ہوں اور گنتی بھی جاری رہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ نہ کر پائے ہوں کہ آپ 25 مرتبہ کوئی ایک لفظ دہرائیں اور کوئی خیال بھی ذہن میں نہ آئے ۔<br />
<strong>مراقبہ اور ذات (Self ) سے شناسائی</strong><br />
معاملہ کچھ بھی، تجربہ کچھ بھی ہو، بات حقیقت ہے کہ آپ اپنے اندرونی خودی (Self ) کے وجود کا انکار نہ کرپانیں گے۔ کیونکہ جب آپکا ذہن گنتی میں مصروف تھا تو وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن سے خیالات گزر رہے ہیں؟وہ کون تھا جو ایک ہی وقت میں مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن میں خیالات بھی آ رہے ہیں اور گنتی بھی ہورہی ہے؟ کیونکہ آپ کا ذہن کو یقیناً گنتی میں مصروف تھا۔یقیناً آپ کہیں گے کہ وہ میں تھا جو دیکھ رہا تھا کہ کوئی خیال ذہن میں آ رہا ہے اور گنتی بھی صحیح ہو رہی ہے۔ وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا؟ آپ کا جسم یا پھر آپ کا ذہن؟ یا پھر آپ خود؟ اگر آپ یہ سارا عمل دیکھ رہے تھے تو آپ کو اپنے ذہن اور جسم سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ جی ہاں! دراصل یہ حس آگاہی ہی تو خودی (Self-I) ہے جو آ پکو اپنے خیالات تصورات سے آگاہ کرتی اور صرف اور صرف خودی (Self-me) ہی ہے جو آ پکو بتلاتی ہے کہ ا پکے اندر اور باہر کیا ہو رہا ہے؟ کہاں ہو رہا ہے ؟ و دیگر سے آگاہی کا سبب بنتی ۔ اس جاننے والے کو جاننے کا عمل ہی مراقبہ ہے۔ مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے .<br />
خیر اندیش<br />
محمد الطاف گوہر-لاہور<br />
(یہ تحریر روزنامہ نوائے وقت میں 10اکتوبر2008 اشاعت خاص؛ چند اقساط میں شائع ہوئی۔ اسکے بعد وکیپیڈیا کی زینت بنی جبکہ وکیپیڈیا کی ایڈمن کے اپنے خیالات بھی اس میں بشمول ہیں جن سے میرا اختلاف وضاحت سے شامل ہے ؛ حقیقت سو پردوں میں بھی حقیقت ہی رہتی ہے البتہ اس کے بیان کرنے والے اپنے اپنے درجے پر علم کے مطابق وضاحت کرنے میں اختلاف رکھتے ہیں جبکہ میری تحاریر زیادہ تر عملی اور متحرک زندگی کیطرف نشاندہی ہے ناکہ فقط علمی بحث اور فلسفہ جو کہ کسی بھی نتیجہ پر لیجانے کی بجائے الجھنیں پیدا کرے ؛ یہ تحریر اب آپکی خدمت میں پیش کی گئی ہے ؛ تحقیق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس پر بحث عام نہ ہو، میرا بلاگ لکھنے کا مقصد اپنے خیالات آپ تک پہنچانا ہے اور اپنی اصلاح ہے  ؛ آپکی آرا کا انتظار رہے گا ۔۔۔ یہ مضمون میری زیر طبع کتاب &#8221; لذتِ آشنائی&#8221; کا ایک باب ہے)</span></span></p>
<p><strong> </strong><br />
<!-- AddThis Button BEGIN --></p>
<div style="text-align:center;"><a title="Bookmark and Share" href="http://www.addthis.com/bookmark.php?v=250&amp;pub=xa-4ae5780b49afec7b" target="_blank"><img src="http://s7.addthis.com/static/btn/v2/lg-share-en.gif" alt="Bookmark and Share" width="125" height="16" /></a></div>
<p><!-- AddThis Button END --></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%82%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تیری دنیا نہ میری دنیا !!! لذتِ آشنائی</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 08 Feb 2012 17:01:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم و تربیت | Learning]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[جوانی ہے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=1065</guid>
		<description><![CDATA[تیری دنیا نہ میری دنیا !!! لذتِ آشنائی اپنے ہی اندر کوئی عذاب میں مبتلا ہے اور کوئی سکون کی لذت سے مالامال ہے اس دنیا کی ہر چیز تبدیل... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/' addthis:title='تیری دنیا نہ میری دنیا !!! لذتِ آشنائی '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue; direction: rtl;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;">تیری دنیا نہ میری دنیا !!! لذتِ آشنائی</span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq; text-decoration: blink;"><strong>اپنے ہی اندر کوئی عذاب میں مبتلا ہے اور کوئی سکون کی لذت سے مالامال ہے</strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> اس دنیا کی ہر چیز تبدیل ہوتی ہے ہمارے نظریات تبدیل ہوتے ہیں، ہماری ذات، اردگرد کا ماحول ملک خاندان غرض ہر شے تبدیل ہوتی ہے مگر یہ مشاہدہ کرنے والی اکائی میں (خودی &#8211; SELF ) کبھی تبدیل نہیں ہوتی بلکہ شہادت دیتی ہے کہ اب بچپن ہے اور یہ جوانی ہے اور یہ بڑھاپا ہے ہر چیز پہلے اسطرح تھی اور اب اس طرح ہو گئی غرض ہمارے اندر سے اس دنیا کی ہر تبدیلی پہ یہ اکائی (میں -Self) شہادت دینے والی بن جاتی ہے۔ </span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkgreen;">
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkred;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;">تخلیق کا خاصہ ہے کہ وہ ان طاقتوں کو (جو ایک دوسرے کیلئے قربت کا مزاج رکھتی ہوں)ایک خاص نسبت (ترکیب)پہ ملا کر ایک نئی چیز معرض وجود میں لاتی ہے</span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong><strong><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></strong></strong></strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;"> ہر دور میں مختلف افراد اپنی بساط کے مطابق ’میں‘(SELF )کی تلاش میں نکلے، کسی نے کہا ’کی جاناں میں کون؟‘اور کوئی ’ان الحق‘ کا نعرہ لگا کر چلا گیا کسی نے خودی کا تصور دیا۔ غرض ہر نظر نے اپنے اپنے زاوئیے سے دیکھا اور جو دیکھا خوب دیکھا ۔<br />
ہر شے کو دیکھنے کے360 زاوئیے ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر زاویہ ٹھیک ہو مگر ایک زاویہ ضرور حقیقت بتلاتا ہے۔ زاویہ، نظریہ، ترکیب بہر حال ایک تو ضرور ایسی ہوتی ہے جو حقیقت شناسا ہوتی ہے۔<br />
اگر ہائیڈروجن گیس کے دو حصے اور آکسیجن کا ایک حصہ ملایا جائے تو نتیجتاً پانی بنے گا مگر ان دونوں گیسوں کو اور کسی بھی ترکیب سے ملایا جائے پانی نہیں بنے گا چاہیں کروڑوں طریقے آزمائے جائیں۔ یعنی ایک ہی زاویہ یا ترکیب کسی حقیقت کی غمازی کرتی ہے وگرنہ دوسری ساری تراکیب و طریقے (زاوئیے، نقطہ نظر)سوائے گمراہی اور وقت کے ضیاع کے اور کچھ نہیں۔<br />
تخلیق کا خاصہ ہے کہ وہ ان طاقتوں کو (جو ایک دوسرے کیلئے قربت کا مزاج رکھتی ہوں)ایک خاص نسبت (ترکیب)پہ ملا کر ایک نئی چیز معرض وجود میں لاتی ہے۔ جیسے قدرت کے رازوں میں سے ایک راز واضح کرتا چلوں کہ قدرت کس طرح عدم (غائب) سے کسی چیز کو ظاہر وجود میں لاتی ہے۔ یعنی ہائیڈروجن اور آکسیجن <a href="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/02/لذت-آشنائی.jpg"><img class="alignleft size-full wp-image-16727" title="لذت آشنائی" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/02/لذت-آشنائی.jpg" alt="لذت آشنائی" width="450" height="680" /></a>نظر نہ آنے والی گیسیں ہیں مگر جب دونوں ایک خاص ترکیب (H20) کی نسبت کے ساتھ ملتی ہیں تو ایک نئی چیز (پانی ) وجود میں آتا ہے جوکہ ایک جدا گانہ خاصیت رکھتا ہے اور دیکھا اور چکھا بھی جا سکتا ہے۔<br />
اس دنیا کو ہم اپنی اپنی نظر اور زاویہ سے دیکھتے ہیں۔ اور جو اخذ کرتے ہیں وہ ہماری اندر کی دنیا کا عکس ہے۔ ورنہ باہر کی دنیا ایک ہی ہے مگر نقطہ نظر اور تجربات زندگی مختلف۔ کوئی خوش ہے اور کوئی غمگین کسی کو دنیا (زندگی ) حسین و دلفریب نظر آتی ہے اور کسی کو خاردار جھاڑی یعنی ہر کوئی دنیا کے بارے میں اپنا علیحدہ ہی نقطہ نظر رکھتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ’میں ڈوبا تو جگ ڈوبا‘ یعنی ایک دفعہ ایک شخص پانی میں ڈوب رہا تھا۔ اس نے شور مچایا کہ مجھے بچاﺅ دونہ تمام یہ دنیا (جگ) ڈوب جائے گی۔ لوگوں نے اسے بچا کر کنارے پر پہنچایا اور پوچھا کہ یہ بات تو ٹھیک کہ تم ڈوب رہے تھے مگر یہ کیا بات ہوئی کہ اگر میں ڈوبا تو جگ ڈوبا؟ وہ شخص بولا بھئی اگر میں ڈوب کر مر جاتا تو میرے لئے تم سب مر گئے تھے نا یعنی میرے لئے تو دنیا ختم ہوگئی تھی “<br />
اس مثل میں کتنی بڑی حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ ہر فرد کی اپنی دنیا اور اپنا زندگی کا تجربہ ہے۔ اب اندر کی دنیا بھی کئی منزلہ عمارت کی مانند ہے جسے ہم بچپن سے لے کر مرنے تک تعمیر کرتے ہیں اور اس کی منزلوں میں نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ہم میں سے کچھ لوگ تو اس عمارت کی بیسمنٹ میں رہتے ہیں کچھ گراونڈ فلور پر اور کچھ سب سے اوپر والی منزل پر۔ آپ اندازہ کریں کہ جو شخص اس کئی منزلہ عمارت کی بیسمنٹ میں رہتا ہو جہاں حشرات الارض (کیڑے مکوڑے) اور بدبودار ماحول ہے اسکو کس طرح سے اندازہ ہو سکتا ہے اس شخص کی زندگی کے بارے میں جو سب سے اوپر والی منزل میں رہتا اور قدرت کے نظارے ، صبح سورج طلوع ہونے کا منظر ، بادلوں کا آنا جانا ، غروب ہونا کا منظر وغیرہ دیکھتا ہے۔ غرض اپنے ہی اندر کوئی عذاب میں مبتلا ہے اور کوئی سکون کی لذت سے مالامال ہے۔<br />
یعنی یہ کئی منزلہ عمارت ہمارے اپنے اندر (ذہن ) میں بنے ہوئے ماحول (Mind Set ) ہیں جن میں ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں اور کبھی تکلیف نہیں کرتے کہ اسکے بارے میں معلوم کریں؟ بچن سے اب تک جو کچھ ہم دیکھتے آئے ہیں، سنتے آئے میں سب کا سب ہمارے ذہن کا حصہ بن چکا ہے مگر اس سب کو ہم باہر سے اندر غیر جانب دار ہو کر ریکارڈ نہیں کرتے بلکہ اپنے عقیدہ (Belief System)کے تحت مرضی کی اشیاء اپنے ذہن کا حصہ بناتے ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے ذہن میں شاندار طریقے سے ریکارڈ ہو جاتا ہے۔ ہم تہہ در تہہ اس کو ذخیرہ کرتے رہتے ہیں اور یہ سب ہماری زندگی پہ براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔<br />
میں، خودی (SELF ) ہر فرد کے اندر سے اس دنیا ( زندگی )کی ہر چیز کا مشاہدہ کررہی ہے؟ اس دنیا کی ہر چیز تبدیل ہوتی ہے ہمارے نظریات تبدیل ہوتے ہیں، ہماری ذات، اردگرد کا ماحول ملک خاندان غرض ہر شے تبدیل ہوتی ہے مگر یہ مشاہدہ کرنے والی اکائی (میں &#8211; SELF ) کبھی تبدیل نہیں ہوتی بلکہ شہادت دیتی ہے کہ اب بچپن ہے اور یہ جوانی ہے اور یہ بڑھاپا ہے ہر چیز پہلے اسطرح تھی اور اب اس طرح ہو گئی غرض ہمارے اندر سے اس دنیا کی ہر تبدیلی پہ یہ اکائی (میں Self) شہادت دینے والی بن جاتی ہے۔</span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اِنسان اورتخلیقِ کائنات</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%a7%d9%90%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%a7%d9%90%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa.html/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 21 Jan 2012 05:01:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[لذت آشنائی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[ممکن]]></category>
		<category><![CDATA[موقع]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=636</guid>
		<description><![CDATA[اِنسان اورتخلیقِ کائنات ہم اِس کارخانہ قدرت کے شاہکار ہیں اِس کائنات کی تمام مخلوق ہمارے لیے سربستہ ہاتھ باندھے (مسخرہونے کو) کھڑی ہے کہ جیسے الہ دین کے چراغ... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%a7%d9%90%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%a7%d9%90%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa.html/' addthis:title='اِنسان اورتخلیقِ کائنات '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: darkblue; direction: rtl; line-height: 1.5;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> اِنسان اورتخلیقِ کائنات </span></span><br />
</strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: darkgreen; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong>ہم اِس کارخانہ قدرت کے شاہکار ہیں اِس کائنات کی تمام مخلوق ہمارے لیے سربستہ ہاتھ باندھے (مسخرہونے کو) کھڑی ہے کہ جیسے الہ دین کے چراغ والا جن اپنے آقا کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے اور اس کے کسی بھی حکم کو بجا لانے کیلئے تیار ہے۔ مگر ہمارے اندر اِتنی سکت کہاں کہ ہم اِس ”جن“ کو قابو میں کر لیں۔ اِن تمام طاقتوں پہ حاوی ہونے کی کنجی (Key) کسی بھی جن یا دیو کے پاس نہیں بلکہ ایک اِنسان کی دسترس میں ہے جو ”لذت آشنائی“ سے سرشار ہے</strong></strong></p>
<p style="text-align: justify; font-size: 20px; line-height: 1.5; direction: rtl;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر:محمد الطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;">زندگی کے لمحے نہ گنو بلکہ لمحوں میں زندگی تلاش کرو کیونکہ یہ تو وہ شمع ہے جو اِک بار جل جائے تو بجھتی نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ دیے سے دیا جلائے بٹتی (Travel) چلی جاتی ہے۔ یہ روشن چراغ اگرچہ تمام دنیا کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے مگر اپنے اِرد گرد اندھیرا بھی نہیں ہونے دیتے۔ خودی (میں، Self) کا دیا تو عاجزی کی لو سے روشن ہوتا ہے۔ بلندوبالا پہاڑیوں کی کھوکھ سے جنم لینے والے ہزاروں، لاکھوں چشمے، ندیاں، نالے اور دریا آخر سمندر کی گود میں اپنا وجود کھو دیتے ہیں کیونکہ سمندر انکے مقابلے میں ہمیشہ پستی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔<br />
ہم سیل رواں پر بہتے ہوئے کائی کے تنکے نہیں کہ حالات کی موجوں کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پہ رہیں اور جانے کب کوئی انجانی موج اُڑے اور اُٹھا کر کہیں پھینک دے یا پھر حالات کے گرداب میں پھنس کے اپنا وجود کھو بیٹھیں بلکہ ہم تو کامیابی اور سکون کے وہ سفینے ہیں جو عافیت کی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ ہم موت کے منہ میں ایک اور نوالہ نہیں ہیں بلکہ ہم تو وہ جلتی شمعیں ہیں جو دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشنی بانٹتی چلی جا رہی ہیں اور جہالت کی تاریکی کے سامنے ہم تو وہ چراغ ہیں جو دُنیا کو سورج کی طرح روشن نہ کر سکے مگر اپنے ارد گرد کو تو روشن رکھتے ہیں اور ہم تو وہ ٹھنڈی چھاﺅں ہیں جو تپتی دھوپ میں سایہ بنتے ہیں۔ ہم وہ جوہڑ نہیں ہیں جو زندگی کو فنا کا درس دیتے ہیں اور بقا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ ہم تو علم و فن کے وہ چشمے ہیں جو زندگی کو بقاءکا درس دیتے ہیں جہاں سے ہر کوئی سیراب ہوتا ہے مگر یہ سب کچھ اِسی وقت ممکن ہے کہ جب ہمارے اندر خودی (میں، Self) کا دیا جلتا ہے اور ہمارا رابطہ ازل سے جڑ جاتا ہے۔<br />
اس کائنات میں کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی واقعہ حادثہ ہوتا ہے بلکہ ہر شے خاص مقصد کیلئے ہے اور ہر واقعہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے جبکہ ہماری سوچنے کی طاقت ہمارے معاملاتِ زندگی کے لیے ہدایتکار (Director) کا درجہ رکھتی ہے اور جو خیال ذہن میں ایک مرتبہ پیدا ہو جاتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا جبکہ وہ اپنی قوت اور مماثلت کے حساب سے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ قلم جس سے میں لکھ رہا ہوں اور یہ پنکھا جس کی ہوا میں میں بیٹھا ہوں اور وہ کرسی جس نے مجھے بیٹھنے کی سہولت دی ہے<img class="alignright size-medium wp-image-16262" title="Pyramids-of-giza" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/01/Pyramids-of-giza-300x225.jpg" alt="" width="300" height="225" /> اور وہ میز جس کے مرہون منت اِس تحریر کو لکھنے کی معاونت مل رہی ہے اور وہ بلب جس کی روشنی میں مجھے سب کچھ دکھائی دے رہا ہے اور یہ کاغذ جس پہ میں لکھ رہا ہوں اِن میں سے کوئی بھی بے مقصد نہیں بلکہ ہر شے اپنا مقصد پورا کر رہی ہے۔ اِن میں سے اگر کوئی بھی ایک شے اپنا مقصد پورا نہ کرے تو ہم فوراً اِس کو ردی کی ٹوکری یا کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیں گے کیونکہ جو اپنے مقصد سے ہٹ جائے وہ ہمارے لیے بے کار ہے۔ اب اگر قلم (Pen)میں سیاہی ختم ہو جائے یا میز کی ٹانگ ٹوٹ جائے یا پھر پنکھا ہوا دینا بند کر دے یا بلب روشنی دینا بند کر دے (Fuse) تو کیا خیال ہے اِن کو ہم ایک لمحہ مزید برداشت کریں گے؟ جی ہاں ایک لمحہ بھی نہیں کیونکہ اِس سے ہماری روانی میں خلل آتا ہے اور ہمارے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو بھی چیز (چاہے وہ بے جان ہی کیوں نہ ہو) اگر اپنے کام اور مقصد سے ہٹ جائے گی تو وہ بالکل بے کار اور بے مقصد ہو جائے گی اور ہم اِسے ضائع کر دینا پسند کرتے ہیں، تو کیا خیال ہے ہم بغےر کسی مقصد کے پیدا ہوئے ہیں؟ ہم جو اِس کارخانہ قدرت کے عظیم شاہکار ہیں کِس کام پر لگے ہوئے ہیں، آیا ہم کارآمد ہیں یا بے کار ہو چکے ہیں؟اگر بے کار ہو چکے ہےں تو قدرت نے ابھی تک ہمیں ردی کی ٹوکری میں کیوں نہیں پھینکا؟<br />
قدرت نے کائنات کی ہر شے ہمارے لیے تخلیق کی ہے جس طرف بھی نظر دوڑائیں کائنات کی ہر شے آپکے آپنے لیے نظر آئے گی او ر اپنے وجود کے ہونےکا مقصد کو پورا کر رہی ہوگی۔ پھولوں میں خوشبو ہمارے لیے ہے اور پھلوں میں رس ہمارے لیے ہے، آبشاروں کے گیت ہمارے لیے ہیں، سرسبز و شاداب پہاڑوں کی بلند چوٹیاں جو دلفریب نظارہ پیش کرتی ہیں وہ بھی ہمارے لیے ہیں حتیٰ کہ کائنات کی سب مخلوق (Creature) ہمارے لیے مسخر کر دی گئی ہے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کِس لیے ہیں۔ کائنات کی ہر شے دوسروں کے فائدے کیلئے ہے (نہ کہ اپنے لیے) جبکہ ہر چیز دوسروں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور ہمیں درس دیتی ہے کہ ہم اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے پیدا کیے گئے ہیں ۔ ازل سے ادیانِ عالم اِس کا درس دیتے آئے ہیں کہ ہمیں دوسروں سے روابط کس طرح رکھنا ہے اور انکے لئے کس طرح فائدہ مند ہونا ہے اور لوگوں میں رہتے ہوئے زندگی کس طرح گزارنی ہے، وگرنہ اگر انسان نے اکیلئے جنگل میں رہنا ہوتا پھر اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے سب کے ساتھ اِن روابط سے رہنا ہے جن کے باعث ایک صحت مند معاشرہ جنم لے اور زندگی کے ثمرات بحیثیت مجموعی حاصل کرنے ہیں ورنہ ایک شخص کی زندگی کے ثمرات اُس کیلئے بے معنی ہےں جب تک کہ وہ دوسروں کو اِس میں شامل نہ کرے۔ ہم کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں؟<br />
طوفانوں سے لڑو تند لہروں سے اُلجھو<br />
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے<br />
آپ اگر گھڑی کو سامنے رکھ کر بیٹھ جائیں اور وقت کا گزرنا ملاحظہ کریں تو یقینا آپ گھنٹوں بھی بیٹھیں رہیں گے مگر آپ کو گھنٹوں اور منٹوں والی سوئیاں ساکن نظر آئیں گی جبکہ وقت گزرتا رہے گا یہ برف کی طرح پگھلتی زندگی کے ماہ سال صرف کسی اچھے وقت کے انتظار میں نہ گزار دیں بلکہ وہ لمحہ جو ہمیں بیدار کرتا ہے دراصل اِسی میں زندگی ہے اور باقی وہ لمحے اور پل ہیں جو ہمیں نیم خوابیدہ کرتے ہیں اور یہ وہ خود رو سلسلہ زندگی ہے کہ جہاں وقت کو ضائع کر رہے ہیں، وقت کو ہم اِسی طرح قید (Save) کر سکتے ہیں کہ اپنے پل زندگی کے بیدار لمحوں سے سیراب کردیں۔<br />
پانی قدرت کا حسین تحفہ اور عطیہ ہے اور اسکا سفر کتنا دلچسپ ہے کہ ہلکا ہو تو آکاش کی طرف سفر کرتا ہوا ہواﺅں کو آبیار (Pregnent) کرتا ہے، کبھی تو بادل بن کے آسمان پر چھا جاتا ہے اور پھر رحمت بن کے زمین پہ برستا ہے،اور کبھی آلودہ فضا کی غلاظتوں کو سمیٹتا ہے تو کبھی پھولوں پہ شبنم بن کے موتیوں کی طرح چمکتا ہے اور کبھی آبشار بن کے موسیقی کا سامان مہیا کرتا ہے اور کبھی برف بن کے پہاڑوں کی چوٹیوں پہ دمکتا ہے مگر زمین پہ ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف بہتا ہے اور اگر اِس کے بہاﺅ کو پابند کر دیا جائے (حدوں میں، Boundries) تو ندی، نالوں اور دریاﺅں کی طرح بہتا ہے اور کبھی چشمہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے پھر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ اگر حدوں میں رہے تو اس کے باعث طاقت پکڑتا ہے۔ اگر ایک طرف ہمارے لیے آبپاشی کا سامان مہیا کرتا ہے تو دوسری طرف اس سے بجلی بھی بنائی جاتی ہے۔ اور اِسی طرح اس کا آدھا سفر ایک سمندر میں مدغم ہونے پہ مکمل ہو جاتا ہے جبکہ سورج کی تپش اسے مشتعل کرتی ہے اور پھر یہ بھاپ بن کر ہوا کے بازوﺅں پہ بلند و بالا پہاڑوں کا سفر کرتا ہے اور پہاڑوں کی ننگی چوٹیوں کو سفید مخمل غلاف (برف) سے ڈھانپ دیتا ہے۔ مگر ایک بار پھر اچانک دھوپ کی تپش اِسے تھپکی دیتی ہے اور یہ پھر رخت سفر باندھ لیتا ہے اور ہواﺅں کے دوش پہ سوار میدانوں کا رُخ کرتا ہے اور خطہءزمین پہ رحمت بن کے برستا ہے اور بنجر زمین اس کے دم سے سونا اُگلنے لگتی ہے۔<br />
قدرت نے پانی کی فطرت میں بہنا لکھا ہے اگر اِسے بہنے کا موقع نہ ملے تو تالاب اور جوہڑ کی شکل میں رُک جاتا ہے اور یہیں اِس میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے جو زندگی کو فنا کا درس دیتی ہے۔ اور اگر اِس کے بہاﺅ میں حدیں نہ رہیں تو اپنی لامحدود طاقت و طغیانی کے باعث سیلاب کی شکل میں میدانوں میں دندناتا پھرتا ہے اور کسی سرکش حیوان کی طرح ایک بار پھر زندگی کو فنا کی طرف بہا لے جاتا ہے جبکہ حدوں میں بہتے ہوئے زندگی کو بقا دیتا ہے مگر حدوں کو توڑنے میں اور رُکنے میں فنا سے روشناس کرواتا ہے۔ اس کا یہ سفر ازل سے اِس کی گتھی میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ اپنے سفر میں رواں دواں ہے (Automatic)۔ قدرت نے انسان کے اندر اور باہر پانی کا انتہائی اعلیٰ تناسب رکھا ہے جبکہ زمین تین حصے پانی اور ایک حصہ خشکی سے مرکب ہے اور یہ خشکی کا خطہ پانی کی سطح پر تیرتا پھرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی جگہ بدلتا ہے، اگر دُنیا کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اندازہ ہو گا جہاں پہلے کبھی سمندر تھے وہاں خشکی کا بسیرا ہے اور جہاں پہلے خشکی کا خطہ تھا وہ اب سمندرکا مسکن ہے۔ یہ معاملہ کچھ بھی عجیب نہیں یہ سب کچھ ہمارے لیے بنا ہے کیونکہ ہم اِس کارخانہ قدرت کے شاہکار ہیں اِس کائنات کی تمام مخلوق ہمارے لیے سربستہ ہاتھ باندھے (مسخرہونے کو) کھڑی ہے کہ جیسے الہ دین کے چراغ والا جن اپنے آقا کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے اور اس کے کسی بھی حکم کو بجا لانے کیلئے تیار ہے۔ مگر ہمارے اندر اِتنی سکت کہاں کہ ہم اِس ”جن“ کو قابو میں کر لیں۔ اِن تمام طاقتوں پہ حاوی ہونے کی کنجی (Key) کسی بھی جن یا دیو کے پاس نہیں بلکہ ایک اِنسان کی دسترس میں ہے جو ”لذت آشنائی“ سے سرشار ہے۔ قدرت نے تمام کی تمام کائنات ہمارے تسخیر کرنے کیلئے بنائی ہے مگر ہم لذت کے جھوٹے اور چھوٹے چھوٹے کھلونوں سے دل بہلا رہے ہیں۔</span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%a7%d9%90%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہپناٹزم ؛ ترغیب ایک انسانی چور دروازہ</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%db%81%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%b9%d8%b2%d9%85-%d8%9b-%d8%aa%d8%b1%d8%ba%db%8c%d8%a8-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%81.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%db%81%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%b9%d8%b2%d9%85-%d8%9b-%d8%aa%d8%b1%d8%ba%db%8c%d8%a8-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%81.html/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 19 Jan 2012 17:01:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور دور جدید]]></category>
		<category><![CDATA[صحت و تندرستی | Health]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرار علوم]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=551</guid>
		<description><![CDATA[ہپناٹزم ؛ ترغیب ایک انسانی چور دروازہ!!! انسانی ذہنوں کی ارادی قوت کو اپنی مرضی کے مطابق ردعمل میں تبدیل کرنے والی صلاحیت کے بل بوتے بہت سے لوگوں نے... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%db%81%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%b9%d8%b2%d9%85-%d8%9b-%d8%aa%d8%b1%d8%ba%db%8c%d8%a8-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%81.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%db%81%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%b9%d8%b2%d9%85-%d8%9b-%d8%aa%d8%b1%d8%ba%db%8c%d8%a8-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%81.html/' addthis:title='ہپناٹزم ؛ ترغیب ایک انسانی چور دروازہ '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: darkgreen; direction: rtl; line-height: 1.5;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> ہپناٹزم ؛ ترغیب ایک انسانی چور دروازہ!!!</span></span><br />
</strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong>انسانی ذہنوں کی ارادی قوت کو اپنی مرضی کے مطابق ردعمل میں تبدیل کرنے والی صلاحیت کے بل بوتے بہت سے لوگوں نے دنیا پر حکمرانی کی ہے جبکہ آج کے میڈیا کا ہتھیا ر بھی یہی قوت ہے</strong></strong></p>
<p style="text-align: justify; font-size: 20px; line-height: 1.5; direction: rtl;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر:محمد الطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;">انسانیت کی نہج کبھی بھی ایک ڈگر پر گامزن نہیں رہی بلکہ تغیر و تبدل کا عمل دخل ہر لحظہ نظر آتا ہے جبکہ فطرت بھی کچھ اسی تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے مہربان نظر آتی ہے کہ اگر ایک طرف دن ہے تو دوسری طرف رات، ایک طرف دھوپ ہے تو دوسری طرف چھاوں ، ایک طرف آفتاب ہے تو دوسری طرف مہتاب، ایک طرف آہ ہے تو دوسری طرف قاہ حتیٰ کہ ایک طرف اگر قربتوں پر وصل کی مہربانی ہے تو دوسرے ہی لمحے فراق کا قہر۔<br />
ماحول ، آب و ہوا ، بلندی و پستی ہر حال میں نہ صرف انسان پر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں بلکہ اسکے چاہتے نہ چاہتے لحظہ بہ لحظہ اپنا تاثر قائم رکھے ہوئے ہیں۔ تبدیلی کا عنصر افراد پر کیونکر اثر انداز ہوتا ہے ؟ ایک دلچسپ اور چونکا دینے والا انکشاف ہے کیونکہ یکسانیت کے گرداب سے دوری ایک صحتمند انسانی فطری تقاضا ہے جبکہ تبدیلی کے محرکات جابجا موجود ہیں جسکے باعث اسے پھلنے پھولنے کا موقع غیر ارادی طور پر بھی ملتا رہتا ہے۔لہذا، ا گر افراد کی تربیت نہ کی جائے تو کیا ایک بچہ چلنا ، بولنا اور کھانا پینا کیسے سیکھ سکتا ہے، حالانکہ تمام محرکات موجود ہیں؟<br />
بظاہر زندگی کا کاروبار بطور ردِعمل نظر آتا ہے جو بعد میں انسانی رویوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے جبکہ تربیت ایک ایسا عنصر ہے جو جبلی تقاضوں سے بالاتر ا پنے نقوش چھوڑتا چلا جاتا ہے جسکے باعث مثبت تبدیلی جنم لیتی ہے ۔ یہ ایک ایسا ہی عمل ہے جیسے جنگلات کے مقابلے میں باغات ا گائے جائیں ، چاہے جنگلات کتنے ہی بھلے معلوم کیوں نہ ہو جو حسن انسانی ہاتھوں کے ترتیب دیئے باغات میں ہے وہ جنگلات میں کہاں؟ اکتسابی عمل ، تربیت کا اعجاز ہے کہ ایک ہی جیسے افراد دنیا کے مختلف شعبوں کے بانی و سربراہ ہیں حالانکہ انکی طبعی حالت ایک جیسی ہے ، اگر ایک ڈاکٹر ہے تو دوسرا انجنیئر ، ایک آرٹسٹ ہے تو دوسرا پہلوان، جبکہ کوئی گلوکار ہے تو کوئی موسیقار، کوئی کمپیوٹر پروگرامر ہے تو کوئی کمپیوٹر انجنیئر وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ یہ تربیتِ اختیاری کا شاخسانہ ہے کہ ایک جیسے افراد مختلف شعبہ زندگی پر حکومت کر رہے ہیں۔<br />
مگر ایک انکشاف جو کہ اس متن کو آگے بڑھاتا ہے کہ افراد کی ایک غیر ارادی ، غیر اختیاری تربیت بھی ہو رہی ہے جسکے اہداف انسانی چور دروازے سے پورے ہوتے ہیں!!! ۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔ یہ ایسا چور دروازہ ہے جسکا کہ بعض اوقات متاثر ہونے والے کو بھی علم نہیں ہوتا ، وہ ایک سلسلہ ہے تسلسل کے ساتھ ترغیب کا یعنی مسلسل ترغیب کا عمل ایک ایسا جادو اثر نتائج کا حامل عنصر ہے کہ جو تیر کبھی خطا نہیں جاتا۔ کیونکہ جو ہپناٹزم کے ماہر ہیں وہ اپنی ترغیب کے ہتھیار سے وہ جادو اثر نتائج حاصل کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ اسی دروازے کے سہارے وہ لاکھوں کے مجمعے کو مبہوت کر دیتے ہیں کہ جسکا جواب نہیں۔ اسی کے بل بوتے وہ لوگوں کے اندر روابط تلاش کرتے ہیں اور اس زبان کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں جو اپنے راستے میں آنے والی کسی رکاوٹ کو آسانی سے عبور کر لیتی ہے ، لہذا انکی معاملات پر گرفت اور کامیابی کا گراف ہمیشہ آسمان کی بلندیوں پر رہتا ہے۔<br />
انسانی ذہنوں کی ارادی قوت کو اپنی مرضی کے مطابق ردعمل میں تبدیل کرنے والی صلاحیت کے بل بوتے بہت سے لوگوں نے دنیا پر حکمرانی کی ہے جبکہ آج کے میڈیا کا ہتھیا ر بھی یہی قوت ہے۔ اگر ایک طرف کسی بھی خوبصورت انداز میں فلمائی گئی اشتہاری فلم، ایڈورٹائزمنٹ اپنا کام اس وقت کرتی ہے کہ جب آپ خریداری کرتے وقت کسی بھی چیز کو غیر ارادی طور پر چن لیتے ہیں تو دوسری طرف خوبصورت انداز میں فلمائے گئے ڈرامے ہیں جوکہ کسی بھی تہذیب کے زہر آلودہ رسم و رواج کو اسباق کی شکل دے کر اقساط میں فلم بند کئے جاتے ہیں اور اپنی رنگینی کے باعث دلربا ہوتے ہوئے روزمرہ کا حصہ بن جاتے ہیں جبکہ تیسری طرف ایک مثالی صورت کو کسی نفرت کے دوش چلانے کی کاوش نظر آتی ہے کہ ایک ایسا تاثر ابھرے جو دوسروں کو اس طرف راغب ہونے سے روکے۔<br />
بہرکیف ، ایک انتہائی میسر آلہ جسکے اگر فوائد گنوائے جائیں تو ممکن نہیں ایک نشست میں بات مکمل ہو البتہ چیدہ چیدہ اہمیت کی حامل خصوصیات کا تذکرہ ضروری ہے۔ معاملات ،ماحول، اشتہارات ، دلچسپی کی حامل گفتگو اور دوستوں کے حلقے وغیرہ ایسے عناصر ہیں کہ جنکے اثرات افراد بغیر کسی مزاحمت کے براہ راست قبول کرتے ہیں اور انہی کی بدولت جو ردعمل ظاہر ہوتا ہے وہ غیر ارادی کیفیت کا حامل ہوتا ہے ۔ ترغیب کے معاملات ہمیں زندگی میں جا بجا نظر آتے ہیں مگر شخصی تربیت کا تقاضا ہے کہ آگاہی کے عمل سے گزرا جائے تاکہ چور دروازے سے ڈاکہ ڈالنے والے سے نبٹا جا سکے۔ جبکہ تنویمی عمل کی ایک جداگانہ حیثیت ہے کہ انسانی حواس کو تقریباً معطل کرکے کسی کے لاشعوری عمل یا غیر ارادی فعل کو قابو کرنا ، ایسے معاملات بھی سلسلہ زندگی میں بغور مشاہدہ کرنے سے دیکھے جا سکتے ہیں۔اگر کسی کو مسلسل برا بھلا کہا جائے تو یہ بھی اسی طرح ہے نتائج پیدا کرے گا اور اگر اچھی ترا غیب سے کسی کی زندگی سنوارنی ہو تو یہ بھی ممکن ہے ۔ جو والدین بچوں کا برا بھلا کہتے ہیں اسکے اثرات کا انکو بخوبی اندازہ ہو گا ، اگر کسی کو اچھائی کی طرف مائل کرنا ہوتو یہی آلہ انتہائی میسر ہوگا۔<br />
ایک تحقیق کے مطابق انسانی جسم کی بیماریاں بھی ترغیب کے اثرات بخوبی قبول کرتی ہیں اوررفتہ رفتہ کوچ کر جاتی ہیں ، ماضی میں خود تنویمی کے عمل سے بے حساب لاعلاج امراض چھٹکارا حاصل کیا گیا، حتیٰ کہ کینسر جیسا موذی مرض بھی ترغیب کی زبان سمجھتاہے جسکی بہت سی مثالیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں( ایم کوئے کے تجربات)۔ اسی طرح ایک اچھی تحریر ایک اچھی ترغیب ہے تو ایک بری تحریر ایک جسکا اندازہ کسی بھی موضوع پر ایک مکمل کتاب پڑہنے کے بعد بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ شخصیت پر اس نے کیا اثرات چھوڑے ہیں.<br />
کالج دور میں ایک ہم جماعت نے ہپناٹزم کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ بازار سے ایک کتاب خریدی ہے اوراس میں لکھی مشق کر رہا ہوں ۔ ایک سفید کاغذ پرایک سیاہ نقطہ لگا کر مسلسل دیکھتا ہوں اور اب حال یہ ہے دیکھتے دیکھتے وہ نقطہ دھندلا جاتا ہے مگر مجھے معلوم نہیں اسکے بعد کیا کرنا ہے ، تو مجھے اسکی حالت پر ہنسی آئی کہ نیم حکیم اور خطرہ جان ، کس کام کے پیچھے پڑ گئے ہو؟ بازاری قسم کی کتابیں پڑھنے کے بعد کیا عقل کے پردے کھل جائیں گے یا پھرکسی قسم کا کوئی نقصان کر بیٹھیں گے ؟<br />
اسطرح کی کسی بھی مشق کا مقصد صرف ایک کیفیت پیدا کرنے سے بڑھ کر نہیں ، کیونکہ ایک نیم خوابی کی کیفیت یہ دراصل ایک ایسا شعوری مزاحمت سے پاک ماحول ہے کی ترغیب فوراً اپنا کام کرتی ہے۔ لہذا کسی بھی قسم کی تکرار یا بار بار ترغیب غنودگی جیسی کیفیت پیدا کرتی ہے کہ انسانی ذہن کسی بھی کمپیوٹر کیطرح پروگرام ہونے کیلئے تیارہو جاتا ہے کیونکہ اس طرح سے شعوری گرفت کم ہو جاتی ہے۔ مگر ایسی مشقیں جن کے اثرات اتنی اہمیت کے حامل ہوں کسی بھی طرح سے دورخی تلوار سے کم نہیں ۔لہذا نوجوانوں کو جو اسے شوقیہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان عوامل میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ آج اگر معاملات ِ زندگی پر سواری کرنا مقصود ہو تو دیدہ دل وا کیجئے اور چند ایک مثبت ترغیبات کو روزمرہ میں شامل کر لیجئے پھر دیکھیں کہ کیا گل کھلاتی ہیں جبکہ انکا اعادہ دن میں ایک بار بھی کافی ہے ۔ یاد رکھیں عبادت کی تراغیب اللہ کے ذکر کے حلقے ہیں اور مساجد کے ماحول ہیں ، اسی طرح صحت کی تراغیب ہسپتالوں کے ماحول نہیں بلکہ کھیل کے میدان اور آبشاریں اور باغات ہیں ۔</span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%db%81%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%b9%d8%b2%d9%85-%d8%9b-%d8%aa%d8%b1%d8%ba%db%8c%d8%a8-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1-%d8%af%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%81.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کامیابی یا ناکامی، کیا ایک عادت ہے؟</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%8c-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%8c-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f.html/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 17:01:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[نظر]]></category>
		<category><![CDATA[نظر انداز]]></category>
		<category><![CDATA[پاک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کتاب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=493</guid>
		<description><![CDATA[کامیابی یا ناکامی، کیا ایک عادت ہے؟ عادات کا تشکیل پانا دراصل ایک ایسا عمل ہے جسکے باعث یہ پختگی اختیار کرتی ہیں ،جبکہ ایک نظریہ کے مطابق ایک فرد... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%8c-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%8c-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f.html/' addthis:title='کامیابی یا ناکامی، کیا ایک عادت ہے؟ '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align:center;color:darkgreen;direction:rtl;line-height:1.5;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:30px;">کامیابی یا ناکامی، کیا ایک عادت ہے؟</span></span><br />
</strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:red;font-size:20px;font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong><strong>عادات کا تشکیل پانا دراصل ایک ایسا عمل ہے جسکے باعث یہ پختگی اختیار کرتی ہیں ،جبکہ ایک نظریہ کے مطابق ایک فرد کیلئے کسی بھی عادت کو اپنانے یا ترک کرنے میں اکیس روز درکار ہیں</strong></strong></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;color:darkgreen;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"><strong> قوت ِ ارادی ایک ایسا عنصر ہے جو بری عادت ، نشہ اور ذہنی مرض میں تفریق پیدا کرتا ہے ، لہذا اگر یہ دکھائی دے کہ ایک فرد اپنے رویے پر قابو پا سکتا ہے تو یہ ایک عادت ہے ورنہ بیماری ۔</strong></span></span></p>
<p style="text-align:justify;font-size:20px;line-height:1.5;direction:rtl;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:justify;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"> کچھ لوگ زندگی انتہائی کامیابی سے گزارتے ہیں اور کچھ اکثر ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں جبکہ بار بار ناکامی سے دوچار ہونے پر مایوسی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جوکہ اگے چل کر انسانی ذہن کونہ صرف محدود بلکہ مفلوج بھی کر دیتی ہے جبکہ اس بات کا دارومدار افراد کی عادات پر ہے ،کیونکہ عادات ہی وہ مر وجع طریق کار ہیں جن کی روش پر افراد خودبخود بہتے چلے جاتے ہیں۔<br />
انسانی عادات کردار اور رویوں کی وہ روزمرہ ہیں جو کہ تسلسل کے ساتھ دہرائی جاتی ہیں اور غیر ارادی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہیں جبکہ انکے سرزد ہونے میں افراد شعوری طور شامل نہیں ہوتے۔عموماً جو رویے عادتاً رونما ہوتے ہیں اکثر اوقات بے خبری کے باعث نظر انداز رہتے ہیں، کیونکہ  اکثر یہ غیر ضروری سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ کے کام کاج پر توجہ بھی شامل حال رہے۔<br />
خو گیری (عادی ہونا) سیکھنے کے عمل کی انتہائی سادہ قسم ہے جس میں ایک جسمانی عضو محرک کے افشا ہونے پر اپنا ردعمل ترک کر دیتا ہے جبکہ عادت بعض اوقات جبری صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔عادات اپنی ساخت اور بناوٹ کے حوالے میں ایک ایسا عمل ہیں جنکے بل بوتے پر رویے ہمیشگی اختیار کرتے ہیں ، جیسا کہ رویے یکساں طور پر ایک ہی ماحول میں دہرائے جاتے ہیں لہذا اس ماحول اور عمل(عادت کا رونما ہونا) میں ایک اضافی تعلق بڑھ جاتا ہے ۔اور یہی بڑھو تی آگے چل کر اسی جیسے ماحول میں رویوں کے خودبخود ہونے کے عمل کا باعث بنتی ہے۔خود بخود رونما ہونے والے رویوں کی خصوصیات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو قابلیت،بے آگاہی، بلا ارادہ ، اور غیر تنظیمی عوامل جنم لیتے ہیں۔<br />
عادات کا تشکیل پانا دراصل ایک ایسا عمل ہے جسکے باعث یہ پختگی اختیار کرتی ہیں ،جبکہ ایک نظریہ کے مطابق ایک فرد کیلئے کسی بھی عادت کو اپنانے یا ترک کرنے میں اکیس روز درکار ہیں۔ مثبت رویے اچھی جبکہ منفی رویے بری عادات کے نمونے ہیں البتہ بعض اوقات عادات ماضی کی کسی جستجو کا نقشِ قدم بھی ہوسکتی ہیں۔ بری عادات میں تاخیر ، فضول خرچی ، عجلت ، بے قراری وغیرہ شامل ہیں۔<br />
قوت ِ ارادی ایک ایسا عنصر ہے جو بری عادت ، نشہ اور ذہنی مرض میں تفریق پیدا کرتا ہے ، لہذا اگر یہ دکھائی دے کہ ایک فرد اپنے رویے پر قابو پا سکتا ہے تو یہ ایک عادت ہے ورنہ بیماری ۔زندگی کے بلند مقاصد قابل ستائش ہوتے ہیں جنکے باعث بری عادات کے اثرات پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ زیادہ تر عادات مغلوب رہتی ہیں ناکہ مکمل اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہی عمل ہی جیسے ایک لکڑی کے تختے پر جڑے ہوئے کیل کے سر پر ایک اور کیل ٹھونک دیا جائے ، اور جیسے جیسے پہلا کیل باہر کو نکلتا ہے دوسرا اپنی جگہ بناتا جاتا ہے حتکہ ایک وقت آتا ہے کہ دوسرا کیل پہلے کی جگہ لے لیتا ہے۔<br />
ویسے عادت کو شروع ہوتے ہی دبوچ لینا چاہیے تاکہ وہ پھل پھول نہ سکیں ، اسی لئیے بچن کا وقت عادات کو سلجھانے کیلئے بہترین خیال کیا جاتا ہے۔ مگر عمر کے کسی بھی حصے میں عادات سے نبٹا جا سکتا ہے کیونکہ آج کی مائنڈ سائنس نے کچھ نئے طریقہ کار وضع کئے ہیں جنکے باعث با آسانی کسی بھی بری عادت سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے جن میں سے  ان ایل پی کا طریقہ کار کافی مدد گار ثابت ہوا ہے، البتہ خود تنویمی عمل کے فوائد بھی کسی طور کم نہیں ہیں، بہرحال کسی بھی طرح کی راہ نمائی کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں ۔<br />
کھانے پینے اور رہنے سہنے کی عادات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو بیماری بھی چند ایک بری عادات کا شاخسانہ ہے ۔ جبکہ کامیابی اور ناکامی بھی ایسی عادات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں جنکے باعث افراد یا تو اپنے اذہان کو کامیابی کیطرف گامزن رکھتے ہیں یا پھر ذہن کی حد بندی کرکے اپنے آپ کو خواہ مخواہ محدود کرتے ہیں اور ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں ۔ کامیاب لوگ اگر ایک طرف اپنا مطمع نظر بلند رکھتے ہیں تو دوسری طرف چند ایک ایسی عادات بھی اپنائے ہوئے ہوتے ہیں جو انکو اپنے مقاصد زندگی حاصل کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔<br />
چند ایک تحقیقات اور عادات :۔<br />
ذہنی دباوء کم کرنے کیلئے مطالعہ اچھی عادت ہے<br />
صرف اچھی طرح ہاتھ دھونے کی عادت سے پچیس سے چالیس فیصد مریض ٹھیک ہو سکتے ہیں<br />
پاکستان کا دنیا سے بھیک مانگنا ایک عادت ہے<br />
موبائل فون پر بہت زیادہ میسج تحریر کرنے کی عادت انگوٹھے کے درد کا باعث بن سکتی ہے<br />
انٹرنیٹ زیادہ استعمال کرنے کی عادت پڑھائی سے غافل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے<br />
بھرپور نیند کی عادت سے سردرد کی شکایت دور ہوجاتی ہے.</span></span></p>
<p style="line-height:1.5;direction:rtl;text-align:center;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:20px;"><br />
لفظ پڑھنا تو میری عادت ہے<br />
تیرا چہرہ کتاب سا کیوں ہے </span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%8c-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سوچنے کاایک نیاانداز- حیرت انگیز</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%b3%d9%88%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%b3%d9%88%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Jan 2012 05:01:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تحقیقات | Research]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[altaf gohar]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[آپکا اپنا قدرتی وجدان]]></category>
		<category><![CDATA[اپنی زندگی کے اعلی مقاصد کی تکمیل]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[جواب]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[دوست]]></category>
		<category><![CDATA[دوسروں سے اچھے تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[راز]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[سوچنے کاایک نیاانداز]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[صلاحیت]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[محبت]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[مراقبہ]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[موقع]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[میدانوں کے رہبر]]></category>
		<category><![CDATA[نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک]]></category>
		<category><![CDATA[پیار]]></category>
		<category><![CDATA[چاہت]]></category>
		<category><![CDATA[کتاب]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=473</guid>
		<description><![CDATA[چند لمحات میں زندگی تبدیل سوچنے کا ایک نیا انداز تحریر و تحقیق: محمد الطاف گوہر اپنی بصیرت کو اجاگر کیجئے اپنے اندر دیکھئے اور اپنے اندر جھانکے ۔ اپنی... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%b3%d9%88%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%b3%d9%88%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-2.html/' addthis:title='سوچنے کاایک نیاانداز- حیرت انگیز '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align:center;color:darkblue;direction:rtl;line-height:1.5;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:30px;"> چند لمحات میں زندگی تبدیل </span></span></strong></p>
<p style="text-align:center;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;"><span style="color:red;"><strong> سوچنے کا ایک <strong><span style="color:red;">نیا </span></strong><span style="color:red;"> انداز</span></strong></span></span></span></p>
<p style="text-align:right;"><strong> <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:large;">تحریر و تحقیق: محمد الطاف گوہر</span></span></strong></p>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;">اپنی بصیرت کو اجاگر کیجئے اپنے اندر دیکھئے اور اپنے اندر جھانکے ۔ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور زندگی کے تمام مراحل پہ اچھے فیصلوں کا تعین کریں۔نہ صرف انتہائی اعلی صحت کو رکھیں بلکہ بحال و درست رکھیں۔ اپنی ذاتی اور کاروباری زندگی میں رشتوں میں مطمئن حالت برقرار رکھیں۔ذہنی پیش بینی اور حالات کی پش آ گاہی کیلئے۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">اپنی زندگی کے اعلی مقاصد کی تکمیل</span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
کبھی آپ نے ایسا محسوس کیا کہ آپ میں یہ کیفیت پیدا ہوئی ہو کہ آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے آپ نے محسوس کیا ہو کہ آپ کے اندر انتہائی اعلی ذہا نت پوشیدہ ہے جو کے کامیابی کی طرف جست لگانے کے لئے تیار کھڑی ہویا پھر کوئی خاص مشن یا روحانی مقصد جو کے آپ حاصل کرنا چاہتے ہوں۔یہ کتنی خوش آئندہ بات ہے کہ آپ کے اندر ذہا نت کا اعلی چشمہ ابل پڑے اور آپ کے مقاصد کو سیراب کرنے کے لئے تیار ہو۔یعنی</span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:sienna;"> (Altaf Gohar&#8217;s UltraMind Method)</span></div>
<p style="text-align:center;">ایسا طریقہ کار جو کے آپ کی مدد کرتا ہے کہ آپکی بقایا زندگی اپنے اعلی معیار کے ساتھ کیسے گزری جائے۔<br />
<strong> </strong></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">کامیابی کے لئے تیار ہو جائیں </span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
الٹرامائنڈ کا طریقہ کار آپکو تمام وہ آلات مہیا کرے گا جو کہ آپکی فہم و فراست سے مدد اور راہنمائی کیلئے ضروری ہوں اور آپکی زندگی کے تمام مقاصد میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز کریں،جیسے کہ صحت ۔کیونکہ اگر آپ صحت مند نہیں ہیں تو آپ کچھ نہیں کہ پائیں گے جس کے باعث زندگی کا اعلی مشن مکمل کیا جا سکے۔آپ رہنمائی لے سکتے ہیں تاکہ آپ اپنے آپ کو صحت مند رکھنے میں مدد دے سکیں ۔اسکے ساتھ ساتھ اپنی خوراک ،ورزش،اعصاب تناﺅ سے نجات اور چند دوسری چیزیں جو کہ اس بات کو مصم کر دیں کہ آپ کے پاس وافر توانائی موجود ہے جو کہ آپکو کامیابی کی ضمانت دیتی ہے کہ آپ ہر وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جو کہ آپ چاہتے ہیں۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong> <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">دوسروں سے اچھے تعلقات<span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:large;"> </span></span></span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
ا سی طرح دوسروں سے اچھے تعلقات جو کہ آپکی زندگی کو خوشیوں سے لبریز کر دیتے ہیں ، یہ صحت سے دوسرے درجے پہ اہمیت کے حامل ہیں ۔آپکے اندر سے نکلنے والے فہم و فراست کے چشمے آپکو نہ صرف رہنمائی دیں گے بلکہ رشتوں کے اعلی اقدار، محبت ، شادی اور خاندان ،دوست احباب اور کاروبار میں ایک متوازن رابطہ بناتے ہیں ۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong> <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">اچھا کاروبار</span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
اچھا کاروبار آپکی تمام مادی ضروریات پوری کرتا ہے کیونکہ دولت بھی زندگی اعلی مقاصد پورے کرنے میں پیش پیش ہے ۔دولت بھی زندگی کی چلتی گاڑی کا ایندھن ہے ۔اگر آپ زندگی میں عظمت کے خواہشمند ہیں تو آپکو اچھی صحت اور اچھے تعلقات کے ساتھ ساتھ دولت مند بھی ہونا چاہیئے۔ زندگی کے بڑے بڑے مقاصد بہت زیادہ دولت کی بھی ضرورت ہے ۔اگر آپکی زندگی میں بڑے بڑے منصوبے نہیں تو پھر دولت آپکے کام کی نہیں ۔  اسباق کا استعمال اور مدد آپکی زندگی میں اچھے منصوبوں کا ضامن ہے۔ برے فیصلے ہمیشہ نا امیدی ، غم ، رنج و الم اور ناکامی کے گہرے گڑے تک لے آتے ہیں مگر اچھے فیصلے ہمیشہ کامیابی ، خوشی عزت اور پیار کی منزلوں سے ہمکنار کرتے ہیں اب آپ اپنے وجدان کو وسعت دے سکتے ہیں اور اسکو ان معلومات کے تلاش کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں جو کہ آپکو اچھے فیصلے کرنے میں مدد دے سکے ۔اور ان سب سے بڑھ کر آپ اپنے اندر جاری فہم و فراست کے چشمہ کی رہنمائی لے سکتے ہیں جو کہ آپکی مدد کرے تاکہ آپ اپنی زندگی کے اعلی مقاصد کو حاصل کر سکیں جس کے لئے آپکو پیدا کیا گیا ۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:large;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;"> آپکا اپنا قدرتی وجدان</span></span></span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
ہو سکتا ہے کہ آپ نے کسی شخص کے بارے میں سوچا ہی ہو اور اچانک ایک فون بجے یا دروازے پر بیل بجے اور وہی شخص آپکے سامنے ہو شاید کبھی آپکے منہ سے ایسے الفاظ نکلے ہوں جوکہ پاس کھڑے دوست کے ذہن میں ہوں یا وہ کہنا چاہتا ہو یہ آپکے اندر کے قدرتی وجدان کا کام ہے ۔ اب آپ آسانی کے ساتھ اپنی UltraThinking کو وسعت دے سکتے ہیں کہ وہ طریقہ کار سیکھیں جو آپکو ذہنی منصوبہ بندی سے آگاہ کرے۔ جس سے آپ معلومات اخذ کریں تاکہ آپ اپنی صحت ، تعلقات ،کاروبار اور ذاتی ترقی کے بارے میں بڑے بڑے فیصلے کر سکیں اور یہاں تک کہ آپ اپنی زندگی کا مقصد حاصل کر سکیں<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong>آپ <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">اپنے آپکو اور دوسروں کو بہتر طور پر سمجھیں</span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
ہم دوسروں کے لئے جسمانی ، جذباتی اور ذہنی روابط رکھتے ہیں ۔ روابط میں دور دراز کی معلومات پلک جھپکنے میں پہنچا دیتے ہیں ۔اب تو کئی بڑے اداروں کے لوگ بھی اپنی اس ذہنی طاقت کے ساتھ دور دراز کے مقامات کا کامیابیوں کے ساتھ جائزہ لے سکتے ہیں۔ ایک بہت بڑے ریسرچ پراجیکٹ میں چند روحانی لوگوں کو سمندر کے اندر آبدوزوں کی نشان دہی کرنے کے لئے کہا گیا اور حیرت کی بات ہے کہ ان لوگوں نے انتہائی کامیابی کے ساتھ تمام آبدوزوں کو انکے مقامات سمیت تلاش کرلیا ۔ اب تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک<br />
میں ریسرچیز نے آشکار کر دیا ہے کہ جو کمپنیاں انتہائی اعلی منافع کما نے میں پیش پیش ہیں انکے سربراہانانہی صلا صلاحیتوں کے مالک بن کر کاروبار میں پیش بینی استعمال کرتے ہیں۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">میدانوں کے رہبر</span></span></strong></span></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
وہی لوگ دوسروں کے لئے رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں جو نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ کامیاب ہوتے ہیں بلکہ انکا بہترین طرز و طریق کار برائے معاملات بھی شامل ہوتا ہے۔ انکی سوچوں کا انداز اور معاملات تک پہنچ ایک منفرد طریق کار رکھتی ہے ۔ آئیے ایک قدم آگے بڑھائیں اور اس نئی طرز عمل کی حامل سوچ کو اپنائیں جو ایک ہی جست میں آپکو ڈگمگاتی راہوں سے اٹھا کر ایک مضبوط راہ عمل فراہم کرے گی !!! تجربہ شرط ہے ۔۔۔۔۔ صرف چند اسباق کے بعد آپ اپنے آپ کو انتہائی تبدیل اور توانا ء محسوس کریں گے اور رفتہ رفتہ کامیابی اور کامرانی کی بلندیوں کو چھولیں گے مگر سب سے پہلے مستقل مزاجی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عہد کر لیں کہ آپکا ایک ایک لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہذا لمحوں کو قید کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔۔۔۔۔۔<br />
<strong> </strong></span></p>
<div style="text-align:center;"><strong>اسباقExercise</strong></div>
<p style="text-align:center;"><strong> </strong><br />
<span style="color:red;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">الٹر رائٹنگ UltraWriting </span></span></span></p>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><br />
اصول:<br />
اگر ایک طرف مراقبہ کے عمل سے تخیل منظم شفاف  ہوتا ہے اور تقویت پکڑتا ہے تو دوسری طرف (اس عمل سے پیشتر )ذہن کو اس تمام آلودگی اور بے سرو سامانی کے ماحول سے پاک کرنا بھی ضروری ہے تا کہ زمینِ ذہن پہ اُگی ہوئی تمام جڑی بوٹیاں (بے لگام خیالات) سورج کی روشنی میں خود بخود فنا ہو جائیں۔ جیسے آپ نیا کمپیوٹر تیار کر رہے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک ہارڈ ڈسک (Hard Disk) کو تیار (Format)کرتے ہیں تا کہ وہ کسی بھی نئے پروگرام کو ذخیرہ (Save) کرنے کے قابل ہو جائے اور پھر سب سے پہلے Operating System )قاعدہ و قانون)کا پروگرام انسٹال کرتے ہیں تا کہ اِس میں Application پروگراموں کو چلانے کی قابلیت ہو جائے.</span></p>
<p style="text-align:center;"><strong> </strong></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong>مشق <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">الٹرارئٹنگ</span></span></strong></span><strong> Exercise</strong></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;">میں آپ کو ایک انتہائی آسان دلچسپ اور اچھوتا طریقہ کار بتاتا ہوں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے ذہن میں خیالات کی بھرمار یا پھر اشتعال و دیگر تمام عوامل سے نہ صرف پرے رکھے گا بلکہ ذہن کو جلا بھی بخشے گا۔ اس چھوٹی سے مشق کے بعد آپ نہ صرف اپنے آپ کو انتہائی مختلف پائیں گے بلکہ آپ کے شعور کی بہتی ہوئی رو کی طاقت کا آپ کو اندازہ بھی ہو گا اور اس کے ثمرات سے استفادہ بھی حاصل کرسکیں گے۔ اگر آپ کسی بند کمرے میں داخل ہوں اور اندھیرے میں آپکا ہاتھ کسے لٹکتی ہوئی رسی سے چھو جائے تو آپکو فورا سانپ کا تصور ہو گا اور ڈر جائیں ، دہشت ذدہ پوجائیں گے مگر کمرے میں روشنی ہوتے ہی آپ کو آپنے آپ پہ ہنسی آئے گی کہ جسکو میں سانپ سمجھتا رہا وہ تو صرف ایک بے ضرر رسی ہے، یہ کچھ اسی طرح کا عمل ہے ، اگر آپ میں فیصلہ کرنی کی طاقت کا فقدان ہے یا پھر کسی واقعہ کو بھولنا چاہتے ہیں مگر بھول نہےں پاتے ، اور یا پھر ذہن کی ہنڈیا میں تخیل کا جوش آتا ہے ( ہائی بلڈ پریشر) اور آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ، یا ذہانت کی کمی ہے اور سستی کا شکار ہیں ، غرض معاملہ ہو کوئی بھی، صرف د س منٹ روزانہ (تسلسل کے ساتھ) آپ آزادانہ لکھیں یعنی ایک کاغذ اور پنسل لے لیں اور بغیر سوچے سمجھے لکھنا شروع کر دیں مگر یاد رہے کہ اپنے ذہن کی بہتی رو کو روکنے کی کوشش نہ کریں بلکہ جو کچھ بھی ذہن میں آئے بلا سوچے سمجھے لکھتے چلے جائیں اور اگر لکھنے کو دل نہ چاہ رہا ہو تو آڑھی ترچھی لکیریں ہی کھینچتے چلے جائیں۔ لکھائی خود بخود ہی شروع ہو جائے گی۔ غرض کچھ نہ کچھ لکھتے جائیں خواہ اس میں لکھی ہوئی باتیں آپ کو شرمندہ ہی کیوں نہ کریں اپنے ذہن کے بے ہنگم شور کو کاغذ پر منتقل کریں اور صرف تین سے چار ہفتے کی مشق کے بعد انقلابی تبدیلی آپ کو ہستی کے نئے میدان میں لے آئے گی جبکہ آپ کا ذہن خیالات کی بھرمار اور بے ہنگم بہاﺅ سے پاک ہو چکا ہو گا اور آپ کے ذہن کی زمین زرخیز ہو چکی ہو گی۔ اس ساری مشق کے تسلسل میں جو تحریر آپ لکھیں برائے مہربانی اس کو ساتھ ساتھ پڑھتے بھی جائیں اور ایک جگہ جمع کرتے رہیں مگر کسی دوسرے کو پڑھنے کی ہرگز اجازت نہ دیں کیونکہ ان تحریروں میں آپ کا ذہن کھلی کتاب کی طرح موجود ہے جس کو کوئی بھی آسانی سے پڑھ سکتا ہے صرف آپ اُن کو ملاحظہ کریں اور آخر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں یا دریا بُرد کر دیں البتہ اگر آپ چاہیں تو اپنی تحاریر مجھے دیکھا کر ر ہنمائی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے آپ کو اپنے بارے میں جاننے اور بہتری لانے کا موقع ملے گا جبکہ اِن مشقوں کے باعث آپ اپنا ذہنی ماحول  تو تبدیل کرہی چکے ہیں اور اب آپ کا ذہن شعور کی حد  میں آ چکا ہے۔<br />
اس مشق کو کم از کم چار ہفتے تک ضرور کریں اور اپنی بدلتی کیفیات کا موازنہ کریں البتہ تسلسل قائم رہے۔۔۔۔۔۔۔<br />
نوٹ:  اگر آپ کسی  روحانی سلسلہ سے متعلق ہیں اور رکاوٹ محسوس کرتے ہیں یا اپنی کیفایات کو سجھ نہیں پاتے ۔۔۔۔۔ بے فکر ہو جایئں!!!!<br />
اور اپنی کیفیات قلمبند کر کے آپ رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں  ۔۔۔۔</span></p>
<p style="text-align:center;"><strong> </strong></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">الٹرا تھنکنگ </span></span></strong></span><strong> &#8211; UltraThinking</strong></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;color:darkblue;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;">اصول:<br />
آج کی جدید سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انسانی ذہن ایک مقناطیس کیطرح سے کام کرتا ہے اور ہر وہ شئے اپنی طرف کھینچتا ہے جس کے بارے میں انسان سوچ رہا ہوتا ہے۔ جیسا کہ خوشی کے مواقع پر انسان کو ہر طرف خوشی نظر آتی ہے حتی کہ شور بھی موسیقی کی طرح معلوم ہوتا ہے ،محبت کے عالم میں زندگی کے معاملات انتہائی خوبصورت اور رنگین نظر آتے ہیں جبکہ غم و پریشانی کے عالم میں دنیا بھر میں کرب اور تکلیف دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ در اصل اسی قانون کے مطابق ہے کہ انسانی ذہن جس سوچ و فکر میں مگن ہے وہ اپنے اردگرد اسی طرح کے حالات و واقعات اکٹھا کرتا جارہا ہے ۔آپ اسکو ایک ایسا ہی عمل کہہ سکتے ہیں جیسے آپ انٹر نیٹ پر سرچ انجن جیسے Google میں جا کر کچھ تلاش کرنا چاہیں تو سرچ انجن ویب سائٹ آپکو لاکھوںنئی ویب سائٹس لاکر آپ کے سامنے رکھ دے گا مگر یہ تمام ویب سائٹس اس سے ملتے جلتے ہوں گے ۔جو کچھ آپ سرچ باکس میں لکھیں گے اور ملتی جلتی معلومات کا ڈھیر لگ جائے گا۔اسکو تلازمہ (Like Attracts Like)بھی کہہ سکتے ہیں ۔</span></p>
<p style="text-align:center;"><strong> </strong></p>
<div style="text-align:center;"><span style="color:red;"><strong>مشق <span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:25px;">الٹرا تھنکنگ</span></span></strong></span><strong> &#8211; Exercise UltraThinking</strong></div>
<p style="text-align:right;font-size:20px;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;">صرف چند لمحات میں آپ تبدیل ہو جائیں گے ، جی ہاں مجھ پہ نہیں آپنے آپ پہ یقین رکھیں صرف چند لمحات میں آپ کا ذہن تفکرات سے پاک اور بے لگا م پریشانیوں سے آزاد ہوجائے گا مگر یہ مت بھو لئے گا کہ آپکا اٹھایا ہو ایک ایک قدم آپکو انتہائی بلندیوں کی طرف لیجارہا ہے ، جبکہ ان معاملات میں آپکا تعلیم یافتہ ہونا کئی معنی نہیں رکھتا ۔ آپ کی عمر ، تعلیم ، ذہانت اور دولت کا ان اسباق سے کوئی تعلق نہیں ۔ آج آپ واضع محسوس کریں گے کہ آپ نے میدان مار لیا ۔۔۔۔ اس مشق کو بار با کرنے کی ضرورت نہیں صرف پہلی ہی نشست میں آپ محسوس کریں گے کہ اب تک آپ اندھیرے میں تھے اور اچانک زندگی کی راہیں روشن ہوگئیں ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ پہلے سے ہی اس طریقہ کار پہ قدرتی طور پہ عمل پیرا ہوں مگر انکے لیئے بھی کچھ بھید آشکار ہونگے ۔<br />
<strong>طریقہ<br />
</strong></span></p>
<p style="text-align:right;font-size:20px;line-height:1.5;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;">:ایک کاغذ اور پین لے لیں ، کا غذ کے درمیاں میں ایک سیدھی متوازی لائن لگا دیں۔<br />
لائن کے دائیں جانب آپ وہ باتیں لکھیں جو آپ پسند کرتے ہیں کہ یہ آپکی زندگی میں شامل ہوں تو کمال ہوجائے۔<br />
لائن کے بائیں جانب وہ باتیں لکھیں جو آپ آپنے لیے قطعی ناپسند کرتے ہیں یا ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔<br />
بس صرف اتنا سا کام ؟ ۔۔۔۔۔<br />
جی ہاں صرف اتنا سا کام ۔۔۔۔ مگر اس کا کرنا کیا ہے؟<br />
صرف آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں اور اس مشق کا رزلٹ معلوم کریں ۔۔۔ اگر آپ سوال جواب سے پچنا چاہتے ہیں تو آپ اپنا لکھا ہوا کاغذ ای میل کر دیں اور رزلٹ لے لیں ۔۔۔۔۔۔</span></p>
<p><strong> بصورت دیگر آپ سوال پڑھ کر اپنا جواب لکھ دیں ۔۔۔۔۔ </strong></p>
<p style="text-align:center;">
<div style="text-align:center;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size:large;"><strong>آج کا پیغام:<br />
’’بندہ کام نہیں کرتا بلکہ طریقہ کام کرتا ہے ‘‘<br />
محمد الطاف گوہر</strong></span></span></div>
<p style="text-align:center;">
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%a7%d8%aa-research/%d8%b3%d9%88%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%d8%ad%db%8c%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b2-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ماہنامہ حکایت ڈائجسٹ ، نومبر 2009</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%88%d8%a7%d8%a6%d8%ac%d8%b3%d9%b9-%d8%8c-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2009.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%88%d8%a7%d8%a6%d8%ac%d8%b3%d9%b9-%d8%8c-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2009.html/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 16 Jan 2012 17:01:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=463</guid>
		<description><![CDATA[ماہنامہ حکایت ڈائجسٹ ، نومبر 2009 مائنڈ سائنس اور لذتِ آشنائی ، سوچنے کا ایک نیا انداز اکیسویں صدی کے چونکا دینے والے حقائق، جو ذ ہن کو نئی راہوں... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%88%d8%a7%d8%a6%d8%ac%d8%b3%d9%b9-%d8%8c-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2009.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%88%d8%a7%d8%a6%d8%ac%d8%b3%d9%b9-%d8%8c-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2009.html/' addthis:title='ماہنامہ حکایت ڈائجسٹ ، نومبر 2009 '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: darkblue; direction: rtl; line-height: 1.5;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;">ماہنامہ حکایت ڈائجسٹ ، نومبر 2009</span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong>مائنڈ سائنس اور لذتِ آشنائی ، سوچنے کا ایک نیا انداز <img class="alignleft size-thumbnail wp-image-15961" title="monthlyhakayyat" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/01/monthlyhakayyat-150x150.jpg" alt="" width="82" height="82" /></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> اکیسویں صدی کے چونکا دینے والے حقائق، جو ذ ہن کو نئی راہوں سے روشناس کرا دیں</span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><img class="alignleft size-full wp-image-464" title="MonthlyHakayyat" src="http://altafgohar.files.wordpress.com/2009/11/monthlyhakayyat.jpg" alt="MonthlyHakayyat" width="486" height="728" /><br />
</strong></span></p>
<p>&nbsp;</p>
<div style="text-align: center;"><a title="Bookmark and Share" href="http://www.addthis.com/bookmark.php?v=250&amp;pub=xa-4ae5780b49afec7b" target="_blank"><img src="http://s7.addthis.com/static/btn/v2/lg-share-en.gif" alt="Bookmark and Share" width="125" height="16" /></a></div>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-mind-sciences/%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%88%d8%a7%d8%a6%d8%ac%d8%b3%d9%b9-%d8%8c-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-2009.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لامحدود طاقت</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-sufism/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-sufism/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 14 Jan 2012 05:01:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تصوف | Sufism]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[about mind power]]></category>
		<category><![CDATA[alpha mind power]]></category>
		<category><![CDATA[alpha power mind]]></category>
		<category><![CDATA[how increase mind power]]></category>
		<category><![CDATA[how to boost mind power]]></category>
		<category><![CDATA[how to improve mind power]]></category>
		<category><![CDATA[how to improve the mind power]]></category>
		<category><![CDATA[how to increase mind power]]></category>
		<category><![CDATA[how to increase power of mind]]></category>
		<category><![CDATA[how to increase the mind power]]></category>
		<category><![CDATA[improve mind power]]></category>
		<category><![CDATA[increase mind power]]></category>
		<category><![CDATA[mind and power]]></category>
		<category><![CDATA[mind energy power]]></category>
		<category><![CDATA[mind of power]]></category>
		<category><![CDATA[mind power book]]></category>
		<category><![CDATA[mind power download]]></category>
		<category><![CDATA[mind power increase]]></category>
		<category><![CDATA[mind power of thought]]></category>
		<category><![CDATA[mind power pdf]]></category>
		<category><![CDATA[mind power subconscious]]></category>
		<category><![CDATA[mind your power]]></category>
		<category><![CDATA[power of mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of mind pdf]]></category>
		<category><![CDATA[power of subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of the mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of the mind book]]></category>
		<category><![CDATA[power of the subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of the unconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of unconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of your mind]]></category>
		<category><![CDATA[power of your subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[power your mind]]></category>
		<category><![CDATA[power your subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[subconscious mind power]]></category>
		<category><![CDATA[the mind power]]></category>
		<category><![CDATA[the power of mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of mind book]]></category>
		<category><![CDATA[the power of subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of the mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of the mind book]]></category>
		<category><![CDATA[the power of the subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of the unconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of your mind]]></category>
		<category><![CDATA[the power of your subconscious mind]]></category>
		<category><![CDATA[the subconscious mind power]]></category>
		<category><![CDATA[unconscious mind power]]></category>
		<category><![CDATA[what is mind power]]></category>
		<category><![CDATA[your mind power]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[حسن]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[لذت آشنائی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[موقع]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[نظر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=419</guid>
		<description><![CDATA[لامحدود طاقت جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key)  خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔ قدرت نے پانی کی فطرت میں بہنا لکھا ہے اگر اِسے بہنے کا موقع... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-sufism/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-sufism/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/' addthis:title='لامحدود طاقت '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue; direction: rtl;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> لامحدود طاقت </span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq; text-decoration: blink;"><strong> جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key)  خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔ </strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> قدرت نے پانی کی فطرت میں بہنا لکھا ہے اگر اِسے بہنے کا موقع نہ ملے تو تالاب اور جوہڑ کی شکل میں رُک جاتا ہے اور یہیں اِس میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے جو زندگی کو فنا کا درس دیتی ہے</span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: darkred;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;">تمام طاقتوں پہ حاوی ہونے کی کنجی (Key) کسی بھی جن یا دیو کے پاس نہیں بلکہ ایک اِنسان کی دسترس میں ہے جو ”لذت آشنائی“ سے سرشار ہے</span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></span></p>
<p style="text-align: justify; font-size: 20px; line-height: 1.5; direction: rtl;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;">آپ اگر گھڑی کو سامنے رکھ کر بیٹھ جائیں اور وقت کا گزرنا ملاحظہ کریں تو یقیناً آپ گھنٹوں بھی بیٹھیں رہیں گے مگر آپ کو گھنٹوں اور منٹوں والی سوئیاں ساکن نظر آئیں گی جبکہ وقت گزرتا رہے گا یہ برف کی طرح پگھلتی زندگی کے ماہ سال صرف کسی اچھے وقت کے انتظار میں نہ گزار دیں بلکہ وہ لمحہ جو ہمیں بیدار کرتا ہے دراصل اِسی میں زندگی ہے اور باقی وہ لمحے اور پل ہیں جو ہمیں نیم خوابیدہ کرتے ہیں اور یہ وہ خود رو سلسلہ زندگی ہے کہ جہاں وقت کو ضائع کر رہے ہیں، وقت کو ہم اِسی طرح قید (Save) کر سکتے ہیں کہ اپنے پل زندگی کے بیدار لمحوں سے سیراب کر دیں.</span><br />
<span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"> پانی قدرت کا حسین تحفہ اور عطیہ ہے اور اسکا سفر کتنا دلچسپ ہے کہ ہلکا ہو تو آکاش کی طرف سفر کرتا ہوا ہواؤں کو آبیار (Pregnant) کرتا ہے، کبھی تو بادل بن کے آسمان پر<img class="alignleft size-medium wp-image-15861" title="subconscious_mind_control" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/01/subconscious_mind_control1-300x194.jpg" alt="subconscious_mind_control" width="300" height="194" /> چھا جاتا ہے اور پھر رحمت بن کے زمین پہ برستا ہے،اور کبھی آلودہ فضا کی غلاظتوں کو سمیٹتا ہے تو کبھی پھولوں پہ شبنم بن کے موتیوں کی طرح چمکتا ہے اور کبھی آبشار بن کے موسیقی کا سامان مہیا کرتا ہے اور کبھی برف بن کے پہاڑوں کی چوٹیوں پہ دمکتا ہے مگر زمین پہ ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف بہتا ہے اور اگر اِس کے بہاﺅ کو پابند کر دیا جائے (حدوں میں، Boundries) تو ندی، نالوں اور دریاؤں کی طرح بہتا ہے اور کبھی چشمہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے پھر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ اگر حدوں میں رہے تو اس کے باعث طاقت پکڑتا ہے۔ اگر ایک طرف ہمارے لیے آبپاشی کا سامان مہیا کرتا ہے تو دوسری طرف اس سے بجلی بھی بنائی جاتی ہے۔ اور اِسی طرح اس کا آدھا سفر ایک سمندر میں مدغم ہونے پہ مکمل ہو جاتا ہے جبکہ سورج کی تپش اسے مشتعل کرتی ہے اور پھر یہ بھاپ بن کر ہوا کے بازوؤں پہ بلند و بالا پہاڑوں کا سفر کرتا ہے اور پہاڑوں کی ننگی چوٹیوں کو سفید مخمل غلاف (برف) سے ڈھانپ دیتا ہے۔ مگر ایک بار پھر اچانک دھوپ کی تپش اِسے تھپکی دیتی ہے اور یہ پھر رخت سفر باندھ لیتا ہے اور ہواﺅں کے دوش پہ سوار میدانوں کا رُخ کرتا ہے اور خطہء زمین پہ رحمت بن کے برستا ہے اور بنجر زمین اس کے دم سے سونا اُگلنے لگتی ہے۔<br />
قدرت نے پانی کی فطرت میں بہنا لکھا ہے اگر اِسے بہنے کا موقع نہ ملے تو تالاب اور جوہڑ کی شکل میں رُک جاتا ہے اور یہیں اِس میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے جو زندگی کو فنا کا درس دیتی ہے۔ اور اگر اِس کے بہاﺅ میں حدیں نہ رہیں تو اپنی لامحدود طاقت و طغیانی کے باعث سیلاب کی شکل میں میدانوں میں دندناتا پھرتا ہے اور کسی سرکش حیوان کی طرح ایک بار پھر زندگی کو فنا کی طرف بہا لے جاتا ہے جبکہ حدوں میں بہتے ہوئے زندگی کو بقا دیتا ہے مگر حدوں کو توڑنے میں اور رُکنے میں فنا سے روشناس کرواتا ہے۔ اس کا یہ سفر ازل سے اِس کی گتھی میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ اپنے سفر میں رواں دواں ہے (Automatic)۔ قدرت نے انسان کے اندر اور باہر پانی کا انتہائی اعلیٰ تناسب رکھا ہے جبکہ زمین تین حصے پانی اور ایک حصہ خشکی سے مرکب ہے اور یہ خشکی کا خطہ پانی کی سطح پر تیرتا پھرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی جگہ بدلتا ہے، اگر دُنیا کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اندازہ ہو گا جہاں پہلے کبھی سمندر تھے وہاں خشکی کا بسیرا ہے اور جہاں پہلے خشکی کا خطہ تھا وہ اب سمندر کا مسکن ہے۔<br />
ایک دفعہ ایک چرواہے کو جنگل سے شیر کا شیرخوار بچہ ملا اِس نے اِس کو اپنے بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ رکھ لیا یہ بچہ اِنہیں میں پل کر بڑا ہوا مگر وہ بکریوں کے ساتھ رہ کر اِنہی کی طرح کا ہو کر رہ گیا تھا،ایک دفعہ جنگل میں ایک بوڑھے شیر نے دھاڑ ماری اور بکریوں کے ریوڑ کی طرف لپکا اِس بوڑھے شیر کو دیکھتے ہی سب بکریاں بھاگنا شروع ہو گئیں جس کو دیکھ کر وہ شیر بچہ (جو اب جوان ہو چکا تھا) نے بھی بھاگنا شروع کر دیا مگر اچانک اِس کا آمنا سامنا اِس بوڑھے شیر سے ہو گیا اور اِسے دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ بھی اِسی طرح کا ہے تو اب اِس نے بکریوں کی طرح ممیا نہ بند کر دیا اور ایک گرج دار دھاڑ ماری کہ بوڑھا شیر ڈر کے بھاگ گیا اب یہ شیر بچہ جو کہ بکریوں میں پل کر جوان ہوا تھا اِس نے اپنی حقیقت کو جانا اور بکریوں کو چھوڑ کر جنگل کی راہ لی کہ میں تو جنگل کا بادشاہ ہوں (میرا مقام یہ نہیں ہے کہ میں ان چھوٹے کھلونوں سے دل بہلاؤں ) ۔ اس نظر نے وہ زاویہ دیکھا جو حقیقت شناسا تھا اور اِس آمنے سامنے (Face to Face)کے زاویہ نے شیر کو اُس کی اصلیت اور اُس کا مقام بتا دیا۔ ہم اپنا دل لذت کے جھوٹے کھلونوں سے بہلا رہے ہیں اور حقیقت کو 359 زاویوں میں تلاش کر رہے ہیں حالانکہ یہ ہمیں حقیقت سے دور لے جاتے ہیں۔ حقیقت شناس زاویہ (Face to Face) ہمیں میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے اِس زاویہ کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تمام دوسرے غلط زاویوں کی نفی کرنا ہو گی۔ اپنے اندر کے کھیت میں ہل چلانا ہو گا اور اپنے ذہن کی زمین (Hard Disk)کو تیار (Format)کرنا ہو گا کیونکہ جب بھی کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے تو پہلے اِسکی بنیادیں کھودی جاتیں ہیں اور ہر نئی فصل اُگانے کیلئے ہل چلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھیں تو حقیقت کے چشمے سے سیراب ہونے کیلئے ”لا“ (No) یعنی نفی اور ہر شے سے انکار (Reset) کرنا تو ازل سے سلامتی کے مذاہب کی اساس رہی ہے کیونکہ تمام خود رو جنگلات چاہے کتنے ہی بھلے معلوم کیوں نہ ہوں مگر اصل حسن تو اِن باغات میں ہے جو اِنسان نے زمین پہ محنت کر کے اُگا ئے ہیں جیسے پانی اپنی حدوں سے باہر نکل جائے تو سیلاب بن جاتا ہے اِسی طرح ہمارے اندر کی لامحدود طاقت اِنسان کو درندہ بھی بنا سکتی ہے اور یہ معصوم صورت درندہ زندگیوں کیلئے فنا بن جاتا ہے۔ اِنسان کے اندر (ذہن) کی طاقت صرف اور صرف ”خیال“ (Thought)میں پنہاں ہے اور یہ اِس پانی کی طرح ہے جو لطیف (ہلکا) ہو جائے تو عرش (آسمانوں) کا رُخ کرتا ہے اور اگر بے قابو ہو جائے تو تباہی و بربادی (خون خرابہ) کا باعث بنتا ہے اور اگر کسی جگہ رُک جائے تو بے چینی (Tension) اور ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key) بھی اِسی خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔<br />
یہ معاملہ کچھ بھی عجیب نہیں یہ سب کچھ ہمارے لیے بنا ہے کیونکہ ہم اِس کارخانہ قدرت کے شاہکار ہیں اِس کائنات کی تمام مخلوق ہمارے لیے سربستہ ہاتھ باندھے (مسخر ہونے کو) کھڑی ہے کہ جیسے الہ دین کے چراغ والا جن اپنے آقا کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے اور اس کے کسی بھی حکم کو بجا لانے کیلئے تیار ہے۔ مگر ہمارے اندر اِتنی سکت کہاں کہ ہم اِس ”جن“ کو قابو میں کر لیں۔ اِن تمام طاقتوں پہ حاوی ہونے کی کنجی (Key) کسی بھی جن یا دیو کے پاس نہیں بلکہ ایک اِنسان کی دسترس میں ہے جو ”لذت آشنائی“ سے سرشار ہے۔ قدرت نے تمام کی تمام کائنات ہمارے تسخیر کرنے کیلئے بنائی ہے مگر ہم لذت کے جھوٹے اور چھوٹے چھوٹے کھلونوں سے دل بہلا رہے ہیں۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-sufism/%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قوتِ خیال</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 13 Jan 2012 05:01:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان | Youth]]></category>
		<category><![CDATA[پراسرارعلوم | mystery]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[حال]]></category>
		<category><![CDATA[حسن]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[صرف]]></category>
		<category><![CDATA[عقل]]></category>
		<category><![CDATA[علوم]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<category><![CDATA[مراقبہ]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم]]></category>
		<category><![CDATA[ممکن]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل]]></category>
		<category><![CDATA[پاک]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=398</guid>
		<description><![CDATA[قوتِ خیال ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/' addthis:title='قوتِ خیال '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue; direction: rtl;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;"> قوتِ خیال<br />
</span></span></strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: center; color: red; font-size: 20px; font-family: Alvi Nastaleeq; text-decoration: blink;"><strong>ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں </strong></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkred;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟ </span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 20px;"> درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے &#8220;الہ دین کے جن&#8221; کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے </span></span></p>
<p style="text-align: right; font-size: 20px; color: darkblue; line-height: 1.5;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><strong><strong><strong><strong>تحریر:محمدالطاف گوہر</strong></strong></strong></strong></span></p>
<p style="line-height: 1.5; direction: rtl; text-align: justify;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;"> قدرت ہمیں معاملاتِ زندگی میں سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے گرچہ ہم جتنا مرضی جمود میں رہنے کی کوشش کریں۔ ہر مثبت اور صحیح سوچ رکھنے والا شخص نہ صرف معاملاتِ زندگی میں پرجوش اور متحرک (Dynamic)ہے بلکہ اپنی ترقی، کامرانی اور ذہنی پیش رفت کو بھی قدرتی انداز میں رکھنا پسند کرتا ہے جبکہ پیش رفت صرف اور صرف تصورات، خیالات، عوامل اور حالاتِ زندگی کی بہتری کے مرہون منت ہے جو کہ نتیجتاً ظاہر ہوتے ہیں۔ لہٰذا تخیل (خیالThought) کے تخلیقی مراحل کا مطالعہ اور ان کا زندگی کے اعلیٰ مقاصد کا استعمال ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خیالات (دقیق تا ارفع Alpha and the Omega) کا ابجد (Alphabet)بنانے کے لیے الہامی اور فلسفیانہ ذرائع ہمارے لیے عظیم سچائی (حقیقت) تک رسائی کا موجب بنتے ہیں جبکہ انسانیت اِس اکیسویں صدی میں بڑے زور و شور سے ”حقیقت کی تلاش“ میں ہر وہ راستہ افشاں کرنے پر تُلی ہوئی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے اس تک پہنچنے کا موجب بنے۔ خیال کے بارے میں علم وہ طریقہ کار واضح کرتا ہے جس کے باعث انسانی زندگی کے ارتقائی اور تسلسل کے عمل میں بلندی اور تیزی آتی ہے۔<br />
ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں<br />
جب انسانی سوچ کسی بند گلی میں جا کررک جاتی ہے اور کوئی راستہ نہےں ملتا تو انجام خاتمہ! علم ہی انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے یہ انسانی شرف ومعراج صرف علم کی وجہ سے ہے۔ علم کی روشنی جہاں آجائے وہاں تاریکی ختم ہو جاتی ہے ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟ علم کی بہت سی شاخیں ہیں جو انسان کی زندگی میں عروج و ترقی کا باعث بنتی ہیں،اگر اچھا کاروبار کرنا ایک فن ہے تو اچھا لکھنا اور اچھا بولنا بھی ایک فن ہے اسی طرح اگر تعلیم و تر بیت میں شاندار کامیابی بھی ایک فن ہے تو اچھا کھیلنا بھی ایک فن ہے ۔اب اگر ہم زندگی کے سارے علم و فنون کو حاصل کر لیں جو کامیابی و کامرانی کی طرف لے جاتے ہیں مگر زندہ رہنے کا فن نہ سیکھیں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟<br />
تخیل ہمارے لیے بہتے پانی کی مانند ہے اگر حدوں میں رہے تو لازوال طاقت ہے اور اگر حدوں کو توڑ دے تو طوفان جبکہ یہ طوفان ناقابل تسخیر معلوم ہوتا ہے لیکن اگر آپ اس کا راستہ تبدیل کرنے کا طریقہ جانتے ہیں تو آپ اس کا رُخ موڑ سکتے ہیں اور اس کو کارخانوں میں لے جا کر وہاں اس کی قوت کو حرکت، حرارت اور بجلی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ آپ تخیل (خیال) کو گھر بیٹھا دیوانہ بھی کہہ سکتے ہیں یا پھر بے سدھ گھوڑے سے بھی وابستہ کر سکتے ہیں جس کی نہ لگام اور ہی باگیں، ایسی صورت میں سوار اس کے رحم و کرم پہ ہے کہ جہاں وہ چاہے اس کو کسی کھائی میں گِرا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے لیکن اگر سوار گھوڑے کو لگام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اب یہ گھوڑا (تخیل) اپنی مرضی سے کہیں نہیں جاتا بلکہ سوار جہاں چاہے گھوڑے کو وہاں لے جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔<br />
مائنڈ سائنس (Mind Science)اکیسویں صدی کی اختراع ہے جبکہ تخیل (Thought)کو اب ایک بالیدہ شعور سے پالا پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہر خیال آپ سے پوچھ کے آپ کے پردہ اسکرین پر ظاہر ہو گا اور یہی انسانی ذہن کا کمال ہے کہ وہ اپنے تخیل پے حکمرانی کرے ۔ حقیقت شناس زاویہ (Face to Face) ہمیں میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے اِس زاویہ کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تمام دوسرے غلط زاویوں کی نفی کرنا ہو گی۔ اپنے اندر کے کھیت میں ہل چلانا ہو گا اور اپنے ذہن کی زمین (Hard Disk)کو تیارکرنا ہو گا کیونکہ جب بھی کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے تو پہلے اِسکی بنیادیں کھودی جاتیں ہیں اور ہر نئی فصل اُگانے کیلئے ہل چلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھیں تو حقیقت کے چشمے سے سیراب ہونے کیلئے ”لا“ (No) یعنی نفی اور ہر شے سے انکار (Reset) کرنا تو ازل سے سلامتی کے مذاہب کی اساس رہی ہے کیونکہ تمام خود رو جنگلات چاہے کتنے ہی بھلے معلوم کیوں نہ ہوں مگر اصل حسن تو اِن باغات میں ہے جو اِنسان نے زمین پہ محنت کر کے اُگائے ہیں جیسے پانی اپنی حدوں سے باہر نکل جائے تو سیلاب بن جاتا ہے اِسی طرح ہمارے اندر کی لامحدود طاقت اِنسان کو درندہ بھی بنا سکتی ہے اور یہ معصوم صورت درندہ زندگیوں کیلئے فنا بن جاتا ہے۔ اِنسان کے اندر (ذہن) کی طاقت صرف اور صرف ”خیال“ (Thought)میں پنہاں ہے اور یہ اِس پانی کی طرح ہے جو لطیف (ہلکا) ہو جائے تو عرش (آسمانوں) کا رُخ کرتا ہے اور اگر بے قابو ہو جائے تو تباہی و بربادی (خون خرابہ) کا باعث بنتا ہے اور اگر کسی جگہ رُک جائے تو بے چینی (Tension) اور ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key) بھی اِسی خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔ درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے جن کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے جبکہ انسانی ذہن کے پردہ سکرین پہ جو اداکار اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ صرف ہمارے خیالات (تخیل) ہیں اور انکو اپنی مرضی کے مطابق کردار ادا کرنے کا پابند کرنے میں ہی آپ کی لازوال طاقت پنہاں ہے مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ آپ اپنے بارے میں مکمل معلومات نہ رکھتے ہوں۔<br />
اگر ایک طرف مراقبہ کے عمل سے تخیل منظم (Organized)شفاف (Refined) ہوتا ہے اور تقویت (Amplify)پکڑتا ہے تو دوسری طرف (اس عمل سے پیشتر )ذہن کو اس تمام آلودگی اور بے سرو سامانی کے ماحول سے پاک کرنا بھی ضروری ہے تا کہ زمینِ ذہن پہ اُگی ہوئی تمام جڑی بوٹیاں (بے لگام خیالات) سورج کی روشنی میں خود بخود فنا ہو جائیں۔ جیسے آپ نیا کمپیوٹر تیار کر رہے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک ہارڈ ڈسک (Hard Disk) کو تیار (Format)کرتے ہیں تا کہ وہ کسی بھی نئے پروگرام کو ذخیرہ (Save) کرنے کے قابل ہو جائے اور پھر سب سے پہلے Operating System )قاعدہ و قانون)کا پروگرام انسٹال کرتے ہیں تا کہ اِس میں Application پروگراموں کو چلانے کی قابلیت ہو جائے۔ تحلیل نفسی (Psychotherapy)بھی اِسی عمل کا تسلسل ہے یا پھر محاسبہ ذات بھی یہی طریقہ کار وضع کرتا ہے جبکہ توبہ (Repent) بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جو نہ صرف گناہوں کی دھلائی کا کام کرتا ہے بلکہ انسانی ذہن کی غلاظتوں کا بھی قلع قمع کرتا ہے اور کبھی کبھی Confession (اقرار گناہ)اور آزاد گوئی (Free Speaking)کے ثمرات بھی کسی طرح بھی اِس معاملہ میں پیچھے نہیں۔<br />
جاری۔۔۔ </span></span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d9%be%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-mystery/%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%d8%b0%d8%aa%d9%90-%d8%a2%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی</title>
		<link>http://www.urdusky.com/%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%aa-worship/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86%d9%b0%db%8c-2.html/</link>
		<comments>http://www.urdusky.com/%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%aa-worship/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86%d9%b0%db%8c-2.html/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Jan 2012 17:01:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[عبادات | Worship]]></category>
		<category><![CDATA[مائنڈ سائنس | Mind Sciences]]></category>
		<category><![CDATA[99 allah]]></category>
		<category><![CDATA[99 allah names mp3]]></category>
		<category><![CDATA[99 asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[99 names]]></category>
		<category><![CDATA[99 names of]]></category>
		<category><![CDATA[99 names of allah]]></category>
		<category><![CDATA[99 of allah]]></category>
		<category><![CDATA[all of the names of god]]></category>
		<category><![CDATA[allah 99 names mp3]]></category>
		<category><![CDATA[allah names meaning in urdu]]></category>
		<category><![CDATA[allah names mp3]]></category>
		<category><![CDATA[asma allah]]></category>
		<category><![CDATA[asma allah husna]]></category>
		<category><![CDATA[asma husna]]></category>
		<category><![CDATA[asma husna mp3]]></category>
		<category><![CDATA[asma name meaning]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna 99 names of allah]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna arabic]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna dan artinya]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna download]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna in arabic]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna lirik]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna lyrics]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna mp3]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna mp3 download]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna video]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna with meaning]]></category>
		<category><![CDATA[asma ul husna with urdu meaning]]></category>
		<category><![CDATA[asmaulhusna]]></category>
		<category><![CDATA[beautiful names]]></category>
		<category><![CDATA[beautiful names of allah]]></category>
		<category><![CDATA[download asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[download asma ul husna mp3]]></category>
		<category><![CDATA[download names of allah]]></category>
		<category><![CDATA[lagu asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[meaning of names of god]]></category>
		<category><![CDATA[mp3 asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[name of allah download]]></category>
		<category><![CDATA[name of allah in urdu]]></category>
		<category><![CDATA[name of allah mp3]]></category>
		<category><![CDATA[name of god in arabic]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah arabic]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah download]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah in arabic]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah in english]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah in urdu]]></category>
		<category><![CDATA[names of allah mp3]]></category>
		<category><![CDATA[names of god]]></category>
		<category><![CDATA[names of god and meanings]]></category>
		<category><![CDATA[names of god in arabic]]></category>
		<category><![CDATA[names of god meanings]]></category>
		<category><![CDATA[names of the quran]]></category>
		<category><![CDATA[the beautiful names of allah]]></category>
		<category><![CDATA[zikir asma ul husna]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://altafgohar.wordpress.com/?p=296</guid>
		<description><![CDATA[مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی عظیم راز جو آشکار ہونے کو ہے تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر راز جو از لوں سے پنہاں رہا اور ہر دور کے دانشور اسکی تلاش میں سر... <a class="meta-more" href="http://www.urdusky.com/%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%aa-worship/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86%d9%b0%db%8c-2.html/">Read more <span class="meta-nav">�</span></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="addthis_toolbox addthis_default_style " addthis:url='http://www.urdusky.com/%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%aa-worship/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86%d9%b0%db%8c-2.html/' addthis:title='مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی '  ><a class="addthis_button_facebook_like" fb:like:layout="button_count"></a><a class="addthis_button_tweet"></a><a class="addthis_button_google_plusone" g:plusone:size="medium"></a><a class="addthis_counter addthis_pill_style"></a></div><p style="text-align: center; color: blue;"><strong><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: 30px;">مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی</span></span></strong></p>
<p style="text-align: center; font-size: 22px; color: red; text-decoration: blink;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"> عظیم راز جو آشکار ہونے کو ہے</span></p>
<p style="text-align: right;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large; color: green;">تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر</span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; text-align: justify; direction: rtl; color: darkblue;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;">راز جو از لوں سے پنہاں رہا اور ہر دور کے دانشور اسکی تلاش میں سر گرداں رہے مگر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے والے بہت کم لوگ ہوئے۔ وہ راز اگر کسی دنیا کے متلاشی نے حاصل کیا تو اس کو دفن کر گیا ، کسی نے اس کی حرص کی اور کوئی اس پر طاقت سے غلبہ پانے کا خواہشمند رہا اور وہ سربستہ راز صدیوں سے عالم انسانیت کیلئے موضوع تجسس بنا رہا۔ اس کو پانے کی تگ و دو میں انسان نے نہ جانے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائیں مگر ماسوائے چند ایک خوش نصیبوں کے کسی پہ بھی آشکارہ نہ ہو سکا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس راز کے کرشمے اکثر انسانی زندگی کا حصہ بنتے رہے مگر انسان آج تک اس گتھی کو سلجھا نہ پایا۔ اس تگ و دو میں نہ جانے کتنی زندگیاں صرف ہوئیں ؟<br />
اگر کسی کوا سکا ادراک ناآشنائی کے دور میں ہوا تو وہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو گیا اور کوئی نظارہء جاناں سمجھ بیٹھا مگر آشنائی کی لذت کا کیا کہنا جسکی منزل بھی واضع اور سفر بھی خوب کہ ہر شے کی حقیقت کی سوجھ بوجھ بھی آسان ، اس پہ آشکارہ ہوا تو اس نے دلوں پر بلکہ زندگیوں پر حکومت کا سماں باندھ دیا اور باقی خالی ہاتھ رہ گئے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس حقیقت کا اظہار ازل سے ادیان سلامتی کرتے آئے ہیں مگر انکو اہمیت دینا اور زندگیوں میں شامل کرنا تو کجا ، بند اک مقدس طاق میں رکھ دیا اور کھول کر سمجھنا گوارہ نہ کیا <img class="alignleft size-medium wp-image-15689" title="asma ul husna" src="http://www.urdusky.com/wp-content/uploads/2012/01/316.1230245436.99names-1-207x300.jpg" alt="asma ul husna" width="207" height="300" />گیا۔ اس راز کو سمجھنا ہی اس کے آشکار ہونے کیلئے کافی ہے۔ اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ جسکی منزل اسکے بھاگنے والے خود کو بھی معلوم نہیں کیا ہے؟ اگر اسے سستانے کے کچھ لمحے ملیں تو کسی اور طرف بھی توجہ دے۔ اس حقیقت سے نا آشنا لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کے سانپوں میں گھرے رہے ، کبھی صبح ڈ سے جاتے اور کبھی شام کو مگر پھر بھی نہیں سمجھ سکے۔<br />
اب جبکہ سائنسی انکشافات نے ذہن کے بند دریچے کھولنے شروع کر دیئے اور ذہنی پستی کی آنکھیں چکا چوند کر دیں مگر عقل سے عاری پھر بھی اپنی زندگی کے راستے متعین کرنے سے قاصر رہے۔ کوانٹم فزکس ،میٹا فزکس اور روحانیت کے موضوعات اب قلا بیں ملانی شروع کر چکے کیونکہ سچائی از لوں سے ایک ہے ، ہر سچائی کے متلاشی کی منزل ایک ہوتی ہے مگر اصل راستہ تو وہی اچھا ہے جو کم از کم وقت میں طے ہو؟<br />
آج کا دور پتھروں کا دور نہیں مگر پھر بھی کچھ پتھر موجود ہیں جو سچائی سمجھنا نہیں چاہتے ، ایک انسان کی نظر اب محدود نہیں رہی بلکہ لا محدود ہے حتی کہ وہ گھر بیٹھے نہ صرف اس کی رسائی کرہء ارض تک محیط ہے بلکہ کہکشاؤں کی خبر رکھتا ہے اور سارے یہ کمالات اس کی دسترس میں ہیں علم نافع سے فیض یاب ہے ۔ انسانی کمالات کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس نے قوانین قدرت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اپنی سوچوں کی نہج کو ان سے ہمکنار بھی کیا اور انسانیت کیلئے عظیم راہنما اور محسن ثابت ہوئے۔ اگر آج ہم کسی تپتی اور آگ برساتی دھوپ میں ایک راحتوں ، سہولتوں سے بھرے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہیں تو کس کے باعث؟ آج اگر ہم صدیوں پر محیط فاصلے چند گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں تو کیسے؟ آج اگر اذیت میں مبتلا کوئی فرد اپنی تکلیف سے بچ کر صحت کیطرف لوٹتا ہے تو کیسے؟ اس مسیحائی کا صلہ کس کیلئے؟<br />
آئیے آج اس راز عظیم کے گل فشانیوں سے پردہ اٹھائیں اور زندگیوں کو اس لذت آشنائی کی مہک سے لبریز کر دیں۔ اس پنہاں راز کو آشکار کرنے میں لاتعداد انسانی زندگیاں صرف ہو گئیں مگر کبھی تو معمولات زندگی نے اسے نظروں سے اوجھل رکھا اور کبھی تفکرات بے معنی اس پر چھائے رہے۔ یہ ایسا راز ہے کہ اسکا افشاں ہونا انسانی زندگی میں ایک نئی کھڑکی ، ایک نیا چینل کھلنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بیج ہے اگر انسانی ذہن میں بو دیا جائے تو کائنات کی تمام خوبصورتیاں اور کامیابیاں ہاتھ باندھے استقبال کیلئے کھڑی ہوں۔<br />
ایک طرف اگر انسانیت اذیت کے دور سے گزر رہی ہے اور تو دوسری طرف کچھ لوگ سکون کی لذتوں سے مالامال بھی ہیں، جنکو اپنی حاصل کی ہوئی دولت کو انسانیت کی خدمت کیلئے پیش کر دینا چائیے، اور یہی طریقہ ہے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے شکر اد کرنے کا کہ دوسروں کو بھی ان میں شامل کرے۔ ورنہ اکثر اوقات حقیقت کے متلاشی اپنی کم علمی کے باعث مافیا کی بھینٹ چڑھ جاتے جو از لوں سے انسانیت کا دشمن اور شیطانیت کا دوست رہا ہے اور ایک ایسے راستے پہ چلا دیتا ہے جسکی منزل سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں۔ میری تحریروں کے موضوعات بھی زیادہ تر ایسی کٹھن راہوں پہ چراغ جلانے کی ایک کو شش ہے۔<br />
ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور اس چنگل میں پھانسنا ہے جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو ایسے گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں اور اپنے قیمتی آنسو کسی فضولیت کی راہ میں بہا تے ہیں۔ ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کا خوبصورت جواز بناتے ہوئے اسے شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ا نکے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیا سے کم نہیں۔ آئیے ایک ایسی لذت سے آشکار ہوں جو صدیوں پر محیط ہے۔ بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنار ہونے کیلئے اپنے ذہن کے دریچے کھول دیں اور اپنی توانائیاں خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے اپنی راہوں کو روشنی کے قمقموں سیراب کر لیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں۔ اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکو پچھاڑ دیں کی کبھی بھولے سے بھی ان راہوں کی مسافر نہ بنے۔ پوری طرح متوجہ ہوں اور چند لمحوں کیلئے زندگی کی دوڑ کو ٹھہرا دیں کہ اک مقام آگاہی کا گزر ہے اور سیراب ہونا ہے۔ اگر کہیں بے خبری سے گزر گئے تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔ جی!!! اچھی طرح سے سمجھیں اور ذہن میں نقش کر لیں کہ ہم روزانہ جانتے نا جانتے ہوئے کسی بھی کمپیوٹر کی طرح پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور ہر وہ بات جو سمجھ آجائے وہ ذہن انسانی کا حصہ بن جاتی ہے ا ور یہی وہ لمحے ہیں جو محفوظ ہو رہے ہوتے ہیں جبکہ اکثر ہم اس سے نا آشنا رہتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ہمارے ذہن کونسے قانون اور قاعدے کے تحت یہ اثرات قبول کرتے ہیں یا پروگرام ہوتے ہیں ؟ تو اسکا جواب ہے ہمارے عقائد اور یقین ہیں جنکے بل بوتے ہمارے ذہن تیار ہوتے ہیں یعنی جو کچھ ہم اخذ کرتے ہیں اسکا دارومدار ان پہ ہوتا ہے۔ مگر آج آپکو ایک نئے زاویئے سے اس پہلو سے آشنا کرتا ہوں۔ وہ پہلو کہ جسے آج جدید سائنس کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے ، جسے زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار لوگوں کی زندگی پہ لکھے گئے حالات میں سے بھی تلاش کیا جا رہا ہے ،جسے صرف خواص کے سوچنے کے انداز میں بھی تلاش کیا جا رہا ہے ، کتابوں پہ کتابیں لکھی جا رہی ہیں مگر اسکی بھول بلیاں کبھی کبھی شعوریت کے دائرے میں محدود رہتی ہیں۔<br />
اس فطرت کا حسین شہکار اور راز جو آشکار ہونے کو ہے ، وہ ہے قدرت کا قانون جاذبیت، قانون کشش، قانون مقناطیسیت، جس کا عمل دخل نہ صرف انسانی زندگی کے ہر لمحہ پر محیط ہے بلکہ اس کائنات کے کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہو ا ہے۔ ہمارے ذہن جو کچھ ہمارے لئے محفوظ کرتے رہتے ہیں ہماری زندگی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ یعنی ہم اپنی زندگی کو یا تو کامیابیوں کے راستے پہ ڈالتے ہیں یا پھر ناکامیوں کے جو صر ف اسی کے باعث ہے جو ہم پہلے سے ہی ذہن کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔یعنی ہمارے ذہن میں بسے رہنے والے وہ خیالات جو ہم فراموش نہیں کر سکتے وہی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہماری زندگی کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ قدرت کا قانون کشش اس طرح سے کام کرتا ہے جیسے بہتے پانی کو معلوم ہے کہ بلندی سے نیچے کیطرف بہنا ہے ، جیسے سیب کی بیج کو معلوم ہے کہ میرے ساتھ آم نہیں لگ سکتا۔ آج اگر آپ کو یہ راز معلوم ہوگیا تو یقین جانے زندگی کسی سایہ دار درخت کی گھنی چھاوں میں آجائے گی۔ ہماری انفراد ی زندگیاں اکثر مسائل میں الجھی رہتی ہیں اور ہم سمجھ نہیں پاتے کہ الجھنیں سلجھ کیوں نہیں رہیں ، اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ مسائل اور پریشانیوں کا حل کس طرح سے ہو سکتا ہے تو یقیناً ہم لذت بیکراں سے ہمکنار ہو جائیں گے۔ کوشش کروں گا کہ ان کیفیتوں کو الفاظ کے احاطہ میں لے آؤں جن کے باعث زندگی قرار پائے۔ آج دنیا کے بہت سے خطوں میں انتہائی خاص اور مہنگے سیمینار میں اگر شمولیت کا موقع ملے تو پتہ چلے گا کہ اس قانون قدرت کو کس طرح سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں، اگر دولت مند ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر ذہن کا دولت مندی کا تھرمو سٹیٹ بحال کریں اور اسکو سو درجہ پر لیجائیں۔ اگر لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو اپنے اندر محبت کا بیج بو دیں کیونکہ اندر کے خیالات کسی بھی مقناطیس کی خصوصیت سے کم نہیں۔ ہماری زندگیوں کے راستے ہمارے ذہن میں بیٹھے ہوئے خیالات کے مرہون منت ہیں ، جیسی سوچ ہوگی ویسے ہی حالات سے واسطہ رہے گا۔ اور اگر کوئی اپنے اندر نفرت ، کدورت ، کینہ اور لالچ پالے ہوئے ہے تو کیا خیال ہے اسکے اثرات بدل سکتے ہیں؟ اور پھر شکوہ کریں کہ ہماری قسمت ہی ایسی تو کیا خیال ہے کی ہم صحیح کہ رہے ہیں ؟ مائنڈ سائنس کی تحقیقات اور طریقہ کار میں جو عوامل شامل ہیں ان میں بھی اس بات کو اہمیت حاصل ہے کہ انسانی ذہن ایک مقناطیس کیطرح سے کا م کرتا ہے اور ہر وہ شے اپنی طرف کھینچتا ہے جس کا عکس پہلے سے ہی اس کے اندر موجود ہو۔ لہذا آپ پہلے اس سے آگاہ ہوں کہ آپ کے ذہن میں کونسی ہنڈیا پکتی رہتی ہے کیونکہ اسی کا آپ نے پکا کھانا ہے !!!!<br />
ایک چھوٹی سی مشق حاضر ہے جو پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ کر دے گی اور صرف چند لمحوں میں حقیقت کھل جائے گی مگر کچھ نئی حقیقتوں سے بھی آشکار کر دے گی کہ اس وقت آپ کس ڈگر پہ چل رہے ہیں ، آیا اپنے لئیے خوشیاں اکٹھی کر رہے ہیں یا پھر مسائل بڑھا رہے ہیں۔۔۔<br />
ایک کاغذ لیکر اس کے درمیاں میں ایک متوازی، عمودی لکیر کھینچیں اب دو کالم کے اس کاغذ پر دائیں طرف وہ کچھ لکھیں جو آپکو نا پسند ہو ، ناپسند خیالات ، ناپسند باتیں جن سے آپ اپنی زندگی کو دور رکھا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح بائیں کالم میں وہ باتیں ، خیالات جو آپ کو پسند ہیں اور آپ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ لکھنے کے بعد دیانت داری سے موازنہ کریں کہ سارا دن ، یا عمومی طور پر، یا غیر ارادی طور پر کونسی باتیں، خیالات آپکے ذہن پر محیط رہتے ہیں؟<br />
اب موازنہ کریں کہ قدرت کا کشش کا قانون ہماری زندگیوں پہ کسطرح سے محیط ہے ؟ اگر ہم ہر وقت وہ باتیں اور خیالات اپنے ذہن پہ طاری رکھتے ہیں جن کو ہم اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہا پھر نا چاہتے ہوئے ان میں الجھے رہتے ہیں تو کسطرح ممکن ہے کہ ہم اپنے لئے خوشحالی، صحت اور سکون تلاش کر سکیں جو کہ ہمارے پاس آنے کیلئے ایک طریقہ کار سے وضع ہو چکا؟<br />
یعنی جیسی سوچ و فکر میں مگن ہونگے ویسے ہی حالات سے پالا پڑے گا، لہذا آ پنے آپ کو محبت ، ہمدردی ، الفتوں اور مثبت سوچوں سے سیراب کر دیں تاکہ وہی کچھ ہمیں زندگی واپس لوٹا سکے ۔ یہی وہ بیج ہیں جو اپنا پھل دئے بغیر رہ نہیں سکتے ۔ جائیے اور کسی بھی چمن کی راہ لیں اور ذرا دیدہ دل وا کریں اور چمن کا نظارہ بھی جو قدرت کے اس شہکار کا شاندار نظارہ پیش کر رہا ہے ۔ ایک ہی جیسی زمین پر ایک ہی جیسے ماحول میں کہیں گلاب ہے تو کہیں نرگس اور کہیں موتیا، اور کہیں آم ، اور کہیں سیب اس بات کی گواہی سے رہے ہیں کہ ہم تو صرف اک اظہار ہیں اپنے اس بیج کا جو اس زمیں میں بویا گیا ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ گلاب کے ساتھ نرگس لگے اور موتیے کے ساتھ سورج مکھی ، تو ہم کس راہ کی تلاش میں ہیں۔</span></span></p>
<p style="line-height: 1.5; text-align: justify; direction: rtl; color: darkgreen;"><span style="font-family: Alvi Nastaleeq;"><span style="font-size: large;"> آج اگر کوانٹم فزکس ، میٹا فزکس شعوریت کی جھل ملوں میں کامیابی، صحت اور سکون تلاش کرنے میں سرگرداں ہو کر آشکار کرتی ہے کہ انسان جس سوچ کو ذہن میں بٹھا کر زندگی کی تگ و دو کرے گا نتیجہ میں وہی حاصل ہوگا جس سوچ کا بیج بو چکا ہوگا ، تو اللہ کی رحمت اور مہربانی کا اندازہ کریں کہ اس نے ہمیں سوچنے کے انتہائی اعلی رستے بتا دئے۔درحقیقت تمام توانائیوں ، کامیابیوں ، صحت اور سکون کا مرکز صرف اللہ کی ذات ہے ، وہیں سے ہر شے کی بازگشت آتی ہے۔ جبکہ اللہ نے اپنے بہت سے خوبصورت نام بھی بتائے ہیں یعنی اس ذات تک رسائی کیلئے اسکے پہلو ، اب اگر ایک انسان محبت کے چینل کو اپنے لئیے کھولنا چاہتا ہے تو &#8221; <strong>الودود</strong>&#8221; کے چینل سے اپنا ناطہ جوڑ لے ، اور اگر صحت و سلامتی کا متلاشی ہے تو اسکے لئے &#8221; <strong>السلام</strong> &#8221; کا راستہ اپنا لے۔ سبحان اللہ!!! یعنی ایک مرکز سے فیض یاب ہونے کے مختلف زاویئے بتائے ہیں پھر ایک بار اللہ کا شکر ادا کریں جو &#8220;<strong> الرزاق</strong>&#8221; بھی ہے &#8221; <strong>التواب</strong> &#8221; بھی ہے اور &#8221; <strong>الرحمن</strong>&#8221; بھی۔<br />
آپکی آرا کا انتظار رہے گا<br />
info@altafgohar.com</span></span></p>
<p> <!-- ProPlayer by Isa Goksu --><div name="mediaspace" id="mediaspace"><div class="pro-player-container" width="550px" height="420px"><div id="pro-player-296pp-single-4fb71162e2052"></div></div></div><script type="text/javascript" charset="utf-8">var flashvars = {width: "550",height: "420",autostart: "false",repeat: "false",backcolor: "111111",frontcolor: "cccccc",lightcolor: "66cc00",stretching: "fill",enablejs: "true",mute: "false",skin: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/skins/default.swf",logo: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/watermark.png",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",plugins: "",javascriptid: "296pp-single-4fb71162e2052",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",file: 'http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/playlist-controller.php?pp_playlist_id=296pp-single-4fb71162e2052&sid=1337397603'};var params = {wmode: "transparent",allowfullscreen: "true",allowscriptaccess: "always",allownetworking: "all"};var attributes = {id: "obj-pro-player-296pp-single-4fb71162e2052",name: "obj-pro-player-296pp-single-4fb71162e2052"};swfobject.embedSWF("http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/player.swf", "pro-player-296pp-single-4fb71162e2052", "550", "420", "9.0.0", false, flashvars, params, attributes);</script></p>
<div> <!-- ProPlayer by Isa Goksu --><div name="mediaspace" id="mediaspace"><div class="pro-player-container" width="550px" height="420px"><div id="pro-player-296pp-single-4fb7116329c8e"></div></div></div><script type="text/javascript" charset="utf-8">var flashvars = {width: "550",height: "420",autostart: "false",repeat: "false",backcolor: "111111",frontcolor: "cccccc",lightcolor: "66cc00",stretching: "fill",enablejs: "true",mute: "false",skin: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/skins/default.swf",logo: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/watermark.png",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",plugins: "",javascriptid: "296pp-single-4fb7116329c8e",image: "http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/preview.png",file: 'http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/playlist-controller.php?pp_playlist_id=296pp-single-4fb7116329c8e&sid=1337397603'};var params = {wmode: "transparent",allowfullscreen: "true",allowscriptaccess: "always",allownetworking: "all"};var attributes = {id: "obj-pro-player-296pp-single-4fb7116329c8e",name: "obj-pro-player-296pp-single-4fb7116329c8e"};swfobject.embedSWF("http://www.urdusky.com/wp-content/plugins/proplayer/players/player.swf", "pro-player-296pp-single-4fb7116329c8e", "550", "420", "9.0.0", false, flashvars, params, attributes);</script></div>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdusky.com/%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%aa-worship/%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%da%88-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%b3%d9%86%d9%b0%db%8c-2.html/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

